امریکہ چند ہفتوں میں چین کے خلاف ہند بحرالکاہل میں نیا بحری بیڑہ مستقل متعین کرے گا
No image نیو یارک۔امریکہ نے ہند بحرالکاہل میں تعیناتی کے لئے ایک نیا بحری بیڑہ قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔1973میں ختم کئے گئے ' یو ایس فرسٹ فلیٹ' کی دوبارہ تشکیل دی جا رہی ہے۔امریکہ کا ایہ اقدام انڈیا کے ساتھ مل کر چین کے خلاف سمندری علاقے میں مستقل موجودگی قائم کرنا ہے۔امریکی بحریہ کے سیکرٹری کینتھ بریتھویٹ نے نیول سب میرین لیگ کے سالانہ سمپوزیم میں خطاب کرتے ہوئے امریکی بحریہ میں ایک نئے بحری بیڑے کی تشکیل کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہآئندہ چند ہی ہفتوں میں ہندوستانی بحرالکاہل کے سمندروں کے درمیان اس نئے بحری بیڑے کو متعین کر دیا جائے گا،یہ ایک بڑے بیڑے کی کمانڈ میں ہو گا،ا س میں مختلف ٹاسک فورسز،مختلف نوعیت کے اہداف کے لئے مختلف گروپس بھی متعین ہو ں گے۔امریکی بحری کے اعلی عہدیدار نے کہا کہ ہم جاپان کے قریب متعین ساتویں بحری بیٹرے پہ انحصار نہیں کر سکتے۔اسے سنگا پور،ہندوستان کی معاونت بھی حاصل ہو گی۔انہوں نے کہا کہ صرف امریکہ چین کا مقابلہ نہیںکر سکتا اس لئے سب ممالک کو فوجی اور معاشی طور پر مل کر چین کا مقابلہ کرنا چاہئے۔یہ بحری بیڑہ چین کی طرف سے نقصان پہنچانے کی صورتحال کے حوالے سے ہو گا۔ کینتھ بریتھویٹ آئندہ چند ہفتوں میں انڈیا کے دورہ بھی کرنے والے ہیں۔
دنیا کا سب سے بڑا بیڑہ کمانڈ ، یو ایس پیسیفک بیڑے US-INDOPACIFIC کمانڈ کے تحت آتا ہے۔ اس میں انٹارکٹیکا سے لے کر آرکٹک سرکل تک اور ریاستہائے متحدہ کے مغربی ساحل سے لے کر بحر ہند تک ، تقریبا million زمین کی آدھی سطح ، تقریبا million ایک سو ملین مربع میل پر محیط ہے۔امریکی بحر الکاہل کے بیڑے میں تقریبا 200 بحری جہاز، 200سب میرین ، تقریبا 1200 طیارے ، اور 13 لاکھ سے زیادہ بحری فوجی اور شہری شامل ہیں۔اس میں ساتویں بیڑے اور تیسرے بیڑے اس کے تحت چل رہے ہیں۔ 7 واں فلیٹ جاپان سے باہر چلتا ہے اور بین الاقوامی تاریخ لائن سے لے کر ہندوستان پاکستان سرحد تک کے علاقوں کو شامل کرتا ہے۔تیسرا فلیٹ سان ڈیاگو سے باہر چلتا ہے اور بین الاقوامی تاریخ لائن سے لے کر امریکی مغربی ساحل تک کے علاقوں کو شامل کرتا ہے۔

واپس کریں