مسئلہ کشمیر پر پاکستان انتظامیہ کی سفارتی کوششیں ناکافی ہیں، کشمیریوں سے مشاورت نظر انداز کی جار ہی ہے۔
No image اسلام آباد( کشیر رپورٹ) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ہندوستان کے غیر قانونی قبضے والے جموں وکشمیر کی صورتحال کے حوالے سے پاکستان اپنی کوششیں بھر پور طور پر جاری رکھے گا۔وزارت خارجہ نے اتوار کو ایک بیان میں کہا کہ ہندوستانی مقبوضہ جموں وکشمیرمیں صورت حال کے قانونی ، انسان دوست اور امن اور سلامتی کے پہلوں کو اجاگر کرنے کے لئے پاکستان کی بھر پور کوششیں جاری رہیں گی۔
وزارت خارجہ کے اس بیان کے ساتھ پاکستان کی سفارتی کوششوں کے حوالے سے سات نکات بیان کئے ہیں۔ہندوستانی مقبوضہ جموں و کشمیر کے حوالے سے پاکستان کی کوششوں کا تذکرہ کرتے ہوئے وزارت خارجہ نے کہا کہ اقوام متحدہ،ہیومن رائٹس کونسل، آر گنائیزیشن آف اسلامک کنٹریز اور انٹر پارلیمنٹری یونین سے رابطے کئے گئے،5اگست2019کے بعد تین مرتبہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں کشمیر پر غور و خوض کیا گیا، اقوام متحدہ کی سیکر ٹری جنرل نے اپنے پاکستان کے دورے کے موقع پر گہری تشویش کا اظہار کیا،5اگست2019کے بعداو آئی سی کے جموں و کشمیر پر کنٹیکٹ گروپ کے تین اجلاس،برطانیہ کے آ ل پارٹی پارلیمانی کشمیر گروپ کا پاکستان اور آزاد کشمیر کا دورہ، امریکی کانگریس کی خارجہ امور کمیٹی کا ہندوستانی وزیر خارجہ کو خط، او آئی سی کے 47ویں وزرائے خارجہ اجلاس میں حمایت کا اعادہ کیا گیا۔
وزارت خارجہ نے مقبوضہ جموں وکشمیر میں ہندوستان کی ظالمانہ اور جارحانہ حکمت عملی اور مسئلہ کشمیر سے متعلق پاکستان کی سفارتی کوششوں کے جن امور کا تذکرہ کیا ہے،وہ اطمینان بخش نہیں ہیں کیونکہ ان سفارتی کوششوں سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ مقبوضہ کشمیر میں ہندوستان کی جنگی جارحیت اور مسئلہ کشمیر سے متعلق ہندوستان کی ہٹ دھرمی کی صورتحال کو پاکستان انتظامیہ اپنے لئے خطرناک تصور کرتی ہے اور اس مسئلے کو اولین ترجیح د ی جا رہی ہے۔یہ سفارتی امور کوششوں کو تو ظاہر کرتے ہیں لیکن یہ کوششیں ناکافی اور غیر موثر ہیں اور ایک معمول کی صورتحال پیش کرتے ہیں اور پاکستان انتظامیہ کی ان سفارتی کوششوں سے یہ بالکل بھی ظاہر نہیں ہوتا کہ ہندوستان کے کشمیر سے متعلق فیصلہ کن اقدامات پر پاکستان کی طرف سے ہنگامی نوعیت کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔
پاکستان انتظامیہ کی طرف سے مسئلہ کشمیر سے متعلق اپنی کوششیں جاری رکھنے کی بات اسی طرح معلوم ہوتی ہے کہ جیسے سابق آمر حکمران جنرل پرویز مشرف نے مسئلہ کشمیر پر پسپائی کے اقدامات اٹھائے تھے اور اس وقت بھی وزارت خارجہ کا بیان یہی تھا کہ کشمیر سے متعلق پاکستان کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے ۔ساتھ ہی یہ امر تعجب انگیز اور افسوسناک ہے کہ پاکستان انتظامیہ کی طرف سے کشمیریوں سے مشاورت کو غیر ضروری تصور کیا جاتا ہے اور ہندوستان سے آزادی کی جدوجہد کرنے والے کشمیریوں سے مشاورت کا فائدہ مند عمل کرنے کے بجائے کشمیریوں کی تجاویز اور موقف کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔اتنا ہی نہیں بلکہ موجودہ وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے آزاد کشمیر حکومت اور کشمیری جماعتوں کو مقبوضہ جموں وکشمیر سے متعلق ہندوستان کے جارحانہ اقدامات کے تناظر میں سیاسی کوششوں سے بھی روک دیا گیا۔

واپس کریں