وزیر اعظم عمران خان کے کشمیر پر بیان اپنا مطلب کھو بیٹھے ہیں،سابق سینئر سفارت کار عبدالباسط کی عمران خان حکومت کی کشمیر پالیسی پر گہری تشویش
No image اسلام آباد(کشیر رپورٹ) پاکستان کے سابق سینئر سفارت کار عبدالباسط نے 5 جنوری کے موقع پر وزیر اعظم عمران خان کے بیان کو بے معنی قرار دیا ہے اور کشمیر سے متعلق وزیر اعظم عمران خان حکومت کی کوششوں کو ناکافی قرار دیتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے 5 جنوری 1949 کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے کمیشن برائے انڈیاپاکستان کی قرار داد کے حوالے سے ایک بیان میں کہا کہ ''پاکستان جدید تاریخ کے ایک انتہائی ظالمانہ ، غیر انسانی اور غیرقانونی قبضے سے ظلم و ستم سے آزادی کی جدوجہد میں کشمیری عوام کی آزادی کے ساتھ آزادی کی جدوجہد میں واضح طور پر ساتھ کھڑا ہے''۔
انڈیا میں متعین پاکستان کے سابق سینئر سفیر عبدالباسط نے وزیر اعظم عمران خان کے اس بیان کو بے مطلب قرار دیتے ہوئے عمران خان حکومت کی کشمیر پالیسی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ عبدالباسط نے وزیر اعظم عمران خان کے ٹوئٹ بیان کو شیئر کرتے ہوئے اپنے جوابی ٹوئٹ میں کہا ہے کہ
''مجھے افسوس ہے لیکن اس طرح کے بیانات اپنا مطلب کھو بیٹھے ہیں۔ 5 اگست 2019 کے بعد ہم نے جس طرح سے کشمیر کو سنبھالا تھا اس سے میں خوفزدہ ہوں''۔
پاکستان کے ایک سابق سینئر اور منجھے ہوئے سفارت کار کی طرف سے وزیر اعظم عمران خان کے کشمیر سے متعلق بیان پر سخت تنقید سے واضح ہوا ہے کہ عمران خان حکومت نے 5 اگست 2019 کو ہندوستانی حکومت کے کشمیر سے متعلق جارحانہ اقدام کے جواب میں کمزوری کا کھلا مظاہرہ کیا ہے اور کشمیر سے متعلق یہ صورتحال عوام کے لئے گہری تشویش کی حامل ہے۔
واپس کریں