مسئلہ کشمیر پر مزید پسپائی ، وزیر اعظم عمران خان کا ہندوستان سے آرٹیکل370 کی بحالی کا مطالبہ
No image اسلام آباد( کشیر رپورٹ) وزیر اعظم عمران خان نے گزشتہ روز سوشل میڈیا سے متعلق چند نوجوانوں کے سوالات کے جواب دیئے جو ٹی وی چینلز پر بھی دکھائے گئے۔ایک گھنٹے سے زائد وقت کی اس نشست میں وزیر اعظم عمران خان نے اپنی طرف سے کشمیر کا کوئی تذکرہ نہیں کیا ۔وزیر اعظم عمران خان نے اسلام آباد کے ایک صحافی عیسی نقوی کے اس سوال کہ ہندوستان کے ساتھ کن شرائط پر بات چیت ہو سکتی ہے(جن مذاکرات کا کوئی امکان نظر نہیں آتا)، کے جواب میں کہا کہ ہندوستان نے جو آرٹیکل 370 منسوخ کیا ہے،جب تک اسے بحال نہیں کیا جاتا ،اس وقت تک بات چیت نہیں ہو سکتی۔وزیر اعظم عمران خان نے مزید کہا کہ ہندوستان کو سب سے زیادہ نقصان مودی حکومت پہنچائے گی،کوئی دشمن اتنا نقصان نہیں پہنچا سکتا۔
واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران خان ہندوستان کی طرف سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت ختم کر کے ہندوستان میں مدغم کرنے کے بعد کہہ چکے ہیں کہ ہم نے کچھ نہیں کرنا،جو کچھ کرنا ہے وہ ہندوستان نے ہی کرنا ہے،ہندوستان خود اپنے اقدامات سے نقصان اٹھائے گا۔مقبوضہ جموں وکشمیر میں سات ہندوستان نواز سیاسی جماعتوں کے اتحاد ' گپکار ڈیکلریشن' کے قیام کا مقصد یہی بتایا گیا کہ آرٹیکل 370 ختم کرکے ریاستی درجہ بحال کیا جائے۔
پاکستان مسئلہ کشمیر کا ایک فریق ہے اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں اور منشور کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے کشمیریوں کی تحریک آزادی کی سیاسی،سفارتی اور اخلاقی حمایت کا عزم رکھتا ہے اور موجودہ وزیر اعظم عمران خان خود کو کشمیریوں کا وکیل کہتے ہیں۔لیکن عملی صورتحال اس کے برعکس ہے اور کشمیر موجودہ حکومت کی عملی ترجیحات میں دور دور تک کہیں نظر نہیں آتا۔
واپس کریں