''جمہوریت کی جیت ہوئی ہے،مجھے یہ نہ کہو کہ حالات نہیں بد ل سکتے''، امریکہ کے صدر جو بائیڈن کا حلف کے بعد پہلا خطاب
No image واشنگٹن( کشیر رپورٹ)جو بائیڈن نے آج ( بدھ کو) مقامی وقت کے مطابق دن بارہ بجے روز ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے 46 ویں صدر کی حیثیت سے حلف اٹھالیا۔اس سے پہلے امریکہ میں نومنتخب نائب صدر کملا ہیرس نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا یا۔کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والی 55 سالہ ڈیموکریٹ کملا ہیرس پہلی غیر سفید فام خاتون ہیںجو نائب صدر کے عہدے پہ فائز ہوئیں۔جو بائیڈن کے حلف کی تقریب میں دو لاکھ افراد نے شرکت کرنی تھی لیکن اس تعداد کو ایک ہزار تک محدود کر دیا گیا۔ فوجیوں کی بڑی تعداد کو تقریب کی حفاظت کے لئے معمور کیا گیا ۔واشنگٹن میں کل پچیس ہزار فوجی متعین کئے گئے ۔سبکدوش ہونے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس تقریب میں شریک نہیں ہوئے۔ اس سے پہلے 1869میں صدر اینڈریو جانسن نے نئے صدر کے حلف کی تقریب میں شرکت سے انکار کیا تھا۔
امریکہ کے نئے صدر جو بائیڈن نے اپنے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد کہا کہ ان کا کام امریکہ کے مستقبل کو بچانا ہے، اس کے لیے محض الفاظ نہیں بلکہ اقدامات درکار ہوں گے،مجھے یہ نہ کہو کہ حالات نہیں بدل سکتے۔ اس سے جمہوریت کی جیت ہوئی ہے۔یہ دن امریکیوں کا ہے۔ یہ دن جمہوریت کا ہے۔ یہ تاریخی دن اپنے ساتھ امید لایا ہے۔امریکہ کو مشکلات درپیش ہوئیں لیکن شہریوں نے اس چیلنج کا مقابلہ کیا۔ آج ہم ایک امیدوار کی جیت نہیں بلکہ جمہوریت کی جیت منا رہے ہیں۔ ایک پرتشدد واقعے نے کیپیٹل کی بنیایں ہلا دیں۔ہم نے پھر سیکھا کہ جمہوریت اہم ہے، یہ کمزور ہے لیکن ہم ایک قوم بن کر اکٹھے ہوئے ہیں۔ ہم نے گذشتہ دو دہائیوں کی طرح طاقت کی پرامن منتقلی کو یقینی بنایا ہے۔ ہم ہر رکاوٹ کو شکست دیں گے۔جمہوریت میں سب سے ضروری اتحاد ہے۔ جو عناصر ہمیں تقسیم کرنا چاہتے ہیں وہ طاقتور ہیں لیکن وہ کوئی نئے نہیں، ہمیں نفرت ختم کرنی ہوگی اور اس درجہ حرارت کو کم کرنا ہوگا، اتحاد کے بغیر امن کا حصول ممکن نہیں۔
واپس کریں