وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان کی زیر صدارت کابینہ اجلاس میں اہم فیصلے
No image مظفر آباد ۔آزادجموں وکشمیر کابینہ نے نبی اکرم ۖ کے اسم مبارک کے ساتھ خاتم النبین سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر جگہ لکھنے ،پکارنے اورپڑھنے کے تاریخی فیصلے کی منظوری دیدی ہے جبکہ معلومات تک رسائی کے اہم قانون کا اطلاق آزادکشمیر میں نافذ العمل کرنے ،کشمیرکونسل الیکشن ترمیمی ایکٹ2021، آزادجموں وکشمیر الیکشن کمیشن ترمیمی آرڈیننس کی بھی منظوری دیدی ہے جبکہ آزادجموں وکشمیر بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے قیام کیلئے سینئر وزیر کی سربراہی میں اعلی سطحی کمیٹی قائم کی گئی ہے کمیٹی بلڈنگ کوڈز کے مسودے کا جائزہ لیکر آئندہ اجلاس میں پیش کریگی۔ کابینہ نے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے حوالہ سے آزادجموں وکشمیر لوکل گورنمنٹ ایکٹ ترمیمی2020 کی بھی منظوری دیدی جس کے تحت یونین کونسلز اور وارڈز کی آبادی کا تناسب عدالت العالیہ کے فیصلے کی روشنی میں تعین کیا گیا ہے ، اس کے ساتھ ساتھ لوکل کونسل کے اندر12.5فیصد پچیس سے تیس سال کی عمر کے نوجوان اور12.5فیصد خواتین کی نمائندگی بھی ہوگی۔ کابینہ کی منظوری کے بعد جہاں نبی رحمت خاتم النبین سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کانام مبارک آئے گا پورا کا پورا سی متن کے ساتھ لکھا، پڑھا اور پکارا جائے گا۔ 12ویں ترمیم کے تحت قادیانیوں کو غیر مسلم قراردینے کے بعد اب نبی ۖ کے نام کے ساتھ خاتم النبین سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لکھا جائے گا۔ معلومات تک رسائی کے قانون تحت انفارمیشن کمیشن کا قیام عمل میں لایا جائے گا اور اس کے اطلاق کے بعدشہری تمام محکمہ جات کے حوالہ سے معلومات تک رسائی حاصل کرسکیں گے اور محکمہ کی جانب سے عدم تعاون پر وہ انفارمیشن کمیشن میں شکایت درج کروا سکتے ہیں اور انفارمیشن کمیشن کی جانب سے بھی عدم تعاون پر وہ پارلیمانی کمیٹی کو شکایت کروا سکتے ہیں جو اس کا ازالہ کرنے کی مجاز ہوگی۔ تمام محکمہ جات اس حوالہ سے اپنا اپنا فوکل پرسن مقرر کرینگے جبکہ محکمہ اطلاعات پرنسپل انفارمیشن آفیسر اور انفارمیشن کمیشن کے دو ممبران کا تقررکریگا ۔ کمیشن کو اختیار ہوگا کہ وہ ایکٹ کی روشنی میں معلومات فراہم نہ کرنے والے محکمہ اور آفیسران کے خلاف کارروائی کرے اور کمیشن کو یومیہ 100سے10ہزار تک جرمانہ بھی کرنے کا اختیار ہوگا۔ محکمہ زکو و عشر کے ممبران کی تعیناتی کے حوالہ سے ایکٹ میں ترمیم کی منظوری دی گئی ہے ۔کابینہ نے آزادجموں وکشمیر الیکشن کمیشن ایکٹ میں ترمیم کی بھی منظوری دی جس کے تحت سیاسی جماعتوں کی رجسٹریشن ، مہاجرین مقیم پاکستان ووٹرز کی اہلیت ، اراکین اسمبلی کے سالانہ گوشوارے جمع کروانے ، نتائج مکمل ہونے پر پریزائیڈنگ آفیسرز کو موقع پر نتائج جاری کرنے ، غلط معلومات کی فراہمی کو جرم قرار دینے ، سیاسی جماعتوں کے کم از کم دو ہزار عہدیدار اور دو لاکھ روپے فیس ہوگی۔ کابینہ نے آزادکشمیر میں سیاحتی ترقی اور سیاحوں کو بہترین سہولیات فراہم کرنے اور مقامی ثقافتی ورثے کے تحفظ، آزادجموں وکشمیر ہوٹلز اور ریستوران ایکٹ2020 کی بھی منظوری دی جس کے تحت ہوٹلوں ، ریستورانوں اور ریسٹ ہاسز کی رجسٹریشن کی جائیگی اور انہیں باضابطہ طور پر لائسنس جاری کیا جائے گااور خلاف ورزی کی صورت میں رجسٹریشن منسوخ بھی کی جاسکے گی۔ کابینہ نے آزادکشمیرمیںٹریول ایجنسیز اینڈ ٹورسٹ گائیڈ ایکٹ کی بھی منظوری دی جس کے تحت ٹور آپریٹرز، ٹورسٹ ،گائیڈ ، ٹریول ایجنسیز کو ریگولیٹ کرنے کے لئے ریگولیٹری کمیٹی تشکیل دی جائے گی اور ان کی سروس کے معیار کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ مقامی ثقافتی ماحولیاتی ورثے کے تحفظ کیلئے بھی اقدامات اٹھائے گی اور اس کے بعد باضابطہ طور پر معیار پر اتر نے والوں کو لائسنس جاری کیے جائیں گے۔ اجلاس میں جوڈیشل آفیسرز و سٹاف ویلفیئر فانڈیشن ترمیمی ایکٹ 2020کی بھی منظوری دی گئی جس کے تحت شریعت کورٹ ختم ہونے کے بعد ہائیکورٹ کے سینئر جج اور رجسٹرار کو فانڈیشن کے بورڈ آف گورنرز کا ممبر بنانے کی تجویز دی گئی تھی۔ کابینہ نے رٹ پٹیشن رولز میں ترمیم کرتے ہوئے رٹ پٹیشن فیس کو فی پٹیشنر ایک ہزار روپے کے بجائے فی پٹیشن پانچ ہزار روپے مقرر کرنے کی بھی منظوری دی ۔ اجلاس میں بے نامی ٹرانزکشن کو روکنے کیلئے پر بے نامی ٹرانزایکشن ترمیمی ایکٹ کی بھی منظوری دی گئی ہے جس کے تحت کرپشن کے پیسوں سے دوسروں کے نام پر جائیدادوںکے خلاف کارروائی کی جا سکے گی ۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم راجہ محمد فاروق حیدرخان نے کہا کہ اللہ رب العزت نے یہ اعزاز مسلم لیگ ن کی حکومت کو دیا کہ اس نے بارہویں ترمیم کے ذریعے قادیانیوں کو غیر مسلم قراردینے کے بعد کلی طور نبی رحمت تم النبین سیدنا محمد رسول اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اسم مبارک ایسے ہی ہر جگہ لکھا اور پکارا جائے گا جس کے بعد اس فتنے کا آزادکشمیر میں جڑ سے خاتمہ ہوگیا ہے ۔ معلومات تک رسائی کا قانون مسلم لیگ ن کے منشور کا بنیادی نقطہ تھا جس کو پہلے آئین کا حصہ بناتے ہوئے بنیادی حقوق میں شامل کیا گیا اور اب اس کیلئے باضابطہ طور پر قانون کا نفا ذ ریاست کی ترقی ، خوشحالی ، میرٹ کی بحالی اور انتظامی ڈھانچے کی بہتری کی سمت ایک انقلابی قدم ہے ۔ بلدیاتی انتخابات کو ہم نے آئین کا حصہ بنایا ، اب قانون کے ذریعے نوجوانوں اور عورتوں کا حصہ مختص کر دیا گیا ہے۔ پہلے اختیارات جو کہ ایک فرد کو چیف الیکشن کمشنر کی صورت میں حاصل تھے اب اس کیلئے ایک کمیشن بنایا گیا ہے جو انتخابات کو آزادانہ ، غیر جانبدرانہ اور منصفانہ بنانے کیلئے تمام لوازمات پورا کریگا۔ سرکاری ملازمین قانون ، ضابطے اور ڈسپلن کے پابند ہیں ، سیاسی جماعتیں نہیں۔ سرکاری ملازمین کی جس حساب سے تعداد موجود ہے اس کا براہ راست فائدہ عوام الناس کو نہیں پہنچ رہا ۔ روزانہ سو میں سے 95فائلیں ان کی مراعات اور الانسز اور دیگر امور سے متعلق ہوتی ہیں ، صرف پانچ فیصد عوامی نوعیت کی ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ میرٹ کی بحالی، گڈگورننس کے قیام جانب معلومات تک رسائی کا قانون بنیادی اہمیت کا حامل ہے ۔ آزادکشمیر میں بڑھتی ہوئی بے ہنگم تعمیرات زلزلہ ہو یا بارشیں یا لینڈ سلائیڈنگ کسی بھی وقت انسانی جانوں کے خطرے کا باعث بن سکتی ہیں اس لیے شہروں کے ساتھ دیہات کی سطح پر بھی بلڈنگ اتھارٹیز کا آرڈیننس لارہے ہیں۔ ایڈھاک ملازمین کے حوالے سے بھی کابینہ کے آئندہ اجلاس میں حتمی فیصلہ کرینگے ۔ راجہ محمد فاروق حیدرخان نے کہاکہ آزادکشمیر اتنا بڑا خطہ نہیں جتنا بڑا انتظامی ڈھانچہ موجود ہے ۔ یہ سارا صرف اور صرف آسامیاں تخلیق کرنے اور سیاسی بنیادوں پر بھرتیوں کیلئے بنایا گیا ، موجودہ حکومت نے سب سے زیادہ میرٹ پر بھرتیاں کیں ، عوامی ضروریات کو مدنظررکھتے ہوئے تعمیراتی منصوبے مکمل کیے ۔ انہوں نے کہاکہ ہم سب کو قومی آمدن میں اضافے کیلئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ، یہ اسی صورت ممکن ہو سکتا ہے کہ ادارے عوامی سہولیات کیلئے اپنا کردار مزید بہترطریقے سے ادا کریں اورعوام بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔کابینہ کا اجلاس وزیر اعظم راجہ محمد فاروق حیدرخان کی زیر صدارت بدھ کے روز منعقد ہوا۔ اجلاس میں سینئر وزیر چوہدری طارق فاروق ، وزراحکومت چوہدری محمد عزیز، سردار میر اکبر خان،راجہ عبدالقیوم خان،سردار فاروق احمد طاہر،ڈاکٹر نجیب نقی ، محترمہ نورین عارف،بیرسٹرا فتخارگیلانی، ڈاکٹر مصطفی بشیر، راجہ نصیر احمد خان، کرنل ریٹائرڈ وقار احمد نور،چوہدری رخسار احمد،سردار فاروق سکندر، چوہدری مسعودخالد، احمد رضا قادری، چوہدری شہزاد محمود، چوہدری محمد اسحاق، چوہدری محمد اسماعیل گجر،چیف سیکرٹری ودیگر نے شرکت کی ۔ کابینہ اجلاس کو آزادکشمیر میں ایڈھاک ، کنٹریکٹ اور عارضی ملازمین کی مستقلی کے حوالہ سے قائم کمیٹی نے بریفنگ دی جس پر شرکانے غورغوص کیا اور کابینہ کے اگلے اجلاس میں ان ملازمین کے مستقبل کے حوالے سے فیصلہ کیا جائے گا۔
وزیر اعظم راجہ محمد فاروق حیدرخان کی زیر صدارت آزاد جموں وکشمیر کابینہ کے اجلاس میں متعدد قراردادیں متفقہ طور پر منظورکی گئیں۔ قراردادوں میں کہا گیا کہ آزادجموں وکشمیر کابینہ کا اجلاس بھارت کی جانب سے یورپی یونین اور اقوام متحدہ میں فیک نیوز کے ذریعے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ کی شدید مذمت کرتا ہے۔اجلاس یہ سمجھتا ہے کہ انڈین کرونیکلز آشکار ہونے سے بھارت کا مذموم ایجنڈا بے نقاب ہوا ہے جس کا مقصد پاکستان کو نقصان پہنچانا تھا۔پاکستان ہندوستان کے اس مکروہ چہرے کو ہمیشہ سے بے نقاب کرتا رہا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی برادری بھارت کی اس جعلی مہم کا نوٹس لے اور بھارت کے خلاف اقدامات کرے تاکہ آئندہ وہ ایسی حرکتوں سے باز رہے ۔آزاد جموں وکشمیر کابینہ کا اجلاس ان خبروں پر تشویش کا اظہار کرتا ہے جن میں بھارت کی جانب سے سرجیکل سٹرائیکس کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔اجلاس سمجھتا ہے کہ بین الاقوامی برادری خاص کر اقوام متحدہ کو ان کا نوٹس لینا چاہیے۔بھارت کی جانب سے کسی بھی مہم جوئی سے خطہ عدم استحکام کا شکار ہو گا جس کا ذمہ دار بھارت ہو گا۔اجلاس کشمیری عوام کی جانب سے اس عزم کا اظہار کرتا ہے کہ اگر بھارت نے کوئی ایسی حرکت کی تو کشمیری عوام اپنی پاک فوج کے شانہ بشانہ ہو گی ۔قراردادوں میں کہا گیا کہ آزاد جموں وکشمیر کابینہ کا اجلاس کنٹرول لائن پر بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ کی شدید مذمت کرتا ہے جس میں کئی شہری شہید ہوے اور سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچا۔اجلاس اقوام متحدہ کے مبصر مشن پر بھارتی فوج کی فائرنگ کی بھی شدید مذمت کرتے ہوے اقوام متحدہ سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اس اقدام کا شدید نوٹس لے۔بھارت کی اشتعال انگیزیوں کاپاک فوج کی جانب سے بروقت اور موثر جواب دینے پر اجلاس اطمینان کا اظہار کرتا ہے ۔آزاد جموں وکشمیر کابینہ کا اجلاس مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی فوج کی جانب سے انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کرتا ہے۔جیل میں قید بہادر کشمیری خاتون آسیہ اندرابی اور یاسین ملک کی گرتی ہوئی صحت اس بات کی متقاضی ہے کہ انہیں بہترین طبی سہولتیں فراہم کی جائیں۔اجلاس دیگر قید کشمیری قائدین کو رہا کرنے کا مطالبہ کرتا ہے جنہیں بھارت نے جھوٹے اور بے بنیاد مقدمات میں قید کر رکھا ہے ۔جن کشمیری رہنماﺅں کو ریاست سے باہر ہندوستان میں قید رکھا گیا ہے ، اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ سلامتی کونسل اس کا نوٹس لے اور ان کے خلاف مقدمات خارج کر کے رہا کیا جائے ۔ آزاد جموں وکشمیر کابینہ کا اجلاس پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی دورہ کنٹرول لائن کا خیر مقدم کرتا ہے۔اس دورے سے ایل او سی پر تعینات پاک فوج کے افسران اور اہلکاران کے حوصلے بلند ہوے ہیں جو پاک دھرتی کی سرحدوں کی حفاظت کے لئے ہر دم چوکس ہیں ۔آزاد جموں وکشمیر کابینہ کا اجلاس وزیراعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان کے ترقیاتی اور تعمیراتی ویژن کو خراج تحسین پیش کرتا ہے۔وزیراعظم کی سربراہی میں مسلم لیگ ن کی حکومت نے کشمیری عوام کی فلاح و بہبود اور ترقی اور خوشحالی کے لیے جو اقدامات کئے ہیں ماضی میں ان کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔ آزاد جموں وکشمیر کابینہ کا اجلاس سابق وزیر محمد مطلوب انقلابی،سابق سپیکر اسمبلی سردار غلام صادق، ایف پی ایس سی کے نامزد چیئرمین اور اعلی کشمیری بیورو کریٹ راجہ معروف افضل اور پی ایس سی کے سابق چیئرمین جنرل محسن کمال اور ڈی آئی جی سردار الیاس کی ناگہانی وفات پر رنج و غم کا اظہار کرتے ہوے ان کے بلندی درجات کے لیے دعاگو ہے۔

واپس کریں