مودی حکومت مقبوضہ جموں وکشمیر میں ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ کونسل کے نئے نظام سے مقبوضہ کشمیر اسمبلی کی حیثیت کو غیر متعلق کرنے کی کوشش میں
No image سرینگر ( کشیر رپورٹ)مقبوضہ جموں و کشمیر میں جمعہ کو مودی حکومت کے متعارف کردہ ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ کونسل کے تیسرے مرحلے کے الیکشن ہوئے۔ڈسٹرکٹ کونسل کے یہ الیکشن آٹھ مراحل میں ہوں گے۔مقبوضہ جموں وکشمیر کے ہندوستان نواز سیاسی جماعتوں کے اتحاد '' گپکار ڈیکلریشن'' کے قیام کا مقصد مقبوضہ جموں وکشمیر کی 5اگست2019 سے پہلے کی حیثیت بحال کرنے کے حوالے سے تھا تاہم ڈسٹرکٹ کونسل کے اس الیکشن میں '' گپکار اتحاد'' یہ کہتے ہوئے اس الیکشن میں شامل ہے کہ ' بی جے پی' کو میدان خالی نہ مل سکے۔مقبوضہ کشمیر میں ہندوستان کی مودی حکومت کی حامی ایک نئی تنظیم '' اپنا پارٹی'' قائم کی گئی ہے ۔ اس پارٹی کے ایک امیدوار پر جمعہ کو اننت ناگ میں حملہ ہوا جس سے مقبوضہ کشمیر میں مودی حکومت کے لئے آلہ کار کے طور پر استعما ل ہونے والے افراد میں خوف کی لہر دوڑ گئی ہے۔
ہندوستان کی مودی حکومت کی طرف سے مقبوضہ جموں وکشمیر میں متعارف کردہ ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ کونسل کے تحت مقبوضہ جموں وکشمیر کے ہر ضلع میں کونسل کے 14ممبر ہوں گے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ کونسل کے اس نئے نظام کے ذریعے مودی حکومت مقبوضہ جموں وکشمیر اسمبلی کی حیثیت کو کم کرنے کا حربہ استعمال کر رہی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ ہندوستان کی مودی حکومت مقبوضہ جموں و کشمیر کے تمام مکتبہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے افراد،سیاسی جماعتوں کے خلاف تادیبی کاروائیاں کر رہی ہے۔مقبوضہ کشمیر کی آزادی پسند سیاسی جماعتوں ،شخصیات کو ویوار سے لگانے کے بعد مودی حکومت ہندوستان نواز سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں کے خلاف بھی مختلف بنیادوں پر ،سرکاری سطح پہ تادیبی کاروائیاں کر رہی ہے جس میں آراضی سے متعلق ' روشنی ایکٹ ' کا سکینڈل بھی شامل ہے۔مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ کشمیر میں ہندوستان کی ساکھ ختم ہو چکی ہے اور ہندوستان کی مودی حکومت صرف اور صرف فوجی اور سرکاری طاقت کے ظالمانہ استعمال سے کشمیریوں کو زمین سے لگاتے ہوئے اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنا چاہتی ہے ۔ہندوستانی مقبوضہ کشمیرکی اس صورتحال پر دنیا کے مختلف ملکوں اور عالمی اداروں کی طرف سے بھی ہندوستان مخالف رائے کا اظہار سامنے آ رہا ہے۔ خاص طورپر امریکہ کے صدارتی الیکشن میں جو بائیڈن کی کامیابی کے تناظر میں یہ کہا جا رہا ہے کہ نو منتخب امریکی صدر جو بائیڈن انسانی حقوق کی پاسداری پر یقین رکھتے ہیں اور ان کی کامیابی سے ہندوستان کے لئے کشمیر میں '' فری ہینڈ '' کی صورتحال اب ختم ہونے کو ہے۔
واپس کریں