چین اور پاکستان کے سرحدوں علاقوں کی سائینسی تحقیق کے لئے ہندوستان میں' جیو انفارمیٹکس ریسرچ اسٹیبلشمنٹ' کا قیام
No image نئی دہلی(کشیر رپورٹ) ہندوستان نے چین اور پاکستان کے سرحدی علاقوں کے خطوں پر مرکوز سائینسی تحقیق کے لئے ڈیفنس ریسرچ اور ڈویلپمنٹ آرگنائیزیشن کو مدغم کر کے '' ڈیفنس جیو انفارمیٹکس ریسرچ اسٹیبلشمنٹ'' کے نام سے ایک نئی لیبارٹری تشکیل دی ہے۔منالی اور دہلی میں قائم دونوں لیبارٹیوں کو مدغم کر کے ایک نیا اور وسیع ادارہ قائم کیا گیا ہے۔نیوز ایجنسی '' اے این آئی' نے حکومتی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ یہ نئی لیب لداخ سے اروناچل پردیش تک چین کی سرحد کے ساتھ علاقے اور برفانی تودے پر تحقیق پر مرکوز ہوگی۔ آپریشنل علاقوں میں برف اور برفانی تودے کے مطالعے میں ملک کے مختلف حصوں میں قریب000 3روڈ مقامات پر برفانی تودے اٹلس تیار کیے ہیں جہاں مسلح افواج تعینات ہیں۔اسی طرح ڈی ٹی آر ایل مختلف علاقوں پر کام کر رہا تھا جہاں مسلح افواج تعینات ہیں۔اس میں کشمیر کی کنٹرول لائین اور سیاچن کے علاقے بھی شامل ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ نئی لیب اپنی ٹیمیں اروناچل پردیش کی طرح چین کے ساتھ سرحد کے مختلف حصوں میں بھی پھیلائے گی اور وہاں تعینات فورسز کے ساتھ کام کرے گی۔وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک اجلاس میں اس متعلق کا م اور اہداف کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے اس نئے سائینسی تحقیقی ادارے کے قیام اور دفاعی تحقیقاتی ایجنسی میں اصلاحات کی منظوری دی ہے۔اس تحقیقاتی کام سے مسلح افواج کو مستقبل کی جنگ کے لئے تیار کرنے میں بھی بڑی مدد ملے گی۔
واپس کریں