مہاجرین جموں وکشمیر مقیم آزادکشمیر کی مستقل آباد کاری ، وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان کی زیر صدارت اجلاس
No image مظفرآباد۔ وزیراعظم آزادجموں وکشمیر راجہ فاروق حیدر خان کی زیر صدارت مہاجرین جموں و کشمیر مقیم آزادکشمیر 1989کی مستقل آبادکاری کے حوالے سے اعلی سطحی اجلاس۔اجلاس میں وزیر تعلیم بیرسٹر افتخار گیلانی،چیف سیکرٹری،سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو ممبر بورڈ آف ریونیو نے شرکت کی۔ اجلاس میں مہاجرین کی مستقل آبادکاری کے حوالے سے مختلف تجاویز پر غورکیا گیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر خان نے کہا کہ تحریک آزادی کشمیر میں اپنا گھر بار چھوڑ کر کر جذبات احساسات کی قربانی دینے والوں نے سنت نبوی کو تازہ کیا۔وزیر اعظم نے کہا کہ آزادکشمیر کی حکومت اور عوام ان لوگوں کی نہ صرف میزبان ہے بلکہ ان کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے جنہوں نے انتہائی نامساعد حالات میں تحریک آزادی کشمیر کے پرچم کو سربلند رکھا اور اسے سرنگوں نہیں ہونے دیا۔جب تک کشمیر آزادنہیں ہوتا اور کشمیر آزادہو کر پاکستان کا حصہ نہیں بن جاتا اس وقت تک ان کی مستقل آباد کاری کے لیے تمام تر لوازمات پورے کیے جائیں گے۔ان کو مالکانہ حقوق دینے کے ساتھ ساتھ ان کے روزگار اور ان کے ذرائع آمدن کے مستقل انتظام وانصرام کے لیے ورکنگ پلان تیار کیا جائے۔ وزیر اعظم آزادکشمیر نے کہا کہ جو مہاجرین آزادکشمیر کے مختلف علاقوں کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بھی آباد ہیں ان کے آبائی اضلاع کے حوالہ سے بھی ایک ڈیٹا بیس مرتب کیا جائے اس وقت تقریبا چوالیس ہزار سے زائد لوگ،تقریباساڑھے سات ہزار خاندانوں کے ساتھ رہائش پذیر ہیں۔وزیر اعظم آزادکشمیر نے کہا کہ ان کی حکومت نے اپنے بجٹ سے نہ صرف گزارہ الانس میں اضافہ کیا بلکہ پہلی مرتبہ کیمپوں کے اندر ترقیاتی اور تعمیراتی منصوبہ جات کے لیے بھی فنڈز مختص کیے۔ اب جب ان کی مستقل آباد کاری کا سلسلہ شروع ہوگا،ان کو مالکانہ حقوق ملیں گے تو وہاں ان کو حکومت مستقل بنیادوں پر ان کو تمام تر سہولیات مہیا کرنے کے لیے ضروری اقدامات اٹھائے گی۔
واپس کریں