ہندوستانی فوج کی اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین کو ہلاک کرنے کی ناکام کوشش، پاکستان کی شدید مذمت ،وزیر اعظم آزاد کشمیر کا مسئلہ کشمیر حل کرانے کا مطالبہ
No image اسلام آباد( کشیر رپورٹ)ہندوستانی فوج نے آج کشمیر کو غیر فطری اور کشمیریوں کو جبری طور پر تقسیم کرنے والی سیز فائر لائین( لائین آف کنٹرول)سے آزاد کشمیر کے چڑی کوٹ سیکٹر میں اقوام متحدہ کی متعین فوج مبصرین کو ہلاک کرنے کے لئے ان کی گاڑی پر سنائپر فائرنگ کی تاہم وہ بال بال محفوظ رہے، پاک فوج نے فوری کاروائی کرتے ہوئے انہیں وہاں سے بحفاظت نکال لیا۔ ہندوستانی فوج کی اس سنگین جارحیت پر وزارت خارجہ اور افواج پاکستان کے ترجمان نے بیانات جاری کئے ہیں۔وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان نے اس واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اس سنگین واقعہ کا سخت نوٹس لیتے ہوئے کشمیر کے دیرینہ مسئلے کو حل کرنے کے لئے اپنا موثر کردار ادا کرنا چاہئے۔
پاکستان نے سلامتی کونسل کی طرف سے کشمیر کی سیز فائر لائین ( لائین آف کنٹرول) کی صورتحال پر نظر رکھنے کے لئے اقوام متحدہ کے ملٹری آبزرور گروپ برائے انڈیا و پاکستان کے فوجی مبصرین کو ہندوستانی فوج کی طرف سے خاص طور پر نشانہ بناتے ہوئے فائرنگ کے واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے ہندوستان کے اس طرز عمل کو کم درجے کی حرکت قرار دیا ہے۔وزارت خارجہ نے ترجمان نے ہفتہ کو معمول کی پریس بریفنگ میں بتایا کہ اقوا م متحدہ کی فوجی مبصرین کی گاڑی پر ہندوستانی فوج کی فائرنگ کا واقعہ آزاد جموں وکشمیر کے چڑی کوٹ سیکٹر میں صبح دس بجے پیش آیاْ۔ اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین ہندوستانی فوج کی فائرنگ سے متاثرین لوگوں سے ملنے کے لئے پولس گائوں جا رہے تھے۔ترجمان نے بتایا کہ ہندوستانی فوج کی فائرنگ سے اقوام متحدہ کی گاڑی کونقصان پہنچا تاہم فوجی مبصرین کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
ڈی جی' آئی ایس پی آر ' نے اپنے بیان میں کہا کہ ہندوستانی فوج نے لائین آف کنٹرول کے چڑی کوٹ سیکٹر میں بلا اشتعال فائرنگ کی،ہندوستانی فوجیوں نے جان بوجھ کر اقوام متحدہ کے دو فوجی مبصرین کی گاڑی کو نشانہ بنایا جو کنٹرول لائین پر فائرنگ سے متاثرہ افراد سے ملنے کے لئے پولس گائوں جا رہے تھے۔ترجمان افواج پاکستان نے کہا کہ ہندوستانی فوج نے آزاد کشمیر کے شہریوں کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کی امن فورس کو نشانہ بناتے ہوئے تمام بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی خلاف ورزی کی ہے اور ہندوستانی فوج بدستور اس طرح کی غیر قانونی حرکتیں کرتے ہوئے اپنے ناپاک عزائم ظاہر کرتی ہے۔ہندوستان اقوام متحدہ کے چارٹر میں درج اصولوں کی نظر انداز کر رہا ہے اور یہ ہندوستانی فوج کی پستی کا ایک اظہار ہے ۔ڈی جی ' آئی ایس پی آر' نے کہا کہ پاک فوج اقوام متحدہ کے ملٹری آبزرور گروپ انڈیا پاکستان(UNMOGIP)کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے اور اقوام متحدہ کے مینڈیٹ کے تحت اپنے فرائض کی انجام دہی کے لئے ان کے ساتھ کھڑی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاک فوج ' UNMOGIP ' کے تمام ارکان کی بے لوث خدمات کی تعریف کرتا ہے۔
ہندوستانی فوج کی طرف سے اقوام متحدہ کی فوجی مبصرین کو خاص طور پر نشانہ بناتے ہوئے فائرنگ کرنے کے واقعہ پر پاک فوج نے فوری کاروائی کرتے ہوئے فوجی مبصرین کو حفاظت سے وہاں سے نکال کر راولاکوٹ میں ' UNMOGIP ' کے فیلڈ اسٹیشن واپس لایا گیا۔ہندوستانی فوج کی فائرنگ کا نشانہ بننے والی اقوا م متحدہ کی گاڑی کی تصاویر سے دیکھا جا سکتا ہے کہ ہندوستانی فوجیوں نے اقوام متحدہ کی گاڑی کو سنائپر فائرنگ سے نشانہ بنایا۔گاڑی شیشوں اور گاڑی پر لگنے والی گولیوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستانی فوجیوں نے اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین کو ہلاک کرنے کی پوری کوشش کی۔ ہندوستانی فوج کے سنائپر نے اقوام متحدہ کی گاڑی کے فیول ٹینک کو بھی نشانہ بنایا۔ ہندوستانی فوج کی مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر کے شہریوں کے خلاف جارحیت کا اقوام متحدہ کو سخت نوٹس لینا چاہئے۔سلامتی کونسل کے مستقل ارکان، عالمی اداروں سمیت دنیا کے اہم ملکوں سے بھی پاکستان حکومت کو رابطہ کرتے ہوئے سرگرم سفارتی مہم شروع کئے جانے کی ضرورت ہے۔
وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان نے کہا کہ ہندوستانی کی وحشی فوج خونی تقسیم( ایل او سی) کے پار سے ہمیشہ بلااشتعال فائرنگ کرتے ہوئے آزاد کشمیر کے شہریوں کو نشانہ بناتی ہے ۔وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان نے ' ٹوئٹر' پہ اپنے بیان میں کہا کہ ہندوستانی فوج کی طرف سے اقوا م متحدہ کے فوجی مبصرین کو نشانہ بنانے کے لئے فائرنگ کا واقعہ انتہائی قابل مذمت ہے ،ہندوستانی فوج کے اس اقدام کا اقوام متحدہ کو سخت نوٹس لینا چاہئے اور کشمیر کے دیرینہ مسئلے کو حل کرانے کے لئے اپنا موثر کردار ادا کرنا چاہئے۔

واپس کریں