وزیر خارجہ اپوزیشن کے خلاف بیانات دینے کے بجائے اپنی توانائیاں سفارتی محاذ پر لگائیں، وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان کا پریس کانفرنس سے خطاب
No image مظفر آباد۔وزیر اعظم آزادحکومت ریاست جموں وکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ ہندوستان کو سلامتی کونسل کی دو کمیٹیوں کا چیئرمین بنانا خطرناک ہے ، ہندوستان پاکستان کے خلاف سازش کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا، وزارت خارجہ کو اس حوالے سے موثر و متحرک کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے، وزیر خارجہ اپوزیشن کے خلاف بیانات دینے کے بجائے اپنی توانائیاں سفارتی محاذ پر لگائیں، آزادکشمیر میں آٹے پر 2ارب روپے کی سبسڈی دی جاچکی ہے ،گندم کا کوٹہ کم ہونے کے باعث مسائل کا سامنا ہوا ، ابھی بھی آزادکشمیر کا آٹا پاکستان سے سستا ہے، پاکستان سے آزادکشمیر آنے والے راستوں کو بند کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی نہ ہی کسی کو ایسا کرنے دینگے ۔ مظاہرین نے ایک میت کے ساتھ آنے والی خواتین کو تشدد کا نشانہ بنایا ، خاتون اسسٹنٹ کمشنر کو ٹارگٹ کیا گیا اور سرکاری املاک کو نشانہ بنایا گیا، سرکاری ملازمین اگر بلاوجہ ہڑتال کرینگے توبے شمار پڑھے لکھے بیروزگار لوگ باہر انتظار میں ہیں، تعلیمی پیکج عوامی ضروریات ، طلبہ کی تعداد ور جغرافیائی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ادارے اپ گریڈ کیے گئے ، اس کا پہلا فیز ہوا ہے اور دوسرا بھی آئے گا ، ماضی میں جس طرح سے وزرااور ارباب اختیار بھرتیو ں کی فہرستیں دیتے تھے یہ سلسلہ ہم نے ختم کر دیا، لائن آف کنٹرول پر ایل او سی پیکج کیلئے افواج پاکستان کے شکرگزار ہیں ، حکومت پاکستان وفاقی محصولات میں آزادکشمیر کیلئے مختص حصے کے مطابق 15ارب روپے مزید ادا کرے تو آٹے کی سبسڈی ، ملازمین کی تنخواہوں سمیت دیگر تمام مسائل حل ہو سکتے ہیں ، تعلیمی پیکج کے تحت ہونے والی تقرریاں این ٹی ایس اور پبلک سروس کمیشن کے ذریعے ہونگی۔آزادکشمیر بھر میں پولیس کی تمام بھرتیاں میرٹ پر اور بغیر کسی سیاسی مداخلت کے ہوئی ہیں ، اگر کسی جگہ کوئی خرابی ہوئی تو اس پر متعلقہ ایس پی کے خلاف کارروائی کرینگے ۔ میرے علم میں لایا گیا کہ وزارت داخلہ نے شناختی کارڈ بنانے کیلئے نادرا کی گاڑیاں پی ٹی آئی کے نمائندوں کے توسط سے بھیجیں اور رابطہ نمبر ان کے دیے ، سیاسی جماعتوں کا کوئی کام نہیں کہ اس طرح کے اقدامات اٹھائے ، اگر کوئی مسئلہ ہوا تو وزارت داخلہ ذمہ دار ہوگی ۔ بحیثیت وزیر اعظم جو اہداف مقرر کیے تھے اللہ کے فضل و کرم اور اس کی نصرت سے وہ حاصل کیے ، آئین میں ترمیم کی ، مالیاتی خودمختاری حاصل کی ، کشمیر کونسل کے اختیارات کا خاتمہ ، ترقیاتی بجٹ دوگنا کیا ، ختم نبوت کو آزادکشمیر کے آئین کا حصہ بنایا ، این ٹی اور پی ایس سی کے ذریعے میرٹ پر لوگوں کو روزگار دیا اور پالیسی کے تحت ترقیاتی منصوبے شروع کیے ۔ لینٹ آفیسران کی تاعمر مراعات ختم کیں ،ان کو وہی الانس دیے ہیں جو دیگر صوبہ جات میں حاصل ہیں ۔ کچھ عناصر اپنے مخصوص مقاصد اور خطہ میں انتشا ر پھیلانے کے لیے آٹا مہنگا کے نام پر سیاست کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ آئندہ انتخابات آزادانہ اور منصفانہ ہوں گے۔ گلگت بلتستان والا ڈرامہ نہیں ہونے دیں گے۔ وہ جمعہ کو ایوان وزیر اعظم میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر وزیر تعلیم بیرسٹر افتخار گیلانی ، وزیر قانون وپارلیمانی امور سردا ر فارو ق احمد طاہر، وزیر ہائر ایجوکیشن کرنل (ر ) وقار احمد نور، مشیر سردار نسیم سرفراز اور راجہ امداد علی طارق ، سیکرٹری اطلاعات ، سیاست وآئی ٹی محترمہ مدحت شہزاد اور ڈائریکٹر جنرل اطلاعات راجہ اظہر اقبال بھی موجو د تھے۔
وزیر اعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا کہ سابق حکومت جاتے ہوئے ایسا تعلیمی پیکج دے کر گئی جو اوور ڈرافٹنگ اور تعلیم سیس پر تھا اس پیکج کو ہم نے درست کیا اس کے اخراجات ہم اپنے بجٹ سے پورے کریں گے ۔ تمام بھرتیاں میرٹ پر ہوں گی۔ پی ایس سی اور این ٹی ایس کے ذریعے سینئر اور جونیئر اسامیاں پر کی جائیں گی۔ انہوں نے کہاکہ سروس سٹرکچر بہتر کو بہتر بنانا اساتذہ کا حق ہے مگر یہ حق آئین و قانون کے تابع ہے اور حق ہمیشہ آئین کے اندر رہ کر ملتا ہے ۔ سروس سے غیر حاضری پر سروس بریک ہو جاتی ہے پھر گھر جانا پڑے گا ۔وزیر اعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا کہ دو سال قبل ڈیڑھ لاکھ ٹن گندم کی ضرورت تھی جو اب بڑھ کر دگنی ہو چکی ہے۔ 2018میں حکومت پاکستان سے طے پانے والے معاہدہ کے تحت وفاقی محاصل میں ہمارا حصہ 2.46سے بڑھا کر 3.64فیصد ہو گیا تھا۔ مالی سال 2020-21ہمارے طے شدہ بجٹ میں سے 15ارب روپے کا کٹ لگا دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے ہم نے آٹا کی قیمت میں 300روپے من اضافہ کیا پھر 200روپے اضافہ ہوا۔ بعد میں ہم نے 200روپے اضافہ کا فیصلہ واپس لے لیا اس وقت بھی آٹا تمام صوبوں سے یہاں سستا ہے۔ مہنگائی پاکستان کی طر ف سے آتی ہے ۔اشیاخوردونوش کی تمام چیزیں مہنگی ہونے پر کوئی احتجاج کیوں نہیں کرتا ۔ یہ صرف سیاسی مفاد اور انتشار کرنے کیلئے احتجاج کیا جارہا ہے ۔ انتظامیہ نے انتہاپسند عناصر سے اچھے طریقے سے نمٹا ہے اور امن و امان کو برقرار رکھا ہے جس پر میں انہیں شاباش دیتا ہوں۔ وزیر اعظم نے کہاکہ سیاسی قیادت سے کہتا ہوں کہ وزارت عظمی کی کرسی کیلئے قومی وقار کا سودا نہ کریں ، آزادکشمیر کے جھنڈے اور نام میں کوئی تبدیلی نہیں لا سکتا اور نہ ہی مسلم لیگ ن تقسیم کشمیر کی کسی سازش کو کامیاب ہونگے دیگی ۔ انہوں نے کہاکہ اساتذہ کے مطالبات پر عمل کرنے کیلئے ہمیں ساڑھے تین ارب روپے درکار ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ حکومت تعلیم ، صحت ، انفراسٹرکچر کے شعبوں میں ترقی پر خصوصی توجہ دے رہی ہے ۔ تیرہویں آئینی ترمیم،قادیانیوں کوغیر مسلم قراردینے قرار دینے ، ترقیاتی و غیر ترقیاتی بجٹ میں اضافہ ، پبلک سروس کمیشن کو فعال بنانے ، روڈ انفراسٹرکچر، فری ہیلتھ ایمرجنسی سروسز ، فیملی کورٹس کے قیام ، ہائیکورٹ کے ججز کی تعداد میں اضافہ ، 28ارب روپے کا ٹیکس اکھٹا کرنے ، احتساب ایکٹ میں ترمیم ، زمینوں پر ناجائز قابضین کے خلاف قانون سازی ، کم عمر بچوں سے زیادتی کرنے والوں کو سزائے موت دینے کی قانون سازی ، میرٹ کا بول بالا سمیت اپنے انتخابی منشور میں کے گئے تمام وعدے پورے کیے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہاکہ آئندہ عام انتخابات صاف و شفاف ہونگے ۔ الیکشن کمیشن کے دو نئے ممبران بنائے جبکہ ایک ممبر کا معاملہ عدالت میں ہے ۔ پاکستان میں کشمیری مہاجرین کیلئے مختص نشستوں پر شفاف انتخابات بڑا چیلنج ہے ۔انہوں نے کہاکہ مسلم لیگ ن کی موجودہ حکومت کا تقابلی جائزہ ماضی کی کسی حکومت سے نہیں کیا جاسکتا، ہمارے دور کی کارکردگی کا کوئی مقابلہ نہیں ۔ تعلیم ،صحت ، انفراسٹرکچر ،آئین و قانون سازی ، بجٹ میں اضافہ ، ججوں کی تعداد میں اضافہ ، فیملی کورٹس کے قیام سمیت میرٹ کے قیام ،گڈ گورننس یقینی بنانا ہماری حکومت کے کارنامے ہیں ۔محکمہ صحت کے اندر انقلابی اصلاحات لائی گئیں ہیں ، فری ایمرجنسی سروسز کا اجراکیا گیا ۔ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے وزیر اعظم نے کہاکہ جب تک مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کیلئے آزاد حکومت کو آگے نہیں کیا جاتا اس وقت تک یہ مسئلہ میں کوئی پیش رفت نہیں ہو سکتی ۔ یہ کوئی زمینی تنازعہ نہیں بلکہ حق خودارادیت کا معاملہ ہے ، اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو ہندوستان مقبوضہ کشمیر کے اندر بی بے پی کے لوگ اور ریٹائرڈ فوجی بسا کر آبادی کے تناسب کو اپنے حق میں کر لے گا اس کے بعد ہم کسی کچھ بھی نہیں کر سکیں گے ۔ سیز فائر لائن پر شہداکے لواحقین اور زخمی ہونے والوں کیلئے معاوضے میں اضافہ کیا ۔ 89کے مہاجرین کی امداد پر سالانہ 22کروڑ روپے خرچ کررہے ہیں ۔ اقوام متحدہ میں بھارت کو دو اہم کمیٹیوں کی سربراہی دی گئی ہے جو کہ خطرناک ہے اور ہمارے گرد گھیرا تنگ کیا جارہا ہے ۔ایک سوال کے جواب میں وزیرا عظم نے کہاکہ حکومت پاکستان اپنا دل بڑا کرتے ہوئے سیاسی مخالفین کیساتھ ڈائیلاگ کا راستہ اپنائے ۔ ملک کے اندرونی و بیرونی حالات ٹھیک نہیں ۔ ملک کی خارجہ پالیسی داخلی پالیسی کی عکاس ہوتی ہے ۔ محکمہ زراعت سے متعلق ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ اس سلسلہ میں وزیر زراعت اور سیکرٹری جلد میڈیا کو بریفنگ دینگے ۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہاکہ ہم نے کنٹریکٹ پولیس اہلکاروں کو مستقل کیا جبکہ ابھی 600اہلکار میرٹ پر بھرتی ہو رہے ہیں ۔ اس موقع پر وزیر تعلیم بیرسٹرافتخار گیلانی نے کہاکہ محکمہ تعلیم میں ایک بھی آسامی پر مرضی سے تقرری نہیں کی ۔ این ٹی ایس کے ذریعے 7ہزار نئے اساتذہ بھرتی کیے ۔ ابھی بھی این ٹی ایس کے ٹیسٹ جاری ہیں ، باقی بھی میرٹ پر بھرتی کرینگے ۔ ناہوں نے کہاکہ تعلیمی پیکج میں گریڈ ون کی آسامیاں مستقل نہیں بلکہ متفرق اخرجات کی مد میں بچت پر رکھی گئی ہیں جبکہ پرائمری اور جونئیر کی بھرتی کا عمل بھی 20سے 25دن میں مکمل ہو جائے گا ۔ اس سے ہمارے ادارے مستحکم ہونگے اور معیار تعلیم بھی بلند ہوگا۔ نئے تعلیمی پیکج میں 8 کالجز اور 190 سکولز اپ گریڈکیے گئے ہیں ،8 انٹرکالجز کو ڈگری کالجز ، 15 ہائی سکولوں کو بطور ہائی سیکنڈری سکول، 61 مڈل سکولز کو ہائی سکول، 106 پرائمری سکولوں کو مڈل سکول کا درجہ دیدیا گیا۔
واپس کریں