کسانوں کی احتجاجی تحریک اور دہلی پہ دھاوا ہندوستان کے خلاف ایک بین الاقوامی سازش ہے،مودی حکومت کے آرگن 'زی نیوز ' کا دعوی
No image دہلی(کشیر رپورٹ) ہندوستان کی ' بی جے پی' حکومت یہ پروپیگنڈہ کر رہی ہے کہ ہندوستان مخالف قوتیں کسانوں کے احتجاج کے ذریعے ایک بہت بڑی سازش کر رہی ہیں۔مودی حکومت تباہ حال کسانوں کے بے خوف مظاہروں اور دہلی کی طرف مارچ سے شدید پریشانی کا شکار ہے ۔ مودی حکومت کسانوں کے مطالبات کو تسلیم کرنے کے بجائے کسانوں اور ان کی حمایت کرنے والوں کو ہندوستان مخالف قرار دینے کی اپنی روائیتی پالیسی اختیار کئے نظر آ رہی ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی کی انتہا پسند ی پر مبنی انسانی حقوق کی نفی پر مبنی پالیسیوں کی حمایت کا ایک میڈیا آرگن' زی نیوز' نے کسانوں کے ہندوستان گیر مظاہروں اور دارلحکومت دہلی کی طرف مارچ کے حوالے سے ایک خصوصی پروگرام میں کہا ہے کہ کسانوں کے احتجاج کا بھارت مخالف ماڈل سرگرم ہے اور یہاں تقسیم کار طاقتیں کسانوں کو کس طرح استعمال کررہی ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کسانوں کے احتجاج میں خالصتانی اور نکسل نظریات کی حمایت کرنے والی تنظیموں جیسے PFI اور دیگر کی طرف سے کردار ادا کیا گیا ہے جو ایک بہت بڑی سازش کا اشارہ ہے۔
'زی نیوز ' کے اشومن آنند نے رپورٹ میں بتایا کہ دہلی کی طرف ہر طرف سے کسانوں کے جلوسوں کی آمد سے حکومت کے خلاف بڑی سازش رچائی گئی ہے اور ہندوستان میں خلل پیدا کرنے کی بین الاقوامی سازش ہے۔اشومن آنند نے کسانوں کی احتجاجی تحریک کو ہندوستان کے خلاف ایک بین الاقوامی سازش ثابت کرنے کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ کسانوں کے احتجاج میں شامل لوگوں کی طر سے ملک دشمن روئیہ ظاہر کیا گیا ہے، خالصتانی تحریک کے لوگ بھی کسانوں کے احتجاج میں شامل ہیں اور پنجاب کے کسان آزاد ریاست خالصتان کی تحریک چلانے والے بھنڈرانوالہ،جو سکھوں کے مقدس مقام گولڈن ٹیمپل میں بھارتی فوج سے لڑائی میں ہلاک ہوئے ، کے پوسٹرز ہاتھوں میں اٹھائے مظاہروں میں شرکت کرتے ہیں۔ احتجاج کرنے والے کسان مذہبی فرقہ واریت کا مظاہرہ بھی کر رہے ہیں اور یہ حکومت کی متعارف کردہ قوم پرستی کے بھی خلاف ہیں۔یہی وجہ ہے کہ خالصتان تحریک کے حامیوں کو جب بھی مودی حکومت کے خلاف پریشانی پیدا کرنے کا موقع نظر آتا ہے وہ تحریک میں شامل ہوجاتے ہیں۔رپورٹ میں یہ الزام بھی لگایا گیا کہ '' ایک تنظیم '' یونائیٹڈ اگینسٹ ہیٹ'' ( نفرت کے خلاف متحد) نے پہلے بھی دہلی فسادات اور شاہین باغ دھرنے کے دوران حکومت کے مخالف کردار ادا کیا لیکن ان کے یہ منصوبے سیکورٹی ایجنسیوں کے ذریعے کچل دیئے گئے تھے،ایسی تنظیمیں ہندوستان میں تباہی پھیلانے کے موقع کی تلاش میں ہیں۔
'زی نیوز' نے مزید کہا کہ شہریت کے نئے قانون کے مخالفین بھی کسانوں کی تحریک کی حمایت کر رہے ہیں اور وہ مسلمانوں کو اکساتے ہیں کہ اس قانون سے ان کی شہریت چھن جائے گی، شہریت کے قانون کے خلاف ہونے والے مظاہروں اور کسانوں کے مظاہرے میں بھی ایک جیسے طریقے استعمال کئے جا رہے ہیںاور کسانوں کو نئے فارم قوانین کے خلاف ورغلایا جا رہا ہے۔شہریت قانون کے خلاف جلوسوں میں خواتین اور بچے بھی شریک تھے،اب کسانوں کی جلوسوں میں بھی خواتین اور بچے شامل ہیں،شریت مخالف تحریک میں بھی وزیر اعظم نریندر مودی کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی تھیں اور اب کسانوں کے احتجاج میں بھی وزیر اعظم نریندر مودی کو مارنے کی باتیں کی جار ہی ہیں۔
کسانوں کے حالیہ مظاہروں اور دہلی پر دھاوے سے مودی حکومت کی شدید پریشانی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ بھوکے ننگے،ہر سال سینکڑوں کی تعداد میں خودکشی پر مجبور ہونے والے کسانوں کے اپنے حقوق کے لئے ہونے والے مظاہروں کا خلاف غیر ملکی فنڈنگ کا الزام بھی حکومتی حلقوں کی طرف سے لگایا جا رہا ہے۔رپورٹ میں یہ دعوی کیا گیا کہ یوپی کے شہر ہاتراس میں فساد کے واقعے کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ پی ایف آئی کو ماریشس کے ذریعے 50 کروڑ روپئے کی فنڈنگ ملی تھی۔ اس کے علاوہ مختلف ذرائع سے PFI کو 100 کروڑ سے زیادہ فنڈ دیئے گئے تھے۔ہاتراس کیس میں ، انتظامیہ نے بروقت پی ایف آئی کے ممبروں کو پریشانی پیدا کرنے سے روکنے کے لئے ایکشن لیا اور اس معاملے میں پی ایف آئی کے چار ممبران کو بھی گرفتار کرلیا گیا۔ پی ایف آئی کا منصوبہ بری طرح فلاپ ہوا اور اب ان کے غیر ملکی آقائوں کے دبا ئومیں ہے کہ وہ فنڈ کو ہندوستان میں کچھ نئی پریشانی پیدا کرنے کے لئے استعمال کریں۔رپورٹ کے آخر میں کہا گیا کہ کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتیں کسانوں کو سڑکوں پر نکل آنے اور مودی حکومت کے خلاف احتجاج کرنے کے لئے گمراہ کر رہی ہیں ۔
واپس کریں