اصولی طور پرفوج کی مداخلت نہیں ہونی چاہئے،اکانومی ،سیاسی عدم استحکام ،حکومتی کریڈیبلٹی کا مسئلہ ہے، انڈیا کشمیر میں ڈنڈےسے کام چلا رہا ہے، اسد درانی
No image راولپنڈی(کشیر رپورٹ)آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹنٹ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی نے برطانیہ کے اطلاعاتی ادارے'' بی بی سی'' کو ایک وڈیو انٹرویو میں پاکستان میں حاکمیت، پاکستان کے مسائل، خطرات اور کشمیر کے حوالے سے کئی اہم باتیں کی ہیں۔ '' بی بی سی '' نے اس انٹرویو سے متعلق اپنی ایک خبری رپورٹ بھی شائع کی لیکن وڈیو انٹرویو میں اسد درانی کے جوابات کا تاثر اس خبری رپورٹ سے صحیح طور پر واضح نہیں ہوتا۔ اس وڈیو کے مطابق اس انٹرویو کی رپورٹ اسی طرح پیش کی جارہی ہے جس طرح انہوں نے بیان کیا۔
لیفٹنٹ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی نے کہا کہ فوج کی مداخلت،جی ایچ کیو،آرمی چیف کی مداخلت ،اس کی تو بڑی پرانی تاریخ ہے،ایوب خان کے زمانے تک جاتی ہے،کرتے (مداخلت) تو ہیں،انفلنس بھی ہے،جب نہیں بھی ہوتے تو اس وقت بھی لگتا ہے کہ ان کا کوئی رول ہے،'آئی ایس آئی ' ایس ادارہ ہے جو بنیادی طور پر فارن انٹیلی جنس کے لئے ہے، لیکن اگر فوج کی حکمرانی ہے کسی وجہ سے ،کیونکہ اس کے اندر فوجی لوگ ہیں،سرونگ ہیں خاص طور پر ان کا ہیڈ ،اس طرح کا کوئی کا م انہیں مل جائے تو زیادہ یا کم ضرور کر سکتے ہیں،میں جب وہاں تھا تو نواز شریف پہلی بار وزیر اعظم تھے،انہوں نے یا آرمی چیف نے مجھے بطور ڈی جی ' آئی ایس آئی' کے کبھی کوئی سیاسی کام نہیں کہا،لیکن یہ میں کہتا ہوں کہ کبھی کبھی لو گ ' انوالو' ہو گئے ہیں، میرے سے پہلے حمید گل صاحب کہتے رہے ہیں ناں کہ انہوں نے ' آئی جے آئی' بنوائی،مداخلت تو ہے،ہونی چاہئے یا نہیں ہونی چاہئے یہ تو ،یہ بحث آج تک تو ' سیٹل ' نہیں ہوئی ہے،اصولا نہیں ہونی چاہئے،تجربہ بھی یہی ہے کہ جب بھی کیا فوج نے مداخلت،جب بھی وہاں سے مداخلت نکلی ہے ، اس کے بعدایوب خان نے بھٹو کو باہر رکھنا تھا وہ واپس آ گیا،ایوب کے بعد وہ الیکٹ ہو گیا،ضیاء الحق کے بعد بی بی تشریف لائیں،جیسے ہی مشرف نکلے ہیں وہ دو پارٹیاں جن کے بارے میں خیال تھا کہ ان کو باہر رکھنا چاہئے پیپلز پارٹی اور ن لیگ ،دونوں آ کر الیکٹ ہو گئیں مشرف صاحب کی صدارت کے دوران،تو یہ اتنا ''کائنٹر پرو ڈیکٹیو'' ہے۔
' بی بی سی ' کے اس سوال کہ کیا یہ طریقہ آئندہ بھی چلتا رہے گا کیونکہ اب چیزیں بہت اوپن ہو گئی ہیں،فوج اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کا کردار سیاسی کے حوالے سے تبدیل ہو گا آنے والے وقت میں؟ کے جواب میں لیفٹنٹ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی نے کہا کہ دھرنے تو یہ نہ کر سکتے تھے نہ کرا سکتے تھے،اس لئے کہ ایک تاثر کے علاوہ حقیقی زندگی میں بھی مداخلت ہو چکی ہوئی ہے تو لوگ بعض ایسی باتیں بھی ان کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیںکہ اگر دھرنا ہوا تو ' آئی ایس آئی ' نے کروایا ہے،شاید نہ کروایا ہو،فضل الرحمان ہماری بات سننے والا تو نہیں ہے،اس نے اپنا فیصلہ کرنا ہے،اس فیلڈ میں ہم سب سے زیادہ تجربہ اس کا ہے،اس نے اگر کرنا ہے تو اس نے خود ہی کرنا ہے،لیکن تاثر یہی ہو گا کہ آپ کے بغیر نہیں ہو سکتا ،جیسے ہمارے ہاں کہا جاتا تھا کہ امریکہ کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا ۔(یوں فوج کی مداخلت جاری رہے گی یا نہیں،کا اسد درانی نے اس کا واضح جواب نہیں دیا)
ہندوستان کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ ہمیشہ انڈیا پاکستان کے لئے نمبر ون خطرہ نہیں رہا، کبھی ہوتا ہے کبھی اندر کا خطرہ ہوتا ہے کہ اکانمی کی وجہ سے لوگ پریشان ہیں، افغانستان کی پالیسی کی وجہ سے ہمارے بہت سے لوگ ختم ہو چکے ہیں،آج بھی انڈیا تو سنبھال لیتے ہیں ہم لوگ ،جب بھی کام ہوا تو انڈیا کو ہم نے سنبھال لیا،یہ ہے کہ اب ان کو(انڈیا کو) وہاں زیادہ مسئلہ ہو گیا ہے کیونکہ انڈیا کے کشمیر سے متعلق 5 اگست 2019 کے اقدام کے بعد انڈیا کی چھٹی ہو چکی ہے،کشمیر میں انڈیا کے پاس صرف ڈنڈا ہے اور کچھ نہیں ہے اور کوئی چیز نہیں۔اس کے بعد انہوں نے سٹیزن ایکٹ والا جو کام کیااس میں مسلمانوں کے علاوہ کچھ سمجھدار ہندو ،سکھ بھی اس کے مخالف ہو گئے، اس وقت ایسٹرن فرنٹ پہ کوئی خطرہ نہیں،اگر ہو بالا کوٹ کی طرح کا کوئی حملہ کریں گے تو اس کے لئے تیاری کر لیں، انڈیا اس وقت مختلف مسائل میں اتنا زیادہ پھنسا ہوا ہے کہ اس کو پاکستان کی اتنی فکر نہیں ہے، پاکستان کو اپنہ فکر ہے ،اگر ہم نے باہر ہی دیکھنا ہے تو ہمارے پاس ایک دو چیلنجز اور ہیں،ایک نیا چیلنج آ گیا ہے،ایران،سعودی عریبیہ، مسئلہ اقتصادی ہے،سیاسی عدم استحکام کا ہے یا سوشل کلوژن کا ہے،آج کل یہ سارے مسئلے اکٹھے درپیش ہیں،سیاسی طور پر کچھ لوگ ناراض ہیں سیاسی طور پر،کچھ علاقے ہیں جیسے بلوچستان میں بد امنی ہو گئی، اکانمی واقعی خراب ہے،اور کریڈیبلٹی، جب حکومت کی کریڈیبلیٹی نہ ہو،وہ جب کہیں کہ یہ تو فوج لے کر آئی ہے،یہ کونسا لیڈر ہے کہ جو کہتا ہے کہ میں ' یو ٹرن' کروں گاتو لیڈر بن جائوں گا ورنہ نہیں بنوں گا،ہر چیز پر واپس ہو جاتا ہے،تو اس طرح کی گورنمنٹ کی کیڈیبیلیٹی نہیں رہتی،کرپشن اصل میں ہوتی ہے'' مارل کرپشن'' ،پرنسپل،سوشل کرپشن،لیڈر شپ کی اصولی کرپشن،ہماری یہ تینوں چاروں قسم کی کرپشن بھی اکٹھی ہو گئی ہے۔
انڈیا کے پانچ اگست کے اقدام کے بعد پاکستان کے گلگت بلتستان سے متعلق اقدام کے حوالے سے سوال پر اسد درانی نے کہا کہ پوسف بچھ جو ہم سے بہت زیادہ سمجھدار کشمیری تھے،جو فوت ہو گئے ہیں،بہت سمجھدار آدمی ،کشمیری اور کشمیر کے بارے میں ہمیں سمجھایا کرتا تھا، حالانکہ میں میں سمجھتا تھا کہ میں کشمیر ہینڈل کر رہا ہوں،مجھے کون سمجھا سکتا ہے تو وہ مجھے سمجھایا کرتا تھا،یہ بھی کہا کرتے تھے کہ اگر آپ نے یہ گڑ بڑ کی تو ہمارے کشمیر کاز کو بہت بڑا دھچکہ لگے گا،کئی چیزوں کا سٹیٹس مت بدلیں کیونکہ جب بھی آپ ایسی چیزیں سیاسی وجہ سے بدلیں گے کہ ہم نے نمبر بنانے ہیں تو اس کا نقصان ہو گا،سٹیٹ آف بہاولپور اور سوات سٹیٹ، بڑی اچھی سٹیٹس تھیں،مین سٹریم میں انہیں ضم کر دیا اور مین سٹریم کرپٹ اور ناکارہ ہے،حالانکہ یہ سٹیٹس بڑی اچھی ہیں،بلوچستان کے تین حصے،ایک طرف ہو جاتے تھے،معاشی ،سیاسی اور سوشل طور پر بھی ، لیکن ہم نے پکڑ کر ایک صوبہ بنا دیا اور آج تک بھی نہیں سنبھالا جا رہا ،فاٹا کے متعلق تو بہت کم لوگ تھے لیکن میں ان افراد میں شامل تھا،میں پرو ٹیسٹ کرتا تھا کہ یہ مت کرو،اس کو صوبے کے اندر مت بنائو،اس کا سپیشل سٹیٹس ہے اس کو آپ دیکھئے ،بعض حالات میں وہ ہم سے بہتر ہیں ان کا سسٹم بہتر ہے،پانچسو سال کا پرانا سسٹم ہے،ہم اور کچھ نہیں کر سکتے تو اس کا سٹیٹس بدل دیتے ہیں،یا مائل سٹون کے اوپر بجائے کشمیر کے سرینگر لکھ دیتے ہیںیا نقشہ جو ہے اس کو ہم ایسے بنا دیتے ہیں،اس کو '' کمکس'' کہتے ہیں،یہ وہ کام ہے جو وہ لوگ کرتے ہیں جنہوں نے ' سب سٹینس'کہ وہ وہاں نہیں ہو رہا یہ بڑا مشکل کام ہے،نمبر بنانے کے لئے جو لوگ کام کرتے ہیں،تو ہمارے جیسے لوگ خوش نہیں ہوں گے، اس کا کوئی فائدہ تو نظر نہیں آ رہا،اگر سسٹم اتنا اچھا ہو کہ لوگ کہیں کہ ہم آپ کے ساتھ آتے ہیں تو پھر تو ٹھیک بات ہے،اپنی مرضی سے آئیں،امپوز مت کریں لوگوں کے اوپر۔

واپس کریں