امریکہ میں کورونا کی صورتحال مزید خراب، فروری تک صورتحال بہت مشکل ہو گی،سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول
No image نیو یارک۔ امریکہ میں کورونا وائرس کی صورتحال میں مزید شدت آنے کا امکان ظاہر کیا جار ہا ہے اور اس حوالے سے تین مہینے،فروری تک کی صورتحال بہت مشکل ہو گی۔امریکہ میں صحتِ عامہ کے نگران ادارے سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول(سی ڈی سی)نے خبردار کیا ہے کہ کرونا وبا کے پیشِ نظر دسمبر، جنوری اور فروری امریکہ میں صحتِ عامہ کے لیے نہایت مشکل ہوں گے۔موسم کی شدت کے ساتھ ہی کرونا وائرس کیسز میں بھی اضافہ ہو گا جس سے لامحالہ اسپتالوں پر مزید بوجھ پڑے گا۔
'' وائس آف امریکہ '' کے مطابق سی ڈی سی کے ڈائریکٹر رابرٹ ریڈ فیلڈ نے بدھ کو امریکی چیمبر آف کامرس فانڈیشن کے زیرِ اہتمام ایک ورچوئل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ دسمبر، جنوری اور فروری بہت مشکل وقت ہو گا۔ میرا یہ واقعی خیال ہے کہ یہ ہماری صحتِ عامہ کی تاریخ میں مشکل ترین وقت ہو گا۔ ریڈ فیلڈ کا کہنا ہے کہ موجودہ کرونا وائرس کے کیسز میں اضافہ گزشتہ لہر سے بہت زیادہ ہے۔ یہ اضافہ جغرافیائی طور پر بھی پہلے سے زیادہ ہے اور امریکہ میں اوسط روزانہ دو ہزار افراد اس مرض کی وجہ سے ہلاک ہو رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ملک بھر میں اسپتالوں پر بہت بوجھ ہے اور دستیاب بستروں کی تعداد بہت کم ہے اور طبی عملے پر بھی کام کا بہت بوجھ ہے۔ بدھ کو امریکہ میں پہلی بار اسپتالوں میں داخل مریضوں کی تعداد ایک لاکھ سے بڑھ گئی ہے۔امریکہ میں بہت سے لوگ سماجی دوری اور ماسک پہننے کی گائیڈ لائنز سے تھک چکے ہیں وہیں تاہم لوگوں کو اگلے چند مہینوں میں ان ہدایات پر عمل کرنا چاہیے۔گزشتہ ہفتے تھینکس گیونگ کے تہوار کے موقع پر لاکھوں امریکی شہریوں نے طبی ماہرین کی ہدایات کو نظرانداز کرتے ہوئے اندرون ملک سفر کیا تھا جس پر ماہرین نے وائرس کے مزید پھیلا کے خدشات ظاہر کیے تھے۔بدھ کو ہی سی ڈی سی نے سفارش کی تھی کہ کرونا سے متاثرہ شخص کے ساتھ رابطے میں آنے والا شخص اب 14 کے بجائے 10 روز تک آئسولیشن اختیار کرے گا۔ اس دوران علامات ظاہر نہ ہونے پر اسے 10 روز بعد معمولاتِ زندگی بحال کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔امریکہ کی جانز ہاپکنز یونیورسٹی کرونا وائرس ریسورس سینٹر کے مطابق امریکہ میں اب تک کرونا وائرس کی وجہ سے دو لاکھ 73 ہزار سے زائد اموات ہو چکی ہیں جب کہ ایک کروڑ 39 لاکھ کے لگ بھگ کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔
واپس کریں