گلگت والا ڈرامہ آزاد کشمیر میں نہیں چلنے دیں گے،حکومتی ارکان اسمبلی سے کوئی آدمی کہیں نہیں جائے گا، وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر کا اسمبلی سے خطاب
No image مظفرآباد۔ وزیر اعظم آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا ہے گلگت بلتستان والا ڈرامہ آزاد کشمیر میں نہیں چلنے دیں گے، آزاد کشمیر کے حکومتی اراکین اسمبلی سے کوئی آدمی کسی طرف نہیں جائے گا،چیف سیکرٹری سے مطالبے کرنے والے جان لیں کہ چیف سیکرٹری میرے ماتحت اور قانون و ضابطے کے پابند ہیں۔وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان نے جمعہ کو آزاد جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نظریاتی اور مخلص کارکن سیاسی جماعتوں کا قیمتی اثاثہ ہوتے ہیں جو سخت اور کڑے وقت میں اپنی جماعت اور نظریے کو مقدم رکھتے ہیں۔ محمد مطلوب انقلابی اور سردار غلام صادق نے اپنی حیات میں ہمیشہ اپنی پارٹی کیلئے جہدوجہد کی اور ثابت قدمی سے ایک نظریے کے ساتھ منسلک رہے۔ مطلو ب انقلابی اور غلام صاد ق جیسے لوگ آزاد کشمیر کی سیاست کااثاثہ تھے۔میں خود سیاسی کارکن ہوں اور مجھے اس بات کا فخر ہے، سیاسی کارکنان کی زندگیوں میں بڑی مشکلات بھی ہوتی ہیں۔میں نے والد محترم کی زندگی میں بہت اچھا وقت بھی دیکھا اور ان کی وفات کے بعد بہت کڑا وقت بھی جس پر مجھے فخر ہے۔سیاسی کارکن اب کم ہورہے ہیں، منتخب ہونے سے سیاستدان نہیں بن جاتا،سب سے بڑی عزت سیاسی کارکن ہونا ہے۔ مطلوب انقلابی اور غلام صادق کے نام سے ادارے منسوب کیے جائیں گے۔ کچھ لوگ ہر الیکشن میں جماعتیں تبدیل کرتے ہیں لیکن ان کی کوئی عزت نہیں ہوتی۔ آٹے کی قیمتیں کچھ عرصہ میں مزید کم ہوجائیں گی۔
وزیر اعظم آزاد کشمیر نے گزشتہ دنوں وفات پا جانے والے سابق ممبران اسمبلی محمود مطلوب انقلابی اور سردار غلام صادق کی سیاسی وپارلیمانی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ محمد مطلوب انقلابی اور سردار غلام صادق بڑے کردار کے حامل سیاسی کارکن و رہنما تھے، ان کے لیے ان کی پارٹی سب کچھ تھی۔ اب سیاست میں پیشہ اور چاپلوسی آگئی ہے مگر دونوں شخصیات ان دونوں قباحتوں سے بالاتر تھیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ با کردار سیاسی لوگوں کا ضمن آہستہ آہستہ خالی ہو رہا ہے۔ سیاسی کارکنوں کی بھرپور عزت و تکریم ہونی چاہیے۔ اسی اسمبلی سے ایک آزمودہ کار سیاسی راہنما خان بہادر خان رخصت ہوئے۔ انہیں پلندری سے کوٹلی بیڑیاں پہنا کر پہنچایا گیا تھا۔ غازی ملت کے فرزند سردار خالد ابراہیم کی سیاست سے اختلاف سہی لیکن انہوں نے منافقت سے کبھی کام نہیں لیا، انہوں نے اس کا نقصان اٹھایا لیکن سمجھوتا نہیں کیا۔ وزیر اعظم نے کہاکہ صاحبزادہ قاسم باجی ایک مذہبی شخصیت تھے۔ ان کے عقیدتمندوں کی تعدا د پاکستان بھر میں ہے۔ کوٹلی بڑا زرخیز ضلع ہے۔سردار سکندر حیات خان نے کوٹلی کے لوگوں کو شعور دیااور ان کے ووٹ کو عزت دلوائی۔سکندر حیات بہترین منتظم رہے،آزادکشمیر کی سیاست میں ان کا بڑا کردار ہے، راجہ سنحی، کرنل محمود خان، نائیک سیف علی،راجہ اسلم، راجہ اکرم نئی کھیپ میں مطلوب انقلابی درخشندہ ستارے تھے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ یہاں لوگ زعم میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ میں ہی پارٹی ہوں۔ مطلوب انقلابی، غلام صادق نے ہمیشہ اپنی جماعت کو مقدم سمجھااوراپنی ذات کو مائنس کیا۔ کچھ لو گ ہر الیکشن میں نئی جماعت میں ہوتے ہیں لیکن ان کی کوئی عزت نہیں ہوتی،ایک شخص نے جماعت سے استعفی دیا جب پیسے کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹکٹ دینگے تو پھر یہ جماعت کی بدنامی کا باعث بنیں گے۔ انہوں نے کہاکہ میں اپنی سیاسی وابستگی میں انتہا پسند ہوں مگر مطلوب انقلابی سے انتہائی احترام کا رشتہ تھا۔ سیاسی کارکنوں کی بھی برادری ہے ہر شخص ان کو لعن طعن کرتا ہے۔ سیاسی کارکنان کے اہلخانہ سے پوچھیں کس کرب سے وہ گزرتے ہیں، ہم ترس جاتے تھے کہ کب ہمارے والد ہمارے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھائیں گے۔ سردار غلام صادق سپیکر بنے ان سے عزت و احترام کا رشتہ ہے۔سیاسی جماعتوں کو اپنے آزمودہ کار، وفادار، سمجھدار لوگوں کو ٹکٹ جاری کرنا چاہیے۔ میں سیاسی کارکن ہوں اور مجھے اس بات کا فخر ہے۔ والد کی زندگی میں بہت اچھا وقت دیکھا ان کی وفات کے بعد گندم ابال کر اس میں مرچیں ڈال کر بھی کھائیں اس پر بھی فخر ہے، اسی وجہ سے اللہ رب العزت نے اس منصب پر پہنچایا۔
واپس کریں