مہاجرین1989 کی آباد کاری کیلئے وفاقی اورآزادکشمیر حکومت دلچسپی رکھتی ہے، کمشنر بحالیات
No image مظفرآباد۔کمشنر بحالیات آزادکشمیر چوہدری محمد فرید نے کہا ہے کہ مہاجرین1989 کی آباد کاری کیلئے وفاقی اورآزادکشمیر حکومت دلچسپی رکھتی ہے ،نہ توان کا گزارہ الائونس بند کیاجارہا ہے اورنہ ہی ان سے رہائش واپس لی جارہی ہے۔ ان خیالات کا اظہارانہوں نے اپنے آفس چمبر میں ملاقات کیلئے آنے والے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ کمشنر بحالیات نے کہا کہ مہاجرین جموں وکشمیر اپنے گھر بارسب کچھ چھوڑچھاڑ کرآزادکشمیرمیں آباد ہیں یہاں ان کی3نسلیں کسمپرسی کی حالت میں رہ رہے ہیں، ایک گھر میں چارچار فیملیزہیں وفاقی اورآزادکشمیر حکومت مہاجرین کی مستقل آبادی کاری میں خصوصی دلچسپی رکھتی ہیں مگر نہ ہی مہاجرین کا گزارہ الائو نس بند کیاجارہا ہے اورنہ ہی جہاں وہ رہائش پذیر ہیں ان سے رہائش واپس لی جارہی ہے۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ بہتر زندگی گزارنے کیلئے حکومت مواقع تلاش کررہی ہے آزادکشمیر کی حکومت اورعوام نے مہاجرین کو مہاجر نہیں سمجھا بلکہ انہیں اپنے خاندان کا فرد سمجھا وزیراعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدرخان نے ہرفورم پر مہاجرین1989کے گزارہ الائونس میں اضافے کی بات کررہے ہیں جس کے نتیجے میں انہوں نے اپنی حکومت میں 5سوروپے اضافہ کیا350روپے سے بڑھا کر دوہزار روپے فی فرد گزارہ الانس ہوچکا ہے،مہاجرین کو سالانہ 1ارب روپے حکومت فراہم کررہی ہے۔کمشنر بحالیات نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ 42ہزار آبادی کی کمیونٹی کیلئے6فیصد ملازمت کوٹہ مقررہے جو آزادکشمیر کے ہر ضلع کا کوٹہ ہے اس کوٹے پر سینکڑوں نوجوان مختلف سرکاری محکموں میں اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں، مہاجرین1989کے بچے مفت تعلیم حاصل کررہے ہیں جن میں میڈیکل کالجز،انجینئرنگ کالجز بھی شامل ہیں حکومت نے اپنے وسائل کی حدتک مہاجر کیمپوں کیلئے نہ صرف اراضی فراہم کی ہے بلکہ سینکڑوں مستحق مختلف سماجی تعاون سے 500کے قریب مکانات بنا کردیئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدرخان کی خصوصی دلچسپی سے مہاجر کیمپوں کے اندر صاف پانی،سیوریج،سڑکوں،سکولز اورصحت کی بنیادی سہولیات کو یقینی بنایا ہے۔ آزادکشمیر حکومت حقیقی معنوں میں مہاجرین کیلئے ماں کی حیثیت سے اپنا کردارادا کررہی ہے۔محکمہ بحالیات1989،71-65-47میں ہجرت کرنے والے مہاجرین کی دیکھ بھال کررہی ہے 1947میں کروڑوں مہاجرین ہجرت کر کے آباد ہوئے لیکن ان سب میں سے صرف کشمیری مہاجرین ایسے ہیں جن کی باضابط طور پر دیکھ بھال اوران کی مسائل ترجیح بنیادوں پر حکومتی سطح پر اٹھائے جارہے ہیں۔
واپس کریں