آزاد کشمیر میں ٹیکنیکل الائونس یا انجینئرنگ الائونس ؟
No image مظفر آباد (کشیر رپورٹ )آزاد کشمیر میں متعلقہ سرکاری ملازمین نے آزاد کشمیر حکومت سے اپیل کی ہے کہ فنی ملازمین کے لئے ٹیکنیکل الائونس کو صرف انجینئیرنگ کونسل میں رجسٹرڈ انجینئیرز تک ہی محدود نہ رکھا جائے اور انجینئیرنگ اور ٹیکنالوجی سے وابستہ دیگر افسران و ملازمین کی صریحا حق تلفی اورانصافی کا ازالہ کیاجائے ۔
حکومت آزاد کشمیر نے شعبہ انجینئیرنگ اینڈ ٹیکنالوجی سے وابستہ فنی ملازمین کے دیرینہ مطابے پر "ٹیکنیکل الائونس" کی منظوری کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے ، لیکن اس الائونس کو اس کے نام یعنی ٹیکنیکل الائونس کے برخلاف صرف انجینئیرنگ کونسل میں رجسٹرڈ انجینئیرز تک ہی محدود رکھا گیا ہے، جو کہ اس شعبہ یعنی انجینئیرنگ اور ٹیکنالوجی سے وابستہ دیگر افسران و ملازمین کی صریحا حق تلفی اورشدید ناانصافی ہے ۔
آزاد کشمیر حکومت کے انجینئیرنگ اور ٹیکنالوجی سے وابستہ افسان و ملازمین کی طرف سے کہا گیا ہے کہ اصولا یہ "ٹیکنیکل الائونس " ہے نہ کہ "انجینئیرنگ الائونس" اور اس کو اس شعبہ سے وابستہ تمام افسران اور ملازمین کو دیا جانا چاہئیے ، اوریہ سب شعبہ جات خالصتا انجینئیرنگ اور ٹیکنالوجی کے شعبے سے تعلق رکھتے ہیں، ان میں ٹیکنالوجسٹ ، سب انجنئیرز اور ٹیکنیکل ڈرافٹس مین شامل ہیں ، ان سب کی تعلیم کی نوعیت بھی انجینئیرنگ اور ٹیکنالوجی پر مشتمل ہوتی ہے اور ان شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے حضرات کی تمام سروس خالصتا انجینئیرنگ اور ٹیکنالوجی سے متعلق ہوتی ہے ۔
اس کے علاوہ جو سب انجینئیر تحت ضابطہ اپنی سنیارٹی کی وجہ سے منظور شدہ کوٹے کے تحت ایس ڈی او ترقیاب اور تعینات ہوتے ہیں، ان کا بھی اس نوٹیفکیشن میںذکر نہ ہونا متعصبانہ تخصیص اور شدید زیادتی اور حق تلفی ہے ۔ ایک جیسی یعنی یکساں پوسٹ پر تعینات ایک آفیسر جو ایک غیر سرکاری تنظیم یعنی انجینئیرنگ کونسل کا ممبر ہو گا، وہ تو اس الاونس کا حقدار ہو گا اور اسی پوسٹ پر تعینات اپنی سنیارٹی اور طویل تجربہ کی بنا پر منظور شدہ کوٹے کے خلاف ترقیاب سینئیر اور انجینئیرنگ میں طویل تجربہ کا حامل آفیسر اس الاونس سے محروم رہے گا ۔ مقتدر افسران کو اس ناانصافی یا ابہام کے بارے میں پوزیشن واضع کرنی چاہئیے ۔ بصورت دیگر جملہ افسران اور ملازمین اس ظلم ، اور صریح زیادتی کے خلاف احتجاج پر مجبور ہوں گے ۔

واپس کریں