عوام کی حمایت اور اللہ کی نصرت سے دوبارہ حکومت میں آئیں گے ، وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان کا ورکزر کنونشن سے خطاب
No image مظفر آباد۔وزیر اعظم آزادجموں وکشمیر وصدر مسلم لیگ ن راجہ محمد فاروق حیدرخان نے کہا ہے کہ آزادکشمیر کے لوگ لاکھوں کشمیری شہداکی قربانیوں کے امین ہیں ، مقبوضہ کشمیر کے لوگوں نے جس مقصد کیلئے قربانیاں دیں اس کو رائیگاں نہیں جانے دینگے ، آئندہ الیکشن کا مقابلہ غیرت اور بے غیرتی کا ہے ،مجھے اللہ نے عزت دی ،دو دفعہ وزارت عظمی دی، آزادکشمیر کی عزت پر حرف نہیں آنے دونگا،مہنگائی دریائے جہلم کے دوسری طرف سے آتی ہے ، حکومت کو عدم استحکام کا شکار کرنے کے لیے احتجاجی تحریک کا نام استعمال کیا جارہا ہے، سرکاری خزانہ مال مفت نہیں بلکہ امانت اور ذمہ داری ہے ، برادری ازم کے تعصب سے نکلنا ہوگا ، ہم کہیں نہیں جارہے ، ابھی مسلم لیگ ن کی حکومت نے ایک اور بجٹ پیش کرنا ہے ، اقتدار صرف اللہ ہی دیتا ہے، تعلیمی پیکج کا فیز 2بھی آئے گا جو ادارے رہ گئے ہیں ان کو اپ گریڈ کیاجائیگا، ہمارے سیاسی مخالف بھی جانتے ہیں کہ مسلم لیگ ن نے آزادکشمیر میں مثالی کام کیا جس سے وہ خائف ہیں ،نوکری لینے اور سیاسی کارکن بننے میں فرق ہے ، سیاسی کارکن کو سب کچھ چھوڑنا پڑتا ہے،مجھ سمیت سب کارکن ہیں ،سیاسی کارکن ہونا اعزاز کی بات ہے،آج ایک سیاسی جماعت کے سربراہ کا بیان ہے کہ تحریک انصاف میرے ساتھ اتحاد کرلے ورنہ ہر حلقے سے امیدوار کھڑا کرونگا،یہ ایسے ہی ہے کہ جیسے کوئی کہے میری بیٹی کا رشتہ کرلو ورنہ میں کہیں اور دے دوں گا ،سیاسی جماعتوں کو اتنا نیچے نہیں جانا چاہیے،سردارسکندر حیات خان کی کسی بات کا جواب نہیں دیتا ،کارکنوں کو سختی سے ہدایت کرتا ہوں کسی نے ان کے خلاف کوئی بات نہیں کرنی وہ بڑے اور قابل احترام ہیں، جماعتیں کارکنان کے بل بوتے پر قائم ہوتی ہیں ،جس طرح ساڑھے چار سالوں بعد جماعت کے کارکنان نے مضبوطی اور استحکام کے ساتھ جماعت کا پرچم سربلند رکھا ہوا ہے وہ لائق تحسین ہے ،یہ اعزاز مسلم لیگ ن کو ہی ہے کہ حکومت کے مدت ختم ہونے کے قریب بھی لوگ مسلم لیگ ن میں شامل ہورہے ہیں جو ہماری کارکردگی پر عوام کے اعتماد کا مظہر ہے ۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے مسلم لیگ ن ضلع مظفرآباد کے ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے ۔ اس موقع پر سیکرٹری جنرل مسلم لیگ ن سپیکر اسمبلی شاہ غلام قادر، نائب صدر ووزیر تعمیرات عامہ چوہدری محمد عزیز ، وزراحکومت بیرسٹرا فتخارگیلانی، راجہ عبدالقیوم خان ، ڈاکٹر مصطفی بشیر ، چوہدری شہزاد محمد ، ضلعی صدر مسلم لیگ ن مظفرآباد ڈاکٹر راجہ محمد عارف خان ، مشیر حکومت راجہ امداد علی طارق، اعظم رسول، راجہ پرویز مجید ، آصف مصطفائی ودیگربھی موجود تھے ۔
صدر مسلم لیگ ن نے کہاکہ آج ریاست کی موجودہ حیثیت کو تبدیل کرنے کی باتیں کی جارہی ہیں ۔جموں میں ایک ہفتے میں ڈھائی لاکھ لوگوں کو شہید کیا گیا، چھ ہزار خواتین بیوہ ہیں ،10ہزار سے زائد گمنام قبریں ہیں ، لاکھوں شہید جبکہ آج بھی کشمیری مسلح ہندوستانی فوج کے مظالم تلے پس رہے ہیں ۔ بجرنگ دل کے بدمعاش اور غنڈوں کو مقبوضہ کشمیر بسایا جا رہا ہے کہ کشمیریوں کا حشر بوسنیا کے مسلمانوں جیسا کیا جا سکے ۔ ہندوستان مقبوضہ کشمیر میں آبادی کے تناسب کو اپنے حق میں کرنے کیلئے وہاں کی ڈیموگرافی تبدیل کررہا ہے ۔ یہاں تقسیم کی باتیں کی جارہی ہیں ،پوری ریاست جموں وکشمیر نے پاکستان کا حصہ بننا ہے، مقبوضہ کشمیر کے عوام پاکستان کیلئے قربانیوں کی لازوال داستانیں رقم کررہے ہیں ، مقبوضہ کشمیر لوگوں انسانی تاریخ کے بدترین مظالم کا سامنے کررہے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ کارکنوں کی قربانیوں کی بدولت حکومتیں بنتی ہیں۔ہر ووٹر سیاسی کارکن نہیں ہوتا، سیاسی کارکن ناپید ہوتے جارہے ہیں ، ،قائد ملت چوہدری غلام عباس اپنے آپ کو سیاسی کارکن کہلانے میں فخر محسوس کرتے تھے ۔راجہ محمد فاروق حیدرخان نے کنونشن میں جماعتی کارکنوں کو سردار سکندر حیات کے خلاف بات کرنے سے روکتے ہوئے کہاکہ کارکنوں کو سختی سے ہدایت کرتا ہوں کہ سردار سکندر حیات کے خلاف کوئی بات نہیں کرنی وہ بڑے اور قابل احترام ہیں ۔ میرے والد،والدہ اور چچاسے زیادہ کوئی قابل اعتماد نہیں تھا ،میں ان کے نقش قدم پر چل رہا ہوں ۔سکندر حیات خان کی پسلی کی ہڈی ٹوٹی تو سی ایم ایچ میں کرنل نے ان سے کہا کہ ان کی زندگی کی ضمانت نہیں دے سکتا تومیں نے 3 دن تک ان کے ساتھ رہے پہرہ دیا ۔
انہوں نے کہاکہ آزادکشمیر میں مسلم لیگ ن نے انتخابی منشور کے مطابق کام کیا ، پاکستان مسلم لیگ ن کے منشور میںتھا کہ ریاست کو اختیارات کی منتقلی کی جائے اور اللہ کے فضل وکرم سے وہ ہوئی اور مسلم لیگ ن نے کی۔13 ویں ترمیم ویسے ہی نہیں ہوگئی، اس پیچھے ہماری بہت محنت ہے ، محمد نواز شریف نے آزادکشمیر کا ترقیاتی بجٹ دوگنا کیا جس کی وجہ سے یہاں تعمیر وترقی کا انقلاب آیا، تیرہویں ترمیم ،مالیاتی معاملات پر شاہد خاقان عباسی اور مفتاح اسماعیل کے شکرگزار ہیں، اللہ رب العزت کے خصوصی فضل و کرم سے مسلم لیگ ن کی حکومت نے آئینی ترمیم کے ذریعے اختیارات واپس حاصل کیے، مالیاتی وسائل بڑھائے جب وزارت عظمی سنبھالی تو محکمہ زکو ةسے ادھارے پیسے لیکر لاہور گیا، آج ہم خود کفیل ہیں ،تنخواہیں وقت پر مل رہی ہیں ، قائد پاکستان مسلم لیگ ن محمد نوازشریف دسمبر 2016 میں مظفرآباد تشریف لائے اور ہم نے ان کو بریفنگ دی اور انہوں نے کمال مہربانی کی اورآزادکشمیر کو ایک روپے کا کٹ نہیں لگایا،محمد نواز شریف نے آزادکشمیر کا ترقیاتی بجٹ دوگنا کیا جس کی وجہ سے یہاں تعمیر وترقی کا انقلاب آیا۔وزیراعظم کمیونٹی انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ پروگرام کے ذریعے فنڈز زمین پر لگایا گیا ہے جو نظرآرہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ختم نبوت اور میرٹ پر کام کرنے کا صلہ تو ذات کبریا دیگی، ختم نبوت قانون جب اسمبلی میں آیا تو میں مسلم لیگ ن کے علاوہ کسی اور جماعت کے ایم ایل ایز نہیں تھے ۔انہوں نے کہاکہ قانون لارہے ہیں کہ نائب قاصد اور چوکیدار کے علاوہ سب میرٹ پر اہلیت صلاحیت کی بنیاد پر بھرتی ہونگے ۔ سیاسی کارکن اپنا نہیں قوم اور اجتماعی مفاد دیکھتا ہے ، انفرادیت بہت بڑھ گئی ہے ، ہمیں اس سوچ کو تبدیل کرنا ہے اور ایک قوم بننا ہے ، کارکن ثابت قدم رہیں ، انشااللہ اگلے پانچ سال بھی آپ کی حکومت رہیگی۔صدرمسلم لیگ ن نے کہا کہ گزشتہ حکومتوں میڈکل کالجز کا اعلان تو کرگئی تھی لیکن ہماری حکومت نے مظفرآباد میرپور میڈیکل کالج کو نارمل بجٹ پر لایا۔موجودہ حکومت پاکستان نے ہمارے بجٹ پر جو کٹ لگایا ہے وہ پیسے اگر ہمیں ادا کر دیے جائیں تو گندم پر مزید سبسڈی ، اساتذہ کی اپ گریڈیشن ، آئی ٹی ملازمین کی مستقلی اور محکمہ صحت کے ملازمین کے الانس دے سکتے ہیں ، آزادکشمیر کے طے شدہ حصہ ادا نہیں کیا گیا جس سے مسائل ہوئے ۔ ہمارے وزرااور ممبران اللہ کے فضل سے ساتھ کھڑے ہیں ، چوہدری لطیف اکبر اپنوں کی فکر کریں ۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی حکومت نے ابھی ایک اور بجٹ پیش کرنا ہے ، انشااللہ عوام کی حمایت اور اللہ کی نصرت سے دوبارہ حکومت میں آئیں گے ۔

واپس کریں