بھارتی فوجی پر نقد انعام کی خاطر تین کشمیریوں کو قتل کرنے کے الزام کی چارج شیٹ
No image سرینگر( کشیر رپورٹ) ہندوستانی فوجی مقبوضہ جموں وکشمیر میں لاکھوں روپے کے نقد انعام کی خاطر فوج کے جعلی مقابلوں میں کشمیری نوجوانوں کو قتل کرنے میں مصروف ہے۔مقبوضہ جموں وکشمیر میں ہندوستانی فوج کی نہتے لوگوں کے خلاف یہ کھلی دہشت گردی عالمی میڈیا میں بھی بے نقاب ہو رہی ہے۔
برطانوی اطلاعاتی ادارے' انڈیپنڈنٹ نیوز' نے خبر رساں ادارے ' اے ایف پی' کے حوالے سے بتایا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں پولیس کی چارج شیٹ کے مطابق کیپٹن بھوپندر سنگھ نے گذشتہ جولائی میں اس امید پر جعلی جھڑپ کا اہتمام کیا کہ انہیں20 لاکھ روپے کا انعام ملے گا۔رپورٹ کے مطابق بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ہونے والی پولیس تحقیقات کے نتیجے میں انکشاف ہوا ہے کہ ایک بھارتی فوجی افسر نے باغیوں کو مارنے پر ملنے والا نقد انعام حاصل کرنے کے لیے تین نہتے شہریوں کو گولی مار کر قتل کردیا تھا۔خبر رساں ادارے' اے ایف پی 'نے پیر کو چارج شیٹ کا ایک حصہ دیکھا جس کے مطابق کیپٹن بھوپندر سنگھ نے اس امید پر جعلی جھڑپ کا اہتمام کیا کہ انہیں20 لاکھ روپے، 27200 ڈالر کا انعام ملے گا۔
ان پر جولائی میں تین مزدوروں کو مارنے کے الزام میں قتل اور سازش کا فرد جرم دسمبر میں عائد کیا گیا تھا۔بھوپندر سنگھ اور ان کے تین سویلین ساتھیوں نے دعوی کیا تھا کہ قتل ہونے والے تینوں مزدور مسلح تھے لیکن پولیس کی جانب سے کی گئی تحقیقات میں کہا گیا کہ مذکورہ فوجی افسر نے ان کے جسموں کے ساتھ ہتھیار لگائے تاکہ وہ عسکریت پسند دکھائی دیں۔یاد رہے کہ عسکریت پسندوں کو مارنے پر سرکاری فورسز کو حکام کی جانب سے 27000 ڈالر تک کا انعام دیا جاتا ہے۔ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں 1989 سے مسلح تحریک جاری ہے، جس میں ہزاروں افراد مارے جا چکے ہیں۔
انعام کی پیش کش فوج کی بجائے حکومت کی جانب کی جاتی ہے۔ دوسری جانب انسانی حقوق کے کارکنوں نے خبردار کیا ہے کہ مالی پیش کش کا نتیجہ بے گناہ لوگوں کے ماورائے عدالت قتل کی صورت میں سامنے آیا ہے۔انسانی حقوق کے ممتاز وکیل پرویز امروز نے بتایا: 'قانون کی گرفت سے استثنی اور نقد انعام کے پیش نظر اس بات کا امکان موجود ہے کہ جعلی جھڑپیں ہوتی رہیں گی، جن میں بے گناہ شہری مارے جاتے ہیں۔'
واپس کریں