ہندوستانی فوج کے ہاتھوں جعلی مقابلے میں تین کشمیری نوجوانوں کا قتل،مقتول نوجوانوں کے گھر والوں کا مظاہرہ
No image سری نگر کے نواحی علاقے میں ہندوستانی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں شہیدہونے والے تین کشمیری نوجوانوں کے اہل خانہ نے بدھ کے روزہندوستانی فوج کے خلاف مظاہرہ کیا ۔انہوں نے کہا کہ ہندوستانی فورسز کے ہاتھوں قتل کئے گئے نوجوانوں کا تعلق کسی عسکری تنظیم سے نہیں تھا اور انہیں ہندوستانی فوجیوں نے جعلی مقابلے میں قتل کیا ہے۔ہندوستانی پولیس اور فوج نے دعوی کیا کہ یہ تینوں عسکریت پسند تھے جنہوں نے گذشتہ شام سے ہونے والی فائرنگ کے دوران ہتھیار ڈالنے سے انکار کردیا تھا۔
مظاہرین میں شامل پلوامہ کے ایک گائوں کے رہائشی بشیر احمد گنائی نے کہا کہ میرے پوتا مقبول طالب علم تھا، اس نے کل صبح دس بجے میرے ساتھ چائے پی، اسے پبلک سروس گاڑی سے اتارکر فورسز ساتھ لے گئے تھے۔انہوں نے کہا کہ فورسز کے ہاتھوں قتل کیا جانے والے نوجوان مقبول کا والد پولیس میں ہے اور گاندربل میں ڈیوٹی کر رہا ہے۔انہوںنے مزید کہا کہ ہندوستانی فورسز ہمارے گھر آ کر سب کو قتل کر دیں۔ہندوستانی فورسز کے ہاتھوں قتل کئے جانے والے شوپیاں کے دوسرے نوجوان اطہر مشتاق وانی کے اہل خانہ نے کہا کہ اطہر مشتاق وانی گیا رھویں جماعت کا طالب علم تھا ۔پلوامہ کے لکڑی کا کام کرنے والے تیسرے نوجوان زبیر احمد لون کے اہل خانہ نے بھی کہا کہ ان کا بیٹا بے گناہ تھا اور اسے فورسز نے جعلی مقابلے میں ہلاک کیا ہے۔
واپس کریں