رئیس الاحرارچوہدری غلام عباس کی 53 ویں برسی ، مزار پہ منعقدہ تقریب میں آزاد کشمیر کے صدر اور وزیر اعظم سمیت متعدد شخصیات کی شرکت
No image اسلام آباد۔تحریک آزادی کشمیر کے ممتاز رہنما رئیس الاحرار چوہدری غلام عباس کی 53 ویں برسی جمعہ کے روز آزاد اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں اس عزم کے ساتھ منائی گئی کہ ریاست جموں و کشمیر کے عوام بھارت کو کشمیریوں کی زمین ہتھیانے اور ریاست کی مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کے ناپاک منصوبے کا پوری طاقت سے مقابلہ کر کے ناکام بنائیں گے اور اپنی آزادی اور حق خود ارادیت کی تحریک کو اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک ریاست کا ایک ایک انچ غیر ملکی قبضہ سے آزاد ہو کر کر ریاست کے عوام کی مرضی و منشا سے پاکستان کا حصہ بنا کر چوہدری غلام عباس کے مشن کی تکمیل نہیں ہو جاتی۔
رئیس الاحرار کے یوم وفات کے حوالے سے سب سے بڑی دعائیہ تقریب مرحوم قائد کے مزار واقع فیض آباد راولپنڈی میں ہوئی جس میں صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان، وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان، آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے قائد اور سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان، مسلم کانفرنس کے صدر شفیق جرال، ریاستی کابینہ کے اراکین، جماعت اسلامی کے رہنما اور قانون ساز اسمبلی کی مجلس حسابات کے چیئرمین عبدالرشید ترابی، قانون ساز اسمبلی کے اراکین کے علاوہ مسلم لیگ(ن)مسلم کانفرنس اور دیگر سیاسی جماعتوں کے کارکنوں اور رہنمائوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ ریئس الاحرار چوہدری غلام عباس کے مزار پر پولیس کے چاک و چو بند دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا جبکہ مرحوم چوہدری غلام عباس کی روح کے ایصال ثواب کے لیے قرآن خوانی کی گئی۔
ریئس الاحرار چوہدری غلام عباس کی برسی میں شرکت کے بعد صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں صدر آزاد کشمیر نے ریئس الاحرار چوہدری غلام عباس کی تحریک آزادی کے لیے خدمات پر انہیں شاندار خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر میں ایک جارح اور ناجائز قابض ملک کی حیثیت سے موجود ہے جس کا کشمیر کی دھرتی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ کشمیر کشمیریوں کی ملکیت ہے جس سے وہ کبھی دستبردار نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ایک سامراجی منصوبے کے تحت کشمیر کو اپنی نو آبادی میں تبدیل کرنا چاہتا ہے جسے کسی صورت میں کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ بھارت صرف کشمیریوں کی زمین کے درپے نہیں بلکہ وہ بی جے پی اور آر ایس ایس کے ہندو توا نظریے کی تکمیل کے لیے کشمیریوں کو ان کی زبان اور کلچر سے محروم کرنا چاہتا ہے اور بھارت کے یہ اقدامات نو آبادیاتی نظام کی بدترین شکل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح اسرائیل فلسطینیوں کی زمین پر قابض ہو کر نہ صرف ان کے بچوں کو ذبح کر رہا ہے بلکہ وہ فلسطینیوں کی بچی کھچی زمین پر کھیتوں، کھلیانوں اور زیتون کے باغات کو بھی تباہ کر رہا ہے اسی طرح بھارت کشمیر میں ہر اس علامت کو مٹانا چاہتا ہے جس کا کشمیر کے مسلمانوں کی معاشی، سیاسی، مذہبی اور ثقافتی زندگی سے ہے۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ ہمیں کشمیر پر بھارتی قبضہ پر کسی قسم کے معذرت خواہانہ اور گریز کی پالیسی اختیار کیے بغیر جارح قابض کو متنبہ کرنا چاہیے کہ اس کا قبضہ زیادہ قائم نہیں رہ سکتا اور وہ دن دور نہیں جب مقبوضہ ریاست کا قریہ قریہ صنو آزادی سے منور ہو گا۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ بھارت گزشتہ 73 سال سے کشمیر پر ناجائز طور پر قابض ہے۔ بھارت کی ہر حکومت نے کشمیریوں کے دل و دماغ جیتنے کے لیے جہاں ظلم و ستم کا ہر حربہ آزمایا وہاں مال و دولت سے ان کے ضمیر خرید کر آزادی کا راستہ چھوڑنے غلامی کو قبول کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی لیکن آفرین ہے کشمیری قوم پر جس نے سامراج کی ہر پیشکش کو پائے حقارت سے ٹھکرا کر اپنے لیے آزادی اور وقار کا راستہ چنا اور وہ آج بھی پوری جرات اور استقامت کے ساتھ اس راستے پر گامزن ہیں۔ لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی مسلسل گولہ باری اور نہتے شہریوں اور ان کی املاک کو نقصان پہنچانے کا تذکرہ کرتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ بھارت کے حکمران بھارت کے اندرونی حالات اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں اپنی فوج کے مظالم اور انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے ایل او سی پر کشیدگی اور جنگی ماحول پیدا کر رہے ہیں جس کا اقوام متحدہ اور عالمی برادری کو نوٹس لینا چاہیے۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ بھارت بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو بدنام کرنے اور کشمیریوں کی تحریک آزادی کے حوالے سے اپنے جھوٹے بیانیہ کو فروغ دینے کے لیے ایک عرصے سے سازشوں کا ایک جال بن رہا تھا جو اب ڈس انفارمیشن نیٹ ورک کے نام سے بے نقاب ہو چکا ہے۔


واپس کریں