ہندوستان کی جنگی تیاریاں،جنگی ساز و سامان کے ذخیرے اورجنگی بجٹ میں اضافہ
No image نئی دہلی ۔ہندوستان نے ایک ساتھ دو محاذوں پر جنگ لڑنے کیلئے درکار ہتھیار اور گولہ بارود کے ذخیرے میں اضافہ کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے تاکہ بیک وقت دو محاذوں پر قریب پندرہ دنوں تک جنگ لڑی جاسکے ۔ہندوستان نے ایک ساتھ دو محاذوں پر جنگ لڑنے کی صلاحیت کو بڑھارہا ہے جبکہ 15روز کے استعمال کا جنگی ہتھیاروں کا ذخیرہ جمع کرنے کی کارروائی شروع کردی ہے ۔ اطلاعات کے مطابق ہندوستان کے پاس 10دنوں تک جنگ لڑنے کیلئے درکار ہتھیار اور گولہ بارودکا ذخیرہ تھا تاہم اس میں مزید وسعت کرکے 15دنوں تک بڑھادیا گیا ہے ۔ سرکاری ذرائع کے مطابق ، کچھ عرصہ قبل دفاعی افواج کے لئے اسٹاک میں اضافے کے لئے اختیارات کو منظوری دی گئی تھی۔سرکاری ذرائع نے بتایا ہے کہ انڈین ڈیفنس فورس کے پاس پہلے دس دنوں تک ایک ساتھ دو محاذوں پر جنگ لڑنے کیلئے ذخیرہ موجود تھا تاہم ہند چین سرحدی کشیدگی کے بعد اس میں اضافہ کرنے کی سفارش کے بعد سرکار کی طرف سے اس تجویز کو منظور کرلیا گیا ہے اور ڈیفنس کو اختیار دیا گیا کہ وہ 15دنوںکے ذخیرہ کریں۔اس نئی پیش رفت سے ہندوستانی مسلح افواج کو ذخائر کا حجم بڑھانے میں مدد ملے گی اور ساتھ ہی دونوں محاذوں پر اسٹاک کی ضرورت کو متوازن کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ اعلی سرکاری ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ہتھیاروں کے ذخیرے میں اضافہ کیلئے ڈیفنس بجٹ کو بھی بڑھاکر 500کروڑ روپے کردیا گیا ہے جس کو حال ہی میں منظور کیا گیا ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ کچھ برسوں پہلے وزارت دفاع کو 40دنوں تک جنگی ہتھیار ذخیرہ کرنے کی ہدایت کی گئی تھی تاہم ہتھیاروں کو ذخیرہ کرنے کیلئے جگہ کی عدم دستیابی کے سبب اور اس کے علاوہ جنگی طرز عمل میں تبدیلی اس کو صرف 10-Iلیول کردیا گیا تھا ۔ذرائع نے بتایا ہے کہ اوڑی حملے کے بعد دفاعی ذخیرہ میں اضافہ کے سوالات اٹھے تھے اور اس سلسلے میں اس وقت کے وزیر دفاع منوہر پاریکر نے دفاعی بجٹ کو 100کروڑ روپے سے 500کروڑ روپے تک بڑھادیا تھا ۔ اس دوران ذرائع نے بتایا کہ بری ، بحری اور فضائی فوج کو 300کروڑ روپے کے ہنگامی طور پر ہتھیاروں کی خریداری کیلئے خرچ کرنے کا اختیار بھی دیا گیا ۔ ذرائع نے بتایا کہ ڈیفنس فورسز متعدد جنگی ہتھیاروں کی خریداری کررہے ہیں جن میں مزائل، سپیرس ، ہتھیار اور دیگر گولہ بارود شامل ہیں۔

واپس کریں