ملک میں حاکمیت کے تعین کی کشمکش تیز، فیصلہ کن مراحل میں داخل، لاہور کے جلسے میں عوام کی بھر پور شرکت اور ' پی ڈی ایم ' رہنمائوں کے خطابات اہم ہیں
No image اسلام آباد(کشیر رپورٹ) لاہور میں آج ( اتوار کو) حکومت کے خاتمے اور نئے آزادانہ،منصفانہ اور شفاف الیکشن کے مطالبے کے ساتھ آئین و پارلیمنٹ کی حقیقی بالادستی قائم کرنے کے مطالبا ت کے ساتھ قائم گیارہ اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد' پاکستان پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ ' ( پی ڈی ایم)کاایک اہم جلسہ ہونا ہے۔ ' پی ڈی ایم' کے بالخصوص گوجرانوالہ، کراچی ،پشاور اور کوئٹہ کے جلسے بہت اہم رہے جس سے حکومت اور حکومت کی حلیف قوتیں سخت دبائو سے دوچار ہوئی ہیں۔یہ ' پی ڈی ایم' کی طرف سے ملک کے مختلف شہروں کے بعد طے شدہ شیڈول کا آخری جلسہ ہے،اس کے بعد اپوزیشن اتحاد اپنے مقصد کے حصول کے لئے دیگر سیاسی طریقوں پر عمل پیرا ہو گا ۔ ان دیگر سیاسی طریقوں میں حکومت کے خلاف اسلام آباد کی طرف ' لانگ مارچ' اور اسمبلیوں سے مشترکہ استعفوں کا ' پی ڈی ایم' کی طرف سے اعلان پہلے ہی کیا جا چکا ہے۔

گزشتہ روز ہی وزیر اعظم عمران خان حکومت نے شیخ رشید احمد کو وفاقی وزارت داخلہ کا عہدہ دیا ہے۔ اسی دوران حکومت کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان،مریم نواز اور بلاول سمیٹ ' پی ڈی ایم ' کے چند رہنمائوں کے خلاف دہشت گردو ں کا حملہ ہو سکتا ہے۔حکومت کی طرف سے '' تھریٹ الرٹ'' جاری کئے جانے والوں مسلم لیگ (ن) کے میں خواجہ سعد فیق اور ایاز صادق کے نام بھی شامل ہیں اور اس سے پہلے مسلم لیگ (ن) کے رانا ثناء اللہ کے حوالے سے بھی '' تھرٹ الرٹ'' جاری کی گئی تھی۔ان تمام رہنمائوں کو اس سلسلے میں تحریری مراسلے بھی جاری کئے گئے ہیں۔صوبہ پنجاب کے وزیر برائے قانون پنجاب راجہ بشارت نے کہا ہے کہ'پی ڈی ایم' کے لاہور جلسے کی سیکیورٹی سے متعلق نیشنل کائو نٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا)اور دیگر اداروں کی طرف سے الرٹ ہے جس سے 'پی ڈی ایم 'کی قیادت کو آگاہ کردیا گیا ہے، نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی ہدایات کی روشنی میں پی ڈی ایم کو جلسے کی اجازت نہیں دی۔صوبائی وزیر قانون نے کہا کہ سیاسی کارکنان کی گرفتاریوں کا پروپیگنڈا بے بنیاد ہے، اپوزیشن تصادم چاہتی ہے لیکن حکومت یہ موقع فراہم نہیں کرے گی جبکہ قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی۔وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار نے کہا ہے کہ کورونا کے بڑھتے کیسوں کے دوران جلسہ کرناکسی طور پر مناسب نہیں، اپوزیشن عوام کی جانوں سے نہ کھیلے، اجازت کے بغیر جو بھی جلسہ کریگا اس کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی کریں گے، دہشت گردی کے ممکنہ واقعات کی اطلاعات بھی ہیں، ایسے میں جلسہ جلسہ کھیلنا عوام اور ملک کیلیے نقصان دہ ہوسکتا ہے۔ حکومت نے' پی ڈی ایم 'کو لاہور میں جلسہ کرنے اجازت نہیں دی گئی ہے تاہم حکومت کی طرف سے شرکا ء کو روکنے کیلئے کہیں کوئی سرگرمی بھی نظر نہیں آ رہی، نہ سڑکوں پر کہیں کنٹینر لگائے گئے ہیں اور نہ ہی کوئی دوسری رکاوٹ ڈالی گئی ہے۔حکومتی ترجمانوں کا کہناہے کہ کورونا ضابطہ کار (ایس او پیز)کی قانون کی خلاف ورزی کی گئی تو قانون حرکت میں آئے گا۔

رات کے وقت مینار پاکستان کے میدان میں دن کے وقت ہونے والے جلسے کی تیاریاں جاری ہیں، مینارِ پاکستان کی سیڑھیوں میں اسٹیج تیار کیا جا رہا ہے جبکہ سامنے گرانڈ میں کرسیاں لگائی جا رہی ہیں، جلسے کیلئے جنریٹرز اور لائٹس بھی نصب کر دی گئی ہیں اور سانڈ سسٹم بھی لگایا جا رہا ہے۔مینارِ پاکستان کے میدان میں مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکن بھی جھنڈے اٹھائے آرہے ہیں اور نعرے بازی بسے ماحول کو گرما رہے ہیں۔مریم نواز نے رات کے وقت جلسہ گاہ کا دورہ رکرتے ہوئے انتظامات کا جائزہ لیا۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ حکومت کی جانب سے جلسے میں رکاوٹیں ڈالی گئیں، رکاوٹیں ڈالنا حکومت کے خوف کی نشانی ہے، کل تاریخی جلسہ ہوگا، میں اور بلاول بھٹو اکھٹے جلسے میں آئیں گے،میں اور بلاول ایک ساتھ جلسہ گاہ آئیں گے، عوام ہرصورت مینار پاکستان پہنچ کر حکومت کو آخری دھکا دیں۔

عمومی طور پر توقع کی جا رہی ہے کہ لاہور کے جلسے میں عوام کی بھر پور شرکت اور ' پی ڈی ایم ' کے مرکزی رہنمائوں کے خطابات سے حکومت کے خلاف دبائو میں مزید اضافہ ہو گا،حکومت اور فوج کے ساتھ ' پی ڈی ایم' کی بات چیت،رابطوں کے نہ ہونے سے ملک میں اقتدار اور حاکمیت کے تعین کی کشمکش مزید تیز اور فیصلہ کن مراحل میں داخل ہوتے دکھائی دے رہی ہے۔ ' پی ڈی ایم ' کے اس سے پہلے جلسوں میں مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف نے خطابات نے ' پی ڈی ایم' کے مقاصد کے حصول میں کوشش کو متحرک اور موثر بنانے میں بنیادی کر دار ادا کیا ہے۔اس حوالے سے نواز شریف کے علاووہ بلاول بھٹو زرداری اور مولانا فضل الرحمان کی لاہور جلسے سے کی گئی تقاریر سے ' پی ڈی ایم ' کا اگلا لائحہ عمل اور جدوجہد کا بیانہ بھی سامنے آئے گا۔
واپس کریں