ہندوستان کے انتہا پسند وزیر اعظم مودی نے پورے خطے کے امن کو دائو پر لگا دیا ہے، وزیر اعظم آزاد کشمیرراجہ فاروق حیدر خان
No image اسلام آباد ۔ وزیر اعظم آزاد جموں وکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ اکیسویں صدی کی دوسری دہائی بھی گزر گئی لیکن مقبوضہ کشمیر میں ہندوستانی مظالم تھم نہ سکے، اقوام متحدہ اور دیگر عالمی ادارے بھی ہندوستان کے مظالم نہیں رکوا سکے۔گزشتہ سال بھی کشمیریوں پر قہربن کر ٹوٹا،2020 میں ہندوستان کی فوج نے 263 سے زائد بے گناہ کشمیریوں کو شہید کیا جبکہ ہزار سے زائد گھروں و املاک کو تباہ کیا گیا یا آگ لگا دی گئی،58 خواتین کی آبروریزی کی گئی جبکہ ہزاروں معصوم شہریوں کو کالے قوانین کے تحت پابند سلاسل کرکے ان پر مظالم کی انتہا کی گئی،ہزاروں کشمیریوں کو گولیوں اور پیلٹ گن سے زخمی کیا گیا، حریت رہنمائوں کو عقوبت خانوں میں رکھ کر مظالم ڈھائے گئے جبکہ سیز فائر لائن پر بھی ہندوستانی جارحیت سے آزاد کشمیر کے شہری بچ نہ سکے۔ اقوام متحدہ بیانات کے بجائے عملی اقدام نہ اٹھا سکی۔مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کو بھی اپنی مرضی کے مطابق زندہ رہنے کا حق ہے جس کو مسلسل گولی اور بندوق سے چھینا جارہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سینئر وزیر چوہدری طارق فاروق، وزیر صحت ڈاکٹر نجیب نقی اور وزیر حکومت ناصر ڈار سے گفتگو کرتے ہوئے کیا جنہوں نے جموں و کشمیر ہائوس میں وزیر اعظم سے ملاقات کی۔ وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر نے کہا کہ سال 2020 بھی گزر گیا لیکن کشمیریوں کے جذبے میں تنکے برابر کمی نہیں، ان کے پائیہ استقلال کو سلام پیش کرتے ہیں کہ جس جذبے اور ہمت کے ساتھ وہ انسانی تاریخ کے بدترین مظالم کا مقابلہ کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کشمیریوں کا قتل عام کرنے میں مصروف عمل ہے لیکن اقوام متحدہ اور دیگر عالمی ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں، اقوام متحدہ سے عملی اقدامات کی توقع کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے انتہا پسند وزیر اعظم مودی نے پورے خطے کے امن کو دائو پر لگا دیا ہے، اگر مودی کے عزائم کو روکا نہ گیا تو پوری دنیا تک اس کے اثرات جائیں گے، مودی منصوبہ بندی کے تحت کشمیریوں کی نسل کشی کررہا ہے جس کا دنیا کے مہذب ممالک کو نوٹس لینا ہوگا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی قراردادوں کو 70 سال ہو گزر گئے ہیں لیکن ان پر عملدرآمد نہ ہونا اقوام متحدہ کے دوہرے معیار کا عکاس ہے۔

وزیراعظم آزادکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان کی زیر صدارت خوراک کے حوالے سے اعلی سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں وزیر صحت و خزانہ ڈاکٹر محمد نجیب خان وزیر خوراک سید شوکت علی شاہ،چیف سیکرٹری ڈاکٹر شہزاد خان بنگش،سیکرٹری مالیات عصمت اللہ شاہ، پرنسپل سیکرٹری،سیکرٹری خوراک نے شرکت کی۔اجلاس میں آزادکشمیر میں اشیا خوردو نوش کی بروقت فراہمی اور حکومت کی جانب سے مختلف مدات میں دی جانے والی سبسڈیز بھی زیر غور لائی گئیں اور فیصلہ کیا گیا کہ اس کے براہ راست ثمرات متوسط اور غریب عوام تک پہنچانے کے لیے حکومت عملی اقدامات اٹھائے گی۔وزیراعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر خان نے اس موقع پر ہدایت کی کہ آزادکشمیر بھر میں غذائی ضروریات پوری کرنے بالخصوص بالائی علاقوں میں جہاں موسمی شدت کے باعث زمینی راستے بند رہتے ہیں میں فراہمی و وافر مقدار میں سٹاک کی موجودگی یقینی بنائی جائے۔ اجلاس میں بیرون ملک سے امپورٹڈ گندم کی خریداری اور اس پر آنے والی لاگت کے نتیجے میں مارکیٹ میں قیمتوں میں ہونے والے متوقع اتارچڑھا اور اس کے اثرات کا جائزہ لیا گیا وزیراعظم آزادکشمیر نے ہدایت کی کہ اس کا اثر کسی صورت عوام پر نہیں پڑنا چاہیے حکومت اپنے وسائل کے اندر رہتے ہوئے سبسڈی دے رہی ہے اور مزید بھی دیگی۔


واپس کریں