کشمیر میں شہریوں کو قتل کرنا کوئی اعزاز کی بات نہیں،ہندوستان اقوام متحدہ کی قرار دادوں اور عالمی عہد کی بھی خلاف ورزی کر رہا ہے،ڈاکٹر سید نذیر گیلانی
No image لندن ( کشیررپورٹ) جموں و کشمیر ہیومن رائٹس کونسل کے سربراہ ڈاکٹر سید نذیر گیلانی نے بھارتی فوج کی طرف سے آزاد کشمیر میں شادی کی ایک تقریب کو نشانہ بنانے کے وحشیانہ اقدام کی مذمت کرتے ہوئے بھارتی حکومت سے کہا ہے کہ کشمیر میں عام شہریوں کو قتل کرنا کوئی اعزاز کی بات نہیں ہے۔ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ 22نومبر کو بھارتی فوج نے کنٹرول لائین سے آزاد کشمیر میں شادی کی ایک تقریب کو نشانہ بنایا جس سے آزاد کشمیر کے 11 شہری زخمی ہوئے جن میں 6خواتین اور 4 بچے بھی شامل ہیں۔ڈاکٹر سید نزیر گیلانی نے بھارتی وزیر داخلہ امت شاہ کی طرف سے کشمیریوں کے خلاف مسلسل بیانات کے حوالے سے کہا کہ بھارتی فوج کشمیر میں ہلاکت خیز اور تباہ کن کاروائیوں کا خوفناک طرز عمل پیش کر رہی ہے۔ عام شہریوں کو قتل کرنا کوئی اعزاز کی بات نہیں ہے۔
ڈاکٹر گیلانی نے کہا کہ جنوری 1948 میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جانے سے پہلے ہی حکومت ہند نے اکتوبر 1947 میں جموں و کشمیر کے عوام سے ایک تحریری وعدہ کیا تھاکہ جیسے ہی قانون اور کشمیر میں امن بحال ہو گا تو ریاست کے الحاق کے سوال کو لوگوں کے حوالے سے حل کیا جائے گا۔ حکومت ہند نے 20 جنوری 1948 کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے 230 ویں اجلاس میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اس عہد کی پاسداری کرتے ہوئے کہا کہ "ہم سلامتی کونسل کو اس بات پر قائل کرنے کے قابل ہونے کی امید کرتے ہیں کہ ایک بار جب ہم مسئلہ کشمیر سے نمٹ چکے ہیں تو شاید اس مادے کی کوئی چیز نہیں ہوگی جو ہندوستان اور پاکستان کو تقسیم کرے گی۔
چیئر مین 'جموں و کشمیر کونسل فار ہیومن رائٹس' نے کہا کہ 8دسمبر 1952 کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے608 ویں اجلاس میں دیئے گئے ہندوستان کے بیان کے مطابق ہندوستان کو کشمیر میں اکیس ہزار فوجیوں کی ضرورت ہے جبکہ اب ہندوستان نے جموں وکشمیر میں ایک ملین فوج متعین کی ہوئی ہے۔ڈاکٹر سید نذیر گیلانی نے کہا کہ اس تناظر میں ہندوستانی وزیر داخلہ کی طرف سے جموں وکشمیر کو ہندوستان کا اٹوٹ انگ کہنا خلاف حقیقت اور اقوام متحدہ کے قرار دادوں اور چارٹر کے ساتھ ساتھ ہندوستان کے عالمی اور علاقائی عہد کے بھی سراسر منافی ہے۔
واپس کریں