'او آئی سی' اجلاس کے ایجنڈے پر مسئلہ کشمیر شامل نہ ہونے کی خبریں بھارتی پروپیگنڈہ ہیں، دفتر خارجہ
No image اسلام آباد۔پاکستان نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر ' او آئی سی' کے ایجنڈے کا مستقل موضوع ہے،' او آئی سی' کے نائجر اجلاس میں مسئلہ کشمیر ایجنڈے میں شامل نہ ہونے کی بات ہندوستان کا جھوٹا پروپیگنڈہ اور غلط معلومات پھیلانے کی مہم کا حصہ ہے۔دفتر خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چوہدری نے جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ نائیجر میں وزرائے خارجہ کا کونسل 5 اگست 2019 کے بھارت کی غیر قانونی اور یکطرفہ کارروائیوں کے بعد اس طرح کی پہلی نشست ہے۔توقع کی جارہی ہے کہ سیشن مسئلہ کشمیر پر اپنی بھر پور حمایت کا اعادہ کرے گا۔بھارت کا نہتے شہریوں کو نشانہ بنانا عالمی قوانین کے منافی ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ تنظیم کئی دہائیوں سے متعدد اجلاسوں کے ذریعے اور وزرائے خارجہ کے کونسل کی قراردادوں کے ذریعے اس مسئلے کو اٹھارہی ہے۔ 5 اگست 2019 کو بھارت کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدام کے بعد او آئی سی اس معاملے پر سرگرم رہی ہے۔ 'جموں وکشمیر کے او آئی سی رابطہ گروپ نے گزشتہ 15 مہینوں میں تین بار ملاقات کی ہے اور اس کی آخری نشست رواں سال جون میں وزرائے خارجہ کی سطح پر ہوئی تھی'۔ اس اجلاس میں بھارت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ غیرقانونی کارروائیوں کو بند کرے اور غیرقانونی طور پر مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کو روکے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے 5 اگست 2019 کو بھارت کے یکطرفہ اور غیرقانونی اقدام کے بعد سے مقبوضہ کشمیر میں 497 دن سے جاری غیرانسانی محاصرے، مواصلات کی بندش، میڈیا بلیک آٹ اور معصوم کشمیریوں کے ساتھ جاری ظالمانہ رویے پر بھی عالمی برادری سے توجہ دینے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ صرف نومبر کے مہینے میں بھارتی فوج نے 14 معصوم کشمیریوں کا نام نہاد سرچ آپریشن میں قتل کردیا جبکہ گزشتہ ایک سال کے دوران 300 سے زائد معصوم کشمیری نوجوانوں کا ماورائے عدالت جھوٹے انکانٹرز میں قتل کیا جا چکا ہے۔ پاکستان نے معصوم کشمیریوں کے ماورائے عدالت قتل پر عالمی برادری سے شفاف اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا اور ساتھ ہی بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ جاری ناروا سلوک پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حال ہی میں بھارتی ریاست بہار میں مسلمان لڑکی کو زندہ جلانے کی شدید مذمت کی۔زاہد حفیظ چوہدری نے بھارتی وزیر اعظم اور وزارت خارجہ کی جانب سے پاکستان پر عائد دہشت گردی کی اسپانسرشپ کے الزام کو رد کرتے ہوئے اسے عالمی برادری کی توجہ مقبوضہ کشمیر میں جاری ریاستی دہشت گردی سے ہٹانے کی ناکام کوشش قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہندوستان کی طرف سے دہشت گردی کرانے کے ثبوتوں پر مشتمل ڈازئیر سلامتی کونسل کے مستقل ارکا، یورپی یونین اور اقوام متحدہ کی سیکرٹری جنرل کو دیئے گئے ہیں۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے 5 اگست 2019 کو بھارت کے یکطرفہ اور غیرقانونی اقدام کے بعد سے مقبوضہ کشمیر میں 497 دن سے جاری غیرانسانی محاصرے، مواصلات کی بندش، میڈیا بلیک آٹ اور معصوم کشمیریوں کے ساتھ جاری ظالمانہ رویے پر بھی عالمی برادری سے توجہ دینے کا مطالبہ کیا۔ان کا کہنا تھا کہ صرف نومبر کے مہینے میں بھارتی فوج نے 14 معصوم کشمیریوں کا نام نہاد سرچ آپریشن میں قتل کردیا جبکہ گزشتہ ایک سال کے دوران 300 سے زائد معصوم کشمیری نوجوانوں کا ماورائے عدالت جھوٹے انکانٹرز میں قتل کیا جا چکا ہے۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے معصوم کشمیریوں کے ماورائے عدالت قتل پر عالمی برادری سے شفاف اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا اور ساتھ ہی بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ جاری ناروا سلوک پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حال ہی میں بھارتی ریاست بہار میں مسلمان لڑکی کو زندہ جلانے کی شدید مذمت کی۔زاہد حفیظ چوہدری نے بھارتی وزیر اعظم اور وزارت خارجہ کی جانب سے پاکستان پر عائد دہشت گردی کی اسپانسرشپ کے الزام کو رد کرتے ہوئے اسے عالمی برادری کی توجہ مقبوضہ کشمیر میں جاری ریاستی دہشت گردی سے ہٹانے کی ناکام کوشش قرار دیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ اسرائیل کے حوالے سے پاکستان کے اصولی مقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور اسرائیل کو تسلیم کرنے کا معاملہ زیر غور نہیں، ہمیں اس قسم کی افواہیں موصول ہوئی ہیں کہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم کرنے والا ہے لیکن پاکستان کے اصولی مقف میں کوئی تبدلی نہیں آئی۔ وزیر اعظم عمران خان واضح کر چکے ہیں کہ جب تک فلسطینی آباد کاری کی جانب سے ایسا حل پیش نہیں کیا جاتا جس پر فلسطینی عوام بھی مطمئن ہوں، پاکستان اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا۔ پائیدار امن کے لیے اقوام متحدہ اور اسلامی تعاون تنظیم کی قراردادوں کے مطابق دو ریاستی حل ضروری ہے جس میں 1967 سے پہلے کے اصول کے مطابق قائم ہوں اور ایک آزاد فلسطینی ریاست ہو جس کا دارالحکومت القدس ہو۔

قبل ازیں روزنامہ ' ڈان' کی ایک خبر میں کہا گیا تھا کہ مسئلہ کشمیر کو جمعہ سے نائجر کے دارالحکومت نیامی میں منعقدہ اسلامی تعاون تنظیم(او آئی سی)کے وزرائے خارجہ کے دو روزہ اجلاس کے ایجنڈے میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔او آئی سی کے بیانات ، انگریزی اور عربی دونوں میں ، ریاض میں اعلان کردہ ایجنڈے میں کشمیر کا کوئی خاص ذکر نہیں کیا گیا۔خبر کے مطابق او آئی سی کے سکریٹری جنرل ڈاکٹر یوسف الاثمین کے سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس اجلاس میں فلسطینی کاز ، تشدد ، انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ ، اسلامو فوبیا اور مذہب کی بدنامی ، غیر اقلیتوں میں مسلم اقلیتوں اور معاشروں کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ -ممبر ریاستیں ، بین الاقوامی عدالت انصاف میں روہنگیا کیس کے لئے فنڈ جمع کرنے کے ساتھ ساتھ تہذیبوں ، ثقافتوں اور مذاہب کے مابین مکالمہ کو فروغ دینے اور دیگر ابھرتے ہوئے معاملات کو فروغ دینے کے لئے کام کریں گی۔ اجلاس کے ایجنڈے میں سیاسی ، انسان دوست ، معاشی ، معاشرتی اور ثقافتی اور سائنس اور ٹکنالوجی ، میڈیا اور "او آئی سی 2025: پلان آف ایکشن" دستاویز کے نفاذ میں ہونے والی پیشرفت سے متعلق دیگر امور پر تبادلہ خیال بھی شامل ہے۔ . مزید یہ کہ اس میں "سلامتی اور انسانیت سوز چیلنجوں کا مقابلہ کرنے والے افریقی ساحل ریاستوں کے ممبروں کو او آئی سی کے ممبروں سے مقابلہ کرنے" کے سلسلے میں ایک ذہن سازی سیشن پیش کیا جائے گا۔خبر میں مزید کہا گیا کہ پاکستان کی جانب سے اس مسئلے پر رابطہ گروپ کے اجلاس کی درخواست کو بھی مسترد کردیا گیا۔

واپس کریں