ترکی کے جدید ڈرونزملنے کی صورت پاکستان کو کشمیر کی جنگ میں برتری حاصل ہو جائے گی،ہندوستانی دفاعی ماہرین
No image نئی دہلی( کشیر رپورٹ)آذربائیجان اور آرمینیا کی حالیہ جنگ میں ترکی کے جدید ڈرونز نے آرمینیا کی فوجی کو بھاری نقصان پہنچاتے ہوئے آذر بائیجان کی فتح میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ ہندوستان میں اس بات پہ تشویش کا اظہار ہو رہا ہے کہ اگر ترکی یہ جدید ڈرون پاکستان کو فراہم کرتا ہے تو اس صورت پاکستان کو کشمیر کی جنگ میں نمایاں برتری حاصل ہو جائے گی اور اس سے ہندوستان کو کشمیر میں وسیع پیمانے پر بڑے فوجی نقصانات کے خطرات ہیں۔ترکی کے تیار کردہ ڈرون ' بیرر کٹر ٹی بی2' 55 کلو وزنی بم لیجانے کی صلاحیت کے حامل ہیں اور ان ڈرونز کے ذریعے آرمینیا کے ٹینکوں، میزائیل و توپ خانے کی بیٹریوں اور دیگر فوجی ہتھیاروں کو بڑے پیمانے پر تباہ کیا گیا اور ترکی کے اس ڈرون نے آرمینیا کی شکست میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔
ہندوستان کے دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ آذربائیجان کی فتح میں ترکی کے ڈرون کا بنیادی کردار ہے اور ترکی کے یہ ڈرونز جنگ کا پانسہ پلٹنے کی صلاحیت کے حامل ہیں۔ترکی کے یہ ڈرون مہنگے ہیں تاہم مخالف کی میزائیل و توپ خانے کی بیٹریوں اور دفاعی راڈار کے لئے بھی مہلک خطرہ ہیں۔نگاروکاراباخ کی جنگ میں ترکی کے ان ڈرونز نے آرمینیا کے کم سے کم 185 ٹینک،45 بکتر بند گاڑیاں،44 پیادہ لڑاکا گاڑیاں ،147 ٹیوڈ توپ توپیں،19 آٹو میٹک توپ خانے،72 کشیر المقاصد راکٹ لانچر اور 12ریڈار تباہ کئے۔اس کے علاوہ ترک ڈرونز نے آرمینیا کے ڈرونز کو بھی تباہ کیا ۔
ہندوستانی دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ترکی کے یہ ڈرونز ہندوستان کے لئے بڑا خطرہ ہیں کیونکہ اگر ترکی انہیں پاکستان کو فراہم کرتا ہے تو پاکستان کو کشمیر کی جنگ میں ہندوستان کے خلاف نمایاں برتری حاصل ہو جائے گی۔ان ترک ڈرونز نے آرمینیا کے میزائیل سسٹم بھی تباہ کر دیئے۔یہ بہت خوفناک ہے کہ جنگی ہتھیاروں کو استعمال کرنے والوں کو معلوم ہی نہ ہو کہ کوئی ڈرون کس وقت ان پر حملہ آور ہو گا۔
ہندوستانی دفاعی ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ ترکی کے یہ ڈرونز ترکی نے خود ڈیزائین کئے ہیں اور امریکہ اور نیٹو نے ترکی پر پابندی عائید کی ہے کہ وہ ان ڈرونز کو فروخت نہ کرے لیکن ترکی ان پابندیوں کو خاطر میں نہیں لا رہا، ہندوستان کے لئے ترکی کے یہ ڈرونزحقیقی خطرہ ہیں۔ ہندوستانی دفاعی ماہرین یہ امکان بھی ظاہر کر رہے ہیں کہ ترکی اور پاکستان اب بہت قریبی اتحادی ہیں تاہم ترکی پاکستان کو یہ ڈرونز مفت نہیں دے گا اور پاکستان کو اپنی معاشی خرابی کی وجہ سے ان کی خریداری میں مشکلات ہو سکتی ہیں،تاہم اس کے باوجود ہندوستان یہ سمجھتا ہے کہ ترکی یہ ڈرونز پاکستان کو مہیا کر سکتا ہے۔
واپس کریں