ہیومن رائٹس واچ کی سالانہ رپورٹ2021آج جاری ہو گی، 2020 رپورٹ میں کشمیر میں انسانی حقوق کا بھر پور تذکرہ ،ہندوستان پر سخت تنقید
No image نیو یارک ( کشیر رپورٹ) ہیومن رائٹس واچ آج دنیا میں انسانی حقوق کے بارے میں اپنی سالانہ رپورٹ2021جاری کرے گا۔دنیا بھر میں انسانی حقوق کی صورتحال کا احاطہ کرنے والی یہ رپورٹ یورپی وقت کے مطابق دن بار ہ بجے( پاکستانی وقت کے مطابق شام پانچ بجے) ایک خصوصی تقریب میں جاری کی جائے گی۔ امریکہ میں جو بائیڈن کی کامیابی سے اس بات کے امکانات پیدا ہوئے ہیں کہ ان کی صدارت میں امریکہ دنیا کے تمام خطوں میں انسانی حقوق کے امور کو اہمیت دی جائے گی۔ہیومن رائٹس واچ کے یورپ کے میڈیا ڈائریکٹراینڈریو سٹرالئین ، جودنیا کے تمام خطوں میں دائرہ کار رکھتے ہیں، نے '' کشیر ویپ' کے رابطے پر عندیہ دیا ہے کہ ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ 2021میں بھی کشمیر کا موضوع شامل ہو گا۔
ہیومن رائٹس واچ نے گزشتہ سال اپنی عالمی رپورٹ 2020 میں کہا تھا کہ
'' اگست 2019 میں جموں و کشمیر میں ہندوستانی حکومت کے یکطرفہ اقدامات نے کشمیری عوام کے لیے بھاری تکالیف پیدا کی ہیں اور انسانی حقوق کی زیادتیوں کا موجب بنے ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت نے صوبے کا خصوصی آئینی مقام ختم کیا اور اسے دو مختلف علاقوں میں تقسیم کر دیا جنہیں وفاق کے ذریعے کنٹرول کیا جائے گا۔''ہندوستانی حکومت نے کشمیر کو بند کرنے کی کوشش کی، وہاں پہنچنے والے نقصان سے پردہ ڈالنے کے لیے،'' جموں و کشمیر میں اقدامات سے پہلے، حکومت نے صوبے میں اضافی دستے تعینات کیے، انٹرنیٹ اور فون سروس بند کی، اور ہزاروں کشمیریوں کو بیجا طور پر حراست میں لے لیا جن میں سیاسی رہنما، کارکن، صحافی، وکیل، اور ممکنہ مظاہرین اور بچے شامل تھے۔ مظاہروں کو روکنے کے لیے سینکڑوں لوگوں کو بغیر الزام کے قید میں رکھا گیا یا گھروں میں نظربند کیا گیا۔فروری 2019 میں عدالت عظمی نے حکم دیا تھا کہ ان تمام لوگوں کو بیدخل کیا جائے جنگلات حقوق قانون کے تحت جن کے دعوے مسترد ہو گئے تھے۔ چنانچہ قبائلی برادریوں اور جنگلات میں مقیم لگ بھگ 20 لاکھ افراد سے ان کی رہائش اور روزگار چھن جانے کا خدشہ ہے۔کشمیر میں ہندوستانی حکومت کے اقدامات روزگاراور تعلیم تک رسائی ختم کرے کا سبب بنے ہیں۔ جبر کا نتیجہ امریکہ کی کانگریس، یورپی پارلیمان، اور اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق سمیت عالمی برادری کی تنقید کی صورت میں نکلا ہے۔ اقوام متحدہ کے ماہرین نے ہندوستان میں کئی معاملات پر پورا برس تحفظات کا اظہار کیا جن میں ماورائے عدالت قتل، آسام میں لاکھوں لوگوں کی ممکنہ بے وطنی، قبائلی برادریوں اور جنگلوں میں مقیم لوگوں کی ممکنہ بے دخلی، اور کشمیر میں ذرائع مواصلات کی بندش شامل ہے۔
ہیومن رائٹس واچ کی جنوبی ایشا ڈائریکٹر میناکشی گنگولی نے کہا۔ ''مذہبی اقلیتوں پر بڑھتے ہوئے حملوں سے نبٹنے کی بجائے، ہندوستانی حکام نے 2019 میں تنقیدی آوازوں کو خاموش کرنے کی اپنی کوششیں تیز کیں۔ہندوستانی حکومت مذہبی اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی، پرامن اختلاف رائے کو خاموش کرنے کے لیے بغاوت اور انسداد دہشت گردی کے ظالمانہ قوانین کا استعمال کیا اور حکومتی اقدامات اور پالیسیوں پر تنقید کرنے والی غیرسرکاری تنظیموں کی زبان بندی کے لیے غیرملکی فنڈنگ قواعد اور دیگر قوانین کا استعمال کیا۔حکومت مذہبی اقلیتوں اور دیگر غیرمحفوظ طبقوں پر بلوائی حملے جو اکثر بی جے پی کے حامیوں نے کیے، رکوانے کے لیے عدالت عظمی کی ہدایات کے مثر اطلاق میں ناکام رہی ہے۔ مئی 2015 سے اب تک، انتہاپسند ہندو گروہ گوشت کے حصول کے لیے گائے کی تجارت یا اسے ذبح کرنے کی افواہوں پر کان دھرتے ہوئے 50 لوگوں کو قتل اور 250 سے زائد کو زخمی کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ، مسلمانوں کو مارا پیٹا گیا اور ہندوآنہ نعرے لگانے پر مجبور کیا گیا۔ پولیس جرائم کی باقاعدہ تحقیقات کرنے میں ناکام رہی، تحقیقات روک دیں، قواعدوضوابط نظرانداز کیے، اور گواہوں کو ڈرانے دھمکانے کے لیے ان کے خلاف فوجداری مقدمے درج کیے۔شمال مشرقی ریاست آسام میں حکومت نے شہریوں کے اندراج کا قومی رجسٹر شائع کیا۔ بنگلہ دیش سے بنگالیوں کی بے ضابطہ نقل مکانی پر بارہا ہونیوالے مظاہروں اور تشدد کے بعد ہندوستانی شہریوں اور قانونی رہائیشیوں کی نشاندہی کے لیے یہ اقدام کیا گیا تھا۔ فہرست سے لگ بھگ بیس لاکھ لوگوں کو خارج کیا گیا، جن میں سے کئی مسلمان ہیں اور کئی ایسے ہیں جو کئی برسوں سے ہندوستان میں مقیم ہیں، کئی نے اپنی ساری عمر ہندوستان میں گزاری ہے۔ ایسے سنگین الزامات ہیں کہ تصدیقی عمل من مانا اور امتیازی تھا۔ اگرچہ اپیل کا حق دیا گیا ہے مگر حکومت کا ارادہ ہے کہ اپیل کے بعد جن لوگوں کو شہریت نہیں ملتی ان کے لیے حراستی مراکز تعمیر کیے جائیں۔سرکار نے یہ بھی کہا ہے کہ شہریت کی تصدیق کا اطلاق پورے ملک میں ہو گا اور حکومت ہمسایہ ممالک سے مسلمانوں کے علاوہ دوسرے بے ضابطہ پناہ گزینوں کو فہرست میں شامل کرنے کے لیے شہریتی قوانین میں ترمیم کرے گی۔ہیومن رائٹس واچ کی 652 صفحات پر مبنی عالمی رپورٹ 2020 ایچ آر ڈبلیو کی سالانہ عالمی رپورٹ کا 30واں شمارہ ہے، میں تقریبا 100 ممالک میں انسانی حقوق کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔''

واپس کریں