لبریشن فرنٹ دھڑے بندی اور انتشار کا شکار
No image اسلام آباد (کشیر رپورٹ) امریکہ میں موجود لبریشن فرنٹ وابستہ افراد نے آزاد کشمیر و پاکستان میں یاسین ملک کے نمائندے رفیق ڈار کی طرف سے آزاد کشمیر و بیرون ممالک تنظیمیں معطل کرنے کے اقدام کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے یاسین ملک کی رہائی تک لبریشن فرنٹ کی قیادت امریکہ،یورپ میں قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ امریکہ میں لبریشن فرنٹ کے راجہ مظفر،الطاف قادری اور انجینئر فاروق صدیق کی طر ف سے اس اعلان بغاوت کے ساتھ ہی رفیق ڈار پر پاکستان اسٹیبلشمنٹ سے رابطے رکھنے کو ایک الزام کی طرح پیش کیا گیا ہے۔الم بغاوت بلند کرنے والے اصحاب کا موقف ہے کہ رفیق ڈار نے یاسین ملک کے علم میں لائے بغیر ازخود تنظیمیں معطل کرنے کا اعلان کیا اور یاسین ملک کو ایوارڈ دیئے جانے پر بھی یاسین ملک کی رضامندی دریافت نہیں کی گئی۔ یاسین ملک کے وکیل راجہ طفیل نے بھی ان اصحاب کی ان باتوں کی تصدیق کی ہے۔امریکہ میں قائم ایک نیوز ویب '' جاگو ٹائمز'' نے اپنی ایک خبر میں لبریشن فرنٹ کی اس صورتحال کو بیان کیا ہے۔
بنیادی حقیقت یہی ہے کہ لبریشن فرنٹ کی حیثیت و اہمیت ہندوستانی مقبوضہ جموں وکشمیر کے حوالے سے ہی ہے۔ خبر سے یہ واضح تاثر دیا گیا ہے کہ یاسین ملک اور ہندوستانی مقبوضہ جموں وکشمیر کی لبریشن فرنٹ کی نفی کرتے ہوئے یورپ، امریکہ میں مرکزی قیادت کے طور پر لبریشن فرنٹ قائم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، لیکن حقیقت یہی ہے کہ ہندوستانی مقبوضہ جموں وکشمیر کے باہر بیٹھے افراد میں لبریشن فرنٹ کی مرکزیت،قیادت قائم نہیں ہو سکتی اور ایسا کرنا بے معنی اور بے اثر ہی رہے گا۔'جاگو ٹائمز' کی اس خبر سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آزادکشمیر میں لبریشن فرنٹ کے مظاہرے ختم کرنے کا الزام لگاتے ہوئے ، مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے لبریشن فرنٹ کے دوسینئر نمائندگان پر عدم اعتماد کیا جا رہا ہے اور ان کی طرف سے آزاد کشمیر ، برطانیہ، یورپ،امریکہ، مشرق وسطی کے تمام زون اور تنظیمیں معطل کئے جانے کے فیصلے کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے ،ردعمل میں ایسا کیا جا رہا ہے۔کیا یورپ ، امریکہ میں موجود لبریشن فرنٹ سے منسلک افراد لبریشن فرنٹ میں مزید دھڑے بندیاں پیدا کرنے کے اقدامات کر رہے ہیں؟اس معاملے کا ایک نمایاں پہلو یہ بھی ہے کہ لبریشن فرنٹ میں خرابیاں اور خامیاں بڑہتی جا رہی ہیں اور انتشار نمایاں ہو رہا ہے۔امریکہ میں سرینگر سے تعلق رکھنے والے لبریشن فرنٹ کے ان اصحاب اور یاسین ملک کے وکیل کے موقف کی روشنی میں وضاحت کی ذمہ داری رفیق ڈار پر عائید ہوتی ہے کہ وہ تنظیمیں تحلیل کرنے اور یاسین ملک کو دیئے جانے والے ایوارڈ سے متعلق اپنے فیصلوں کا جواز پیش کریں۔
' جاگو ٹائمز' کی اس خبر میں کہا گیا ہے کہ
'' کشمیری کی خصوصی آزاد حیثیت کو ختم کرنے کے اگست کے بھارتی اقدام سے دو ماہ قبل ممکنہ زبردست احتجاج کو روکنے کے لئیے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں جے کے ایل ایف پرپابندی اور اس کے چئیر مین یاسین ملک کی گرفتاری کے بعد تنظیمی عہدیداروں نے اگرچہ مقبوضہ کشمیر میں اپنی سرگرمیاں معطل کر دیں تاہم جماعت کے آزاد کشمیر زون اور دنیا بھرمیں پھیلی اس جماعت نے اپنی سرگرمیاں تیز کر دیں اور جب بھارتی حکومت کے اس اقدام کیخلاف جے کے ایل ایف نے سیز فائر لاین توڑنے کی کال دی تو پاکستان کے وزیر اعظم عمران خاننے فرنٹ کے اس اقدام کو پاکستان کے مفادات کے خلاف قرار دیتے ہوے کہا کہ ایسا کرنا بھارت کیسازش ہے۔ جس پر کشمیریوں نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا تھا ۔ڈیلاس میں مارچ میں کشمیر کانفرنس کے انعقاد سے متعلق 'جاگو' نے اس خدشہ کا اظہار کیا تھاکہ فرنٹ کی پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اختلافات شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں ۔فرنٹ کے بیرون ملک رہنمائوں نے الزام لگایا کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی لبریشن فرنٹ کیسرگرمیوں کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ اور جب گلگت بلتستان پر جنرل باجوہ کیپاکستان کی سیاسی جماعتوں کو گلگت کو پاکستان کا صوبہ بنانے سے متعلق خبریں باہر آئیں تولبریشن فرنٹ کے سخت گیر موقف رکھنے والے رہنمائوں نے اسے کشمیر کو تقسیم کرنے کی بھارت پاکستان کی مشترکہ سازش قرار دیا اور صوبہ بنانے کی شدید مخالفت کی ۔ پاکستان ایسٹیبلشمنٹ کے قریب سمجھے جانے والے دھڑے نے نومبر کو آزاد کشمیر اور دنیا بھر میں کام کر رہی جے کے ایل ایف کی سپریم کونسل اورتمام زونز کو معطل کر کے پرو اسٹیبلشمنٹ حامیوں کو تنظیم کے اہم عہدوں پر لانے کے لئیے ایک غیرآئینی فیصلہ کیا ۔ جب یاسین ملک کی ترجمانی کے دعویداررفیق احمد ڈار نے ایک سال کے لئے تنظیم معطل کرنے کا اعلان کیا تو اس پرتمام زونز کے صدور اور نظریاتی رہنمائوں نے اسے پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ سے گٹھ جوڑ اور غیرآئینی فیصلہ قرار دیتے ہوے تسلیم کرنے سے انکار کیا۔ امریکہ میں تنظیم کے بانیوں میں شمار کئے جا والے رہنمائوں راجہ مظفر، سرینگر سے الطاف قادری اور کنیڈا میں مقیم کشمیر گلوبل کونسل کے سربراہ انجینئر فاروق صدیقی جن کا تعلق سرینگر سے ہے، نے اس میں مداخلت کی جب اسلام آباد میں مقیم یاسین ملک کے کہلائے جانے والے ترجمان رفیق ڈار جو پاکستانی ایسٹیبلشمنٹ سے رابطہ کا ذریعہ گردانے جاتے ہیں سے رابطہ کر کے نومبر کا فیصلہ واپس لینے کا مشورہ دیا توانہوں نے مشورہ ماننے سے انکار کیا ۔جس پر ان رہنمائوں نے دہلی میں یاسین ملک کے وکیل راجہ طفیل سے رابطہ کر کے یاسین ملک سے مشاورت کی گئی۔ اس گفتگو کی آڈیو ریکارڈنگ شامل خبر ہے ۔ اس کے مطابق وکیل کالر سے کہہ رہے ہیں کہ کہہ رہے کہ یاسین ملک کو صورتحال سے بے خبر رکھا گیا ان کی مرضی و منشا کے خلاف پاکستان میں ان کے نام سے سرکاریایوارڈ وصول کیا گیا اور یہ کہ ان کے نام سے ترجمانی کرنے والے رفیق ڈار نے ان سے کسی معاملہ میں نہ مشورہ کیا نہ اعتماد میں لیا ۔اس آڈیو میں وکیل کالر کے اس سوال کہ موجودہ صورتحال جب آذاد کشمیر ، برطانیہ، یورپ،امریکہ، مشرق وسطی کے تمام زون اور تنظیمیں (رفیق ڈار)نے معطل کر دی ہیں تو راجہ صاحب اور تمام زون کے صدور کو کیا پیغام دوں۔ اس آڈیو میں وکیل صاف کہتے سنائی دیتے ہیں کہ عبوری تنظیم بنائیں ۔جب اس آڈیو سے متعلق جب ' جاگو ٹائمز' نے کشمیری رہنما راجہ مظفر سے رابطہ کیا تو انہوں اسکی تصدیق کی اور کہا کہ یاسین ملک کی خواہش کے مطابق جے کے ایل ایف کے معاملات کو جمہوری طور چلانے کے لئے ایک اجتماعی لیڈر شپ کونسل تشکیل دی گئی ہے جو پارٹی، اس کے نظریہ اوریاسین ملک کو بچانے میں پارٹی کی رہنمائی کرے گی اور یہ کہ تنظیم کو بھارت اور پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لئیے اس کے صدر دفتر اور قیادت کو یاسین ملک کی رہائی تک دونوں ملکوں سے باہر کسی تیسرے ملک میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔''

واپس کریں