عالمی مذہبی آزادی سے متعلق امریکی حکومت کے ادارے کی توہین مذہب کے قوانین پر رپورٹ جاری
No image واشنگٹن(کشیر رپورٹ) امریکی حکومت کی عالمی سطح پہ مذہبی آزادی سے متعلق ادارے '' یونائیٹڈ سٹیٹس کمیشن آن انٹر نیشنل ریلیجئس فریڈم''(یو ایس سی آئی آر ایف)مذہبی توہین سے متعلق قوانین کے نفاذ کے حوالے سے ایک رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا کے84ممالک میں مذہبی توہین سے متعلق732 مقدمات کی نشاندہی ہوئی ہے۔ اس رپورٹ میں2014 اور2018 کے درمیان مذہبی توہین کے نفاذ کا جائزہ شامل ہے۔
'یو ایس سی آئی آر ایف' کے صدر گیل مانچن نے رپورٹ کا اجراء کرتے ہوئے کہا کہ ''یہ کوئی اتفاق نہیں ہے کہ سب سے زیادہ مذہبی توہین کے مقدمات رکھنے والے سرفہرست چھ ممالک پاکستان ، ایران ، روس ، ہندوستان ، مصر اور انڈونیشیا وہ سب ممالک ہیں جن کی شناخت' یو ایس سی آئی آر ایف' نے دنیا کی مذہبی آزادی کی بدترین خلاف ورزی کرنے والوں میں کی ہے۔'' رپورٹ کے مطابق 732 میں سے674 مقدمات میں مجرمانہ توہین مذہب کے قوانین کو نافذ کرایا گیا ہے۔ایسے واقعات میں 58 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا کہ جہاں ہجوم کی سرگرمی ، دھمکیاں ، افواہوں یا توہین مذہب کے الزامات کے تحت د تشدد ہوا جس پر مجرمانہ توہین کے قانون کو نافذ نہیں کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق 84ملکوں میں2020 میں مذہبی توہین پر مبنی کرمنل قوانین درج کئے گئے ہیں۔اکاسی فیصد مقدمات دس ممالک پاکستان، ایران ،روس،انڈیا،مصر،انڈونیشیا ،یمن،بنگلہ دیش ،سعودی عرب اور کویت میں درج کئے گئے ۔امریکی عہدیدار نے کہا کہ یہ رپورٹ اس بات کو بھی واضح کرتی ہے کہ توہین مذہب کے قوانین کی عالمی سطح پہ منسوخی کیوں ضروری ہے۔
واپس کریں