تیرہویں ترمیم سے حاصل اختیارات کے ثمرات سب کے سامنے ہیں ۔ ججز بحران میں ہمارا کوئی کردار نہیں ہ، وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان
No image راولاکوٹ۔ وزیر اعظم آزادجموں وکشمیر راجہ محمد فاروق حیدرخان نے کہا ہے کہ ایسا نظام لارہے ہیں کہ نائب قاصد اور چوکیدار کے علاوہ ہر آدمی این ٹی ایس کی طرز پر میرٹ پر لگے گا، وزرا اور ایم ایل ایز کو یا کسی اور کو بھی یہ اختیار نہیں ہونا چاہیے کہ وہ نوکریاں بانٹے ،باصلاحیت اہل ترین لوگوں کا ماضی میں ہونے والا استحصال روکا۔تمام لوگوں کو یہ سوچنا ہوگا کہ اب نظام بدلنا ہے اور اس کی ابتداہم نے کردی ہے، جو کام کر چکے اسے صرف ن لیگ ہی آگے لیکر جاسکتی ہے ،این ٹی ایس اور پبلک سروس کمیشن کے ذریعے لوگ اپنی اہلیت و صلاحیت کی بنیاد پر بھرتی ہو کر آئے اگر کوئی اور حکومت ہوتی تو ایسا تصور بھی محال تھا ،اب آنیوالی نسلوں کے لیے ہم نے میرٹ کے نظام کو استحکام دینا ہے ۔ بڑے بڑے لیڈر آزادکشمیر کے حقوق اسلام آباد دیکر آتے تھے لیکن ہم اپنے حقوق وہاں سے لیکر آئے۔پہلی حکومت ہے جو اوورڈرافٹ کے بغیر چل رہی ہے ۔میڈیا ٹرینڈ سیٹر ہے ہماری کمزوری سامنے لائیں۔ہماری کامیابی ٹیم ورک کا نتیجہ ہے،ہم نے اپنے منشور کے مطابق عوام کی خدمت کی ، آزادکشمیر میں انتخابات مکمل طور پر آزادانہ و منصفانہ اور غیر جانبدارانہ ہونگے ، راولاکوٹ سیاحت کا مرکز بنے گا، تولی پیر لسڈنہ سڑک کی تکمیل سے یہاں سیاحتی انقلاب آئیگا،آزادکشمیر کے اپنے بجٹ سے یہ سڑک تعمیر کررہے ہیں پہلے اس طرح کے منصوبہ جات 10 پندرہ سال تک بھی مکمل نہیں ہوتے تھے ہمارے دور میں بروقت مکمل ہورہے ہیں ۔ ہم نے لینٹ افسران کی مراعات ختم کیں، پہلے وہ یہاں ڈیوٹی کر کے چلے جاتے تھے اورریٹائرمنٹ کے بعد بھی انہیں ڈرائیور خانساماں اور کئی دوسری مراعات ملتی تھیں۔الیکشن میں اپنی کارکردگی لوگوں کے سامنے پیش کریں گے،گلگت ڈرامہ یہاں نہیں رچانے دیں گے۔ہم نے تیرہویں ترمیم میں اختیارات حاصل کیے جس کے ثمرات سب کے سامنے ہیں ۔ ججز بحران میں ہمارا کوئی کردار نہیں ہے ۔ کارکنان کی حمایت اور ان سے مشاورت کے ساتھ الیکشن لڑیں گے اور انشااللہ جیتیں گے ۔ تولی پیر سڑک کی کشادگی میں اضافے کی منظوری دیدی ہے ، لائن آف کنٹرول پر خصوصی ترقیاتی منصوبہ جات کی منظوری دیدی ہے۔
وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان نے ان خیالات کا اظہار انہوں نے سرکٹ ہائوس راولاکوٹ میں مسلم لیگ ن کے عہدیداران و کارکنان، غازی ملت پریس کلب صدر کی قیادت میں ملنے والے وفد سے ملاقات کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہاکہ این ایف سی ایوارڈ میں ہمارا حصہ 2.47 تھاجوکہ اب اب3.67فیصد ہے ،میاں نوازشریف شاہد خاقان عباسی سے ہم نے 3.9 کا مطالبہ کیا جو 3.67 ہوا جس سے ہماری آمدن میں اضافہ ہوا۔موجودہ حکومت پاکستان نے ہمارے انتظامی بجٹ پر کٹ لگایا جس سے مسائل کا سامنا ہوا ، پیسے نہ ہونے کی وجہ سے آئی ٹی ٹیچرز کی مستقلی اور دیگر مسائل کا سامنا ہوا۔ انہوں نے کہاکہ پرامن احتجاج کا سب کو حق حاصل ہے اگر راستہ روک کر لوگوں کو تکلیف دینے کا حق نہیں ، ریاست کی رٹ کوئی چیلنج نہیں کرنے دیتا،مظفرآباد اساتذہ نے قانون اپنے ہاتھ میں لیا ، ٹیچرز کو کہا گیا کہ سیکرٹریٹ کے اندر نہیں جا سکتے لیکن انہوں نے اس کی خلاف ورزی کی جس پر لوکل ایڈمنسٹریشن نے کاروائی کی۔انہوں نے کہاکہ مسلم لیگ ن کی حکومت نے گزشتہ ساڑھے چار سالوں کے دوران بہترین قانون سازی بھی کی ہے ۔ بارہویں آئینی ترمیم کے ذریعے ختم نبوت کو آزادکشمیر کے آئین کا حصہ بنایا،زمینوں پر قبضے کے خلاف قانون بنایا تاکہ کوئی طاقتور کسی کمزور کی زمین پر قبضہ نہ کر سکے ۔ بچوں سے جنسی زیادتی پر قانون سازی کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ آٹے پر 3 ارب روپے کی سبسڈی دے رہے ہیں ، جائزہ لے رہے ہیں کہ کل ضرورت اور کھپت کتنی ہے اور اس کا براہ راست عوام تک فائدہ کیا پہنچ رہا ہے ،اس سارے نظام کا جائزہ لے رہے ہیں اس میں بنیادی تبدیلیاں کی جائیں گی تاکہ سبسڈی کا براہ راست فائدہ عوام کو پہنچے۔ وفاقی محصولات میں ہمارا حصہ 70 ارب روپے بنتا ہے جبکہ ہمیں صرف 55 ارب روپے ملے ،باقی رقم ملی تو سبسڈی میں مزید اضافہ کیا جاے گا ۔
اس موقع پر سینئر وزیر چوہدری طارق فاروق،وزیر صحت ڈاکٹر نجیب نقی ،وزیر زکو چوہدری محمد یاسین گلشن، ممبر اسمبلی سحر قمر ، سابق وزیر حکومت سردار طاہر انور، لیگی رہنما و کارکنان بھی موجود تھے ۔ غازی ملت پریس کے صدر اعجاز قمر کی قیادت میں غازی ملت پریس کلب کے وفد نے وزیر اعظم سے ملاقات کی ۔ اس موقع پر سینئر صحافی سردار نذر محمد خان ،سردار عابد صدیق ،سردار راشد نذیر اورساجد انور بھی موجود تھے ۔

واپس کریں