مسئلہ کشمیر محض اجاگر نہیں بلکہ رائے شماری میں حائل رکاوٹوں کے خاتمے کے اقدامات پر توجہ دی جائے،ڈاکٹر سید نذیر گیلانی
No image لندن ( کشیر رپورٹ) 'جموں و کشمیر کونسل فار پیومن رائٹس' کے سربراہ ڈاکٹر سید نذیر گیلانی نے ایک انٹرویو میں مسئلہ کشمیر سے متعلق انسانی حقوق کے عالمی آرگن، مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی ذمہ داریوں اور کردار، مسئلہ کشمیر کی درپیش ضروریات،حکومت آزاد کشمیر اور کشمیریوں کی رائے پر مبنی نہایت اہم گفتگو میں قابل غور اور عمل کی متقاضی عوامل کا بیان کیا ہے۔

ڈاکٹر سید نذیر گیلانی نے ویب ٹی وی ''ون وائس'' سے گفتگو میں کہا کہاقوام متحدہ کے رکن ارکان ان کے مہذب، معتبر ہونے کا، اور اچھے ممالک میں ان کے شمار کے لئے ضروری ہے کہ ان کا اپنا انسانی حقوق کا ریکارڈ کیا ہے،اسی لئے ہر ملک میں ایک نیشنل ہیومن رائٹس کا ایک ادارہ ہوتا ہے ،ہندوستان میں بھی ہے،پاکستان میں بھی ہے، ایران میں بھی ہے،اسی طرح دنیا کے تمام ممالک نے اپنے اپنے ملکوں میں انسانی حقوق سے متعلق ایک قومی ادارہ قائم کیا ہے،اچھے اور مہذب ممالک اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کمیشن میں جا رکر اپنی سالانہ رپورٹ پیش کرتے ہیں ہیومن رائٹس کونسل کے سامنے، ہیومن رائٹس کا اصول یہ ہے کہ '' ہیومن رائٹس فار آل ن نو دیم،ڈیمانڈ دیم ،ڈیفنڈ دیم'' اس میں کوئی امیتاز کوئی فرق نہیں ہے کہ یہ تمام نو انسانی کے لئے یہ حقوق ہیں،ان حقوق کو جاننا بہت ضروری ہے اور ان کو ڈیمانڈ کرنا ،ان کے حصول کے لئے جدوجہد کرنا اوران کو ڈیفنڈ کرنابہت ضروری ہے،اقوام متحدہ نے یونیورسل ڈیکلریشن آف ہیومن رائٹس میںایک بین الاقوامی اصول ہے کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی جس ملک میں ہو ،وہ اس ملک کا اندرونی معاملہ تسلیم نہیں کیا جاتا،پہلے اس پہ ایک ابہام تھا لیکن اب وضاحت کے ساتھ اس کی تشریح آئی ہے کہ دوسرے ممالک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی صورت اقوام عالم کی یہ ذمہ داری بنتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ہندوستان کے کسی شہر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے تو اقوام متحدہ اور رکن ممالک کی ذمہ داری ہے، پاکستان کی بھی ذمہ داری ہے ،پاکستان اقوام متحدہ کے ضابطوں کے تحت براہ راست ایکشن لے سکتا ہے،ہمارا مقصد زیادہ تر کشمیر کے ساتھ وابستہ ہے، کشمیر میں انسانی حقوق تین طرح کے ہیں ،انسانی حقوق تو صرف ایک طرح کے ہیں لیکن کشمیر کے عوام کو تین مدارج میں یعنی تین سطحوں پر ان کی گارنٹی دی گئی ہے،ایک اس وقت گارنٹی دی گئی جب ہندوستان نے عارضی طور ایک معاہدے کے تحت کچھ شرائط کے تحت اپنی افواج سرینگر میں داخل کیں لیکن اس سے پہلے اگست کے ہی مہینے میں سینتالیس میں پاکستان کا بھی ریاست جموں وکشمیر کی حکومت کے ساتھ ایک معاہدہ ہوا '' سٹینڈ سٹل ایگریمنٹ''، اس کے تحت بھی کچھ گارنٹی پاکستان کے ذمے آئیں،ہندوستان کے اس معاہدے کے علاوہ اقوام متحدہ نے اپنی قرار دادوں میں کشمیر کے حوالے سے کچھ حقوق کی وضاحت کے ساتھ تشریح کی ہے،پھر یونیورسل ڈیکلریشن آف ہیومن رائٹس آتا ہے،وہ تو ایک عالمی کور ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمیں ایک خاص حقوق اقوام متحدہ کی قرار دادوں میں ،21اپریل 1948 میں ہی کہ کشمیر کے تمام قیدیوں کو رہا کیا جائے کہ کہیں کشمیر کی حکومت نے تو نہیں کوئی قیدی رکھا ہوا ہے،کشمیر کی حکومت کا تذکرہ اس وقت اس لئے تھا کہ ہندوستان تو قید کر ہی نہیں سکتا تھا،تو یہ جو ہمیں ( کشمیریوں کو) گارنٹیز دی گئی ہیں اور ہندوستان نے ان گارینٹیز کی تابعداری کرنی ہے،یہ وہ مجموعی صورتحال ہے ۔

ڈاکٹر نذیر گیلانی نے کہا کہ کشمیر کی جب ہم باتیں کریں تو اس میں گارنٹیز کا ایک انبار لگا ہوا ہے لیکن ان گارنٹیز کا استعمال کرنا یا ہندوستان کو اس پر مجبور کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔پاکستان کشمیریوں کا وکیل بھی ہے اور اقوام متحدہ میں موجود ہے،یعنی پاکستان کو اپنے آپ کو ایسے مہذب،معتبر و موثر ملک کی حیثیت سے پیش کرنا ہے کہ کشمیر کے حوالے سے دنیا بھر میں پاکستان ان حوالوں سے معزز اور محترم سمجھا جائے،اسی طرح پاکستان کا ہندوستان کے ساتھ ایک باقاعدہ ایک تنازعہ رہتا ہے ۔ پاکستان میں آئین میں دیئے گئے حقوق ایک غریب آدمی کی دہلیز تک جانے چاہئیں،یعنی انسان ایک باعزت ،معتبر اور آزاد زندگی بسر کرسکے اور وہ آپ کے ساتھ اختلاف کر سکے،تا کہ مداخلت اور حق اختلاف انسانی معاشرے کی بنیاد ہے،جس ملک میں یہ حق معتبر ہے،اس کی عزت و توقیر ہے ،ا س ملک کا دنیا میں بڑا مقام ہہوتاہے،تا یہ پاکستان کے لئے بہت ضروری ہے ، پاکستان میں اس وقت معاشرہ دو حصوں میں بٹا ہوا ہے،حکومت اور حزب اختلاف ،حزب اختلاف کو کہتے ہیں ،گورنمنٹ ان ویٹنگ،وہ ایک طرح سے حکومت پر نگران ہوتے ہیں ،اس کے چوکیدار ہوتے ہیں ،اس کی غلطیوں کا محاسبہ کرتے ہیں اور عام انسان کی آواز کو حکومت کے سامنے پیش کرتے ہیں،جنہوں نے ابھی حکومت میں آنا ہے ، پاکستان کو دنیا کے اچھے ممالک میں لانا ہے،جہاں جمہوریت ،عدل ہو،جوآپ بیان کرتے ہیں اس کو عملی شکل دینی ہے۔

نذیر گیلانی نے کہا کہ آج تک ہم نے اپنی کشمیر کی کتاب کو بالکل نہیں کھولا ہے،وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے چند ہفتے قبل اپنی حکومت کی تائید میں کہا تھا کہ ہم نے کشمیر پر اچھے کام کئے اور یہ کہ ایک سابق حکومت نے فارن آفس میں کشمیر کے لفظ کے استعمال پر بھی پابندی لگائی تھی،انہوں نے ٹی وی پہ سب کے سامنے کہا کہ لفظ ' ک ' پر پابندی تھی،ابھی ہندوستان میں متعین رہ چکے پاکستان کے سابق سفارت کار عبدالباسط کی کتاب آ رہی ہے '' ہوسٹیلٹی'' ، اس میں ایک چیپٹر کے بارے میں انہوں نے کہا ہے کہ کشمیرکے بارے میں ایک چیپٹر میں کافی کچھ ہے۔کشمیر کے ساتھ بیوفائی کی گئی،ہمیں کہا گیا کچھ اور اندرون خانہ کچھ، جس بھی حکومت نے فارن آفس کو یہ ہدایت دی تھی کہ لفظ '' کے'' پر پابندی ہے یعنی اس کا استعمال نہ کریں ،کشمیر پر ہاتھ ہولا رکھیں،ایسا کرنے والے شرمسار ہوں گے، کشمیر کی وہ مائیں جنہوں نے تحریک کے لئے بچے دیئے،خاوند دیئے ،بھائی دیئے ،ایک لاکھ کی قربانی دی،عزت آبرو قربان کی ،ہندوستان کے ظلم کے سامنے نہتے بیٹھے ہیں ،اگر ان کو کوئی یہ سمجھائے کہ اسلام آباد میں تو لفظ کشمیر پر کسی حکومت نے پابندی بھی لگائی تھی،کشمیریوں کو تو ہندوستان نے ہفتوں ،ہفتوں قید کر کے بے آبرو کیا،ہم نہیں چاہتے کہ پاکستان کے لئے کوئی مجبوریاں ،مشکلات پیدا ہوں،ورنہ یہ بات معمولی نہیں کہ ہے آپ کشمیر پر ہاتھ ہولا رکھنے کا ایک سرکاری فیصلہ کریں،میں اسے غداری تو نہیں کہوں گا لیکن اس سے اور آپ بیوفائی اور ظلم کیا کر سکتے ہیں، غداری بھی کہیں تو ہو بھی ٹھیک ہے،زرداری سے کسی نے پوچھا کہ آپ کو دل تو نہیں ٹوٹا تو انہوں نے جواب دیا کہ میرا دل شیشے کا نہیں فولاد کا بنا ہوا ہے،کشمیریوں کے دل ٹوٹتے ہیں جڑتے ہیں کیونکہ ہم نے جدوجہد جاری رکھنی ہے،ہماری آنکھوں کے سامنے بہت کچھ ہو رہا ہے اور ہم دیکھ رہے ہیں،لکھ رہے ہیں،احتساب کر رہے ہیںدل میں،ایک وقت آئے گا کہ ہم کہیں گے کہ آپ ہاتھ ہولا ہی نہ رکھیں بلکہ ہاتھ ہی نہ رکھیں ،ہمیں تو ضرورت ہی نہیں ہے اس ہاتھ کی ، آپ اپنا ہاتھ اپنے پاس ہی رکھیں،ایسا وقت بھی آ سکتا ہے،جب ہمیں یہ پتہ چلے گا کہ کس حکومت نے کشمیر پر کہا تھا کہ اس پر کم بولا جائے ،ہاتھ ہولا رکھا جائے،تو ہم ان لوگو کو پاکستان کے عوام کے سامنے ،کشمیر کے عوام کے سامنے ، میں خود اقوام متحدہ میں ،ہیومن رائٹس کونسل میں اس بات کو اٹھائوں گا کہ فریق ہو کر انہوں نے یہ بیوفائی کی ہے،میرے اصول سے تو پاکستان بے شک فریق ہے لیکن قانون کے مطابق دنیا کے ایک سو ترانوے ممالک فریق ہیں،تو پھر ہم فردا فردا ان کے پاس جائیں گے ، جن لوگوں نے سیکورٹی کونسل میں ، مستقل و غیر مستقل ممبران نے کشمیر کی بحث کے دوران ہماری حمایت کی ہے ،پروگرام طے کیا ہے،رائے شماری کی تاریخ طے کی ہے ،رائے شماری کا منتظم مقرر کیا ہے ،فوجیں نکالنے کا آفیسر مقرر کیا ہے ،ہم ان کے پاس جائیں گے کہ آپ نے نیکی کی ہے لیکن آپ کی تمام نیکی دریا برد کر دی گئی،یہ معلوم کرنا ضروری ہے کہ وہ کون سے لوگ تھے جنہوں نے پاکستان میں کشمیر کو غیر اہم کیا،اب تو بلی تھیلے سے باہر آگئی ہے ،اب یہ ایک پبلک آرگومنٹ ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے ساتھ بات تبھی جمے گی کہ جب پاکستان ہمارے ( کشمیریوں ) کے ساتھ بیٹھ کر تیاری کرے،ڈائیلاگ کی تیاری کرے،تکلم کی تیاری کرے،کیس کی تیاری کرے، کیس کو دیکھے کہ پانچ اگست کے بعد کیا ہوا ،ہندوستان کہتا ہے کہ اس نے رائے شماری نہیں کرانی تو وہ تو ایک ملک ہے ،دنیا کے باقی ایک سو بیانوے ملک رہ جاتے ہیں،رائے شماری کی چابی ہندوستان ہی کے پاس تو نہیں ہے،رائے شماری کی چاپی تو اقوام متحدہ کے پاس ہے،اور اقوام متحدہ میں جانے کے طریقے ہیں۔دنیا میں جنگ جیتنے کے کئی راستے ہوتے ہیں،اس لئے یہ آپ بالکل بھی ذہن میں نہ رکھیں کہ ہندوستان رائے شماری ہونے نہیں دیتا ہے،اس لئے ہونے نہیں دیتا ہے کہ آپ کی نیت ہی ٹھیک نہیں ہے،اس لئے نہیں ہونے دیتا ہے کہ آپ کشمیر یوں کے ساتھ روز مرہ بیٹھ کر وہ پریشر ڈویلپ نہیں کررہے ہیں، اور اگر آپ دو چار پانچ کشمیریوں کو سرکاری کشمیری بنا کر گود میں لے کر پھریں گے ، کشمیر تو دوکروڑ لوگوں کا نام ہے،آپ نے ان تمام لوگوں کا احترام کرنا ہے،ہم پاکستان کے موقف کی دنیا کے ہر پلیٹ فارم پر تائید کرتے ہیں اور یہ خود اپنا موقف اے فور سائیز میں بند کیا موقف ، اور کہتے بھی ہیں کہ کشمیر پر مٹی پائو،اگر مٹی پڑ سکتی ہے،کبھی کہتے ہیں کہ بس دستخط ہی کرنے تھے،ہمارے ایک سابقہ وزیر خارجہ تو بڑے دبنگ ،بڑے دعوے کے ساتھ کہتے ہیں کہ بس دستخط ہونے رہ گئے تھے ،حریت بھی اس میں شامل تھی، اب آج حریت کدھر ہے؟کون سی حریت شامل تھی؟جن کشمیریوں نے زندگیاں کشمیر کے مسئلے کے لئے وقف کی ہیں انہیں تو کچھ نہیں پتہ۔

ڈاکٹر گیلانی نے کہا کہ حکومت آزاد کشمیر اگر کشمیر کے لئے بجٹ بھی نہ رکھے ،ہمیں پتہ ہی نہ ہو کہ وہ بجٹ ہے ،بنی کس لئے ہے وہ حکومت،حکومت پاکستان نے کس سمت میں جانا ہے،گلگت نے کیا مدد کرنی ہے ،سرینگر میں حکومت سے کیا مدد لینی ہے،سرینگر کی اسمبلی یہی کہے گی کہ کشمیریوں کی غالب اکثریت جہاں جائے گی ہم ان کے ساتھ ہیں،اور ڈائس پورہ،یعنی سرینگر میں بھی کشمیری ہے،مظفر آباد میں بھی ہے،گلگت میں بھی ہے،پاکستان میں پچیس لاکھ مہاجرین ہیں اور ڈائس پورہ ہے،ان تمام میں جو لوگ کشمیر پر کام کرتے ہیں ،ان کو بلا کر ان کو کہنا چاہئے کہ یہ ہے ہمارے سامنے یہ مشکلات ہیں ،آپ کے پاس کیا تجویز ہے کہ کیا کیا جائے،کشمیر پر پانچ اگست کے بعد ،کشمیر پر ٹیلی فون کیا ہو ،تقاریر کی ہوں،کشمیر کے عوام ،حق خود ارادیت کا آپ جنرل اسمبلی میں ذکر کریں یا نہ کریں ،یہ کوئی معنی نہیں رکھتا ،آپ اسلام آباد میں کشمیریوں کا کوئی کلچرل شو کریں یا نہ کریں ، اس کی کوئی اہمیت نہیں ،برطانیہ سے آپ ارکان پارلیمنٹ انوائٹ کریں ،ا س کی کوئی اہمیت نہیں ہے،اہمیت یہ ہے کہ مسئلہ کشمیر کہاں پہ رکا ہوا ہے،رکاوٹ کی وجوہات کیا ہیں،کیا وہ وجوہات ہندوستان کی طرف سے ہیں یا پاکستان کی طرف سے،اگر ہندوستان کی طرف سے تو اس کو ہٹانے کے طریقے خود اقوام متحدہ کی قرار دادوں میں موجود ہیں ، رائے شماری یکم نومبر پچاس کو مکمل ہونی تھی،مئی جون اڑتالیس پاکستان نے جو پرپوزل دیا تھا،برطانیہ نے جو دیا تھا اکتوبر اڑتالیس،لیکن اصل یو این نے جو کیا ،اپنے طور مجموعی طور ،وہ تھا یکم نومبر پچاس ،کشمیر کے مسئلے کو الجھایا نہ جائے ،یہ مسئلہ سادہ ہے کہ رائے شماری کا عمل ایک جگہ پہ رکا ہوا ہے،اگر دونوں ملک کشمیر سے فوج نہیں نکالتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ کشمیریوں کا حق خود ارادیت ہی نہیں ہے،یہ تو آج کے دور میں ہو ہی نہیں سکتا کہ ہندوستان کہے کہ میں تو فوج نکالوں گا ہی نہیں،ہندوستان نے کہا تھا کہ ہمیں اکیس ہزار فوج رکھنے کی اجازت دیں،اگر آزاد کشمیر میں فوج نہ ہو تو ہم مزید فوج کم کریں گے،چودا ہزار اور وہ چودا ہزار بھی ہتھیار نہیں رکھیں گے،یعنی نان آرمڈ فورس ،ہونا چاہئے تھا چودا ہزار فوج کا،ہماری غلطی ہماری غفلت اور علم نہ ہونے کی وجہ سے چودا ہزار کی جگہ ہندوستان کی آج نو لاکھ فوج ہے اورا س کے پاس وہ ہتھیار ہیں جو اسرائیل کے پاس بھی نہیں ہیں،بہت سی ایسی چیزیں ہیں جو کھلے عام نہیں کہی جا سکتیں،اس سے مشکلات ،غلط فہمیاں پیدا ہوں گی،لوگوں میں بدلی پیدا ہو گی، لیکن ایک ہی اصول ہے کہ جس نے مسئلہ کشمیر میں مدد کرنی ہے جہاں رکا ہوا ہے،رکاوٹ کو ختم کرنے کی کوشش تو کریں۔او آئی سی کا صدر رکاوٹ دور کرنے میں ہماری مدد کرے،برطانوی پارلیمنٹ ممبر حکومت سے کہے کہ کشمیرئوں کا حق خود ارادیت جہاں رکا ہے ،اس رکاوٹ کو دور کرنے میں ہماری( برطانوی) گونمنٹ کو پہل کرنی چاہئے،لیکن کیونکہ ہم خود پتہ نہیں ہے کشمیر کے کیس کا، کشمیر کے کیس کا، کشمیر کے نام پر اچھے کام بھی نہیں ہو رہے ہیں،صرف کشمیر کمیٹی بنانے سے اورچیئرمین کشمیرکمیٹی کے ساتھ کسی کشمیری کے چائے پینے سے کشمیر آزاد نہیں ہو گا،نہ کسی پروگرام میں صدارت کرنے سے،آپ نے پرو ایکٹیو،جاندار تحریک شروع کرنی ہے ،ان رکاوٹوں کو دور کرنا ہے جو رکاوٹیں ہیں۔

واپس کریں