اقوام متحدہ کشمیر میں رائے شماری کو یقینی بنائے،پاکستان اپنی قومی کشمیر پالیسی پر کاربند رہے، آزاد کشمیر اسمبلی میں قرار داد
No image مظفرآباد۔آزاد جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی کا اجلاس جمعہ کو ڈپٹی سپیکر سردارعامر الطاف کی زیر صدارت منعقد ہوا۔سینئر وزیر چوہدر ی طارق فاروق نے آزاد جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ مسلم لیگ ن جمہوریت پریقین رکھتی ہے، مسلم لیگ ن اپنے معزز ممبران سمیت تمام پارلیمانی ممبرز کی اختلاف رائے کا احترام کرتی ہے تاہم طعنہ زنی سے گریز کیا جانا چاہیے۔ موجودہ حکومت نے آزادکشمیر میں ریکارڈ ترقیاتی کام کیے جس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ انہوں نے ممبر اسمبلی ملک محمد نواز کے قلیل المہلت سوال کے جواب میں کہاکہ موجودہ حکومت نے 2004سے زیرا لتوا منصوبے سکندر حیات سپورٹس سٹیڈیم کی تکمیل کیلئے مالی سال2018-19میں 127.8ملین روپے دیے اور منصوبے کو80فیصد مکمل کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ مذکورہ سٹیڈیم کوجون2021تک مکمل کر لیا جائے گا۔
وزیر تعلیم بیرسٹرا فتخار گیلانی نے ممبر اسمبلی عبدالرشید ترابی کے توجہ طلب نوٹس کے جواب میں کہاکہ حکومت اساتذہ کے سکیل اپ گریڈیشن پر پہلے سے کا م کررہی ہے تاہم کسی کو سڑک بند کرنے کی اجازت ہرگزنہیں دی جائیگی۔ حکومت نے 2009کی تعلیمی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے تھرڈ پارٹی این ٹی ایس اور پبلک سروس کمیشن کے ذریعے میرٹ کی بالادستی کو قائم کیا ہے۔ ہمارے دور حکومت میں ہزاروں اساتذہ میرٹ پر بذریعہ این ٹی ایس بھرتی ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اساتذہ کو ذمہ داری کو مظاہرہ کرتے ہوئے تہذیب کے دائرہ میں رہ کر اپنے جائز مطالبات پیش کرنے چاہیں اور قانون کو نہیں چیلنج کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کسی بھی قسم کے سیاسی دبا میں آئے بغیر دستیاب وسائل کو مدنظررکھتے ہوئے اساتذہ کے سکیل اپ گریڈیشن کیلئے کام کررہی ہے۔ اساتذہ کے سکیل اپ گریڈیشن کے حق میں ہوں تاہم کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دینگے۔ حکومت اساتذہ کے مسائل کو نیک نیتی کے ساتھ حل کرنے کیلئے کوشاں ہے۔
ڈپٹی سپیکر سردارعامر الطاف کی زیر صدارت آزادجموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی کے اجلاس میں ممبر اسمبلی محترمہ رفعت عزیز نے قرارداد پیش کی۔ قرارداد میں کہا گیا کہ قانون سازاسمبلی آزادجموں وکشمیر کا یہ اجلاس مقبوضہ ریاست جموں وکشمیر میں مودی حکومت کی اسرائیلی طرز پر جنت کشمیر کو ہڑپ کرنے، وہاں کے وسائل پر قبضہ کرکے، کشمیری عوام کو ان کی اپنی سرزمین سے بے دخل کرنے کی ناجائز اور ظالمانہ کوششوں کی بھرپور مذمت کرتا ہے۔گزشتہ ستر سال سے9لاکھ سے زائد فوج کے بل بوتے پر ریاست جموں وکشمیر کے عوام پر ہر طرح کا ظلم وجبر روا رکھا گیا ہے۔ 5لاکھ سے زائد کشمیری شہید ہوچکے ہیں، ہزاروں حریت پسند کشمیریوں کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں بزرگ، جوان اور بچے بھی شامل ہیں۔سینکڑوں شہریوں کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کرکے کشمیر اور بھارت کی بدنام زمانہ جیلوں میں بدترین اذیتوں کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ مجاہدین کے گھروں کو بارود سے اڑایا جارہا ہے۔ کشمیریوں کے کھیتوں کھلیانوں کو جلا کر، باغات کو اجاڑ کر انہیں معاشی وسائل سے محروم کرکے دو وقت کی روٹی کا محتاج بنانے کی مذموم کوششیں کی جارہی ہیں۔ریاست جموں وکشمیر کی ڈیمو گرافی تبدیل کرنے کے لئے گزشتہ ایک سال میں لاکھوں غیرریاستی انتہا پسند ہندوں کو ریاست کے ڈومیسائل کی فراہمی، اراضی کی خرید وفروخت کے لئے قانون سازی اور مختلف ناموں سے غیر ریاستی ہندوں کے لئے کالونیاں بسانے اور بھارتی سرمایہ داروں کو سرمایہ لگا کر قبضہ جمانے کی سہولت دی جارہی ہے۔قرارداد میں کہا گیا کہ مودی حکومت کی پالیسیوں سے اختلاف کرنے والے اخبارات اور صحافیوں پر پابندی عائد کی جارہی ہے ان کے دفاتر اور اثاثے ضبط کیئے جارہے ہیں۔ مگر اس تمام ظلم وجبر، بربریت اور دہشت گردی کے مقابلے میں فرزندان کشمیر توحیدی امانت کی حفاظت کرتے ہوئے اپنی قربانیوں کی سنہری تاریخ رقم کررہے ہیں، جس پریہ اجلاس انہیں خراج تحسین پیش کرتا ہے۔قراردادمیں کہا گیا کہ اجلاس سیز فائر لائن اور ورکنگ بانڈری پر بھارتی افواج کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ کی شدید مذمت کرتا ہے اور حکومت آزادکشمیر سے مطالبہ کرتا ہے کہ متاثرین سیز فائر لائن کی حفاظت کی فوری اور موثر اقدامات کرے اور ان کی مالی معاونت کے لئے عملی اقدامات کیئے جائیں۔قرارداد میں کہا گیا کہ اجلاس حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کا بنیادی فریق ہونے کی حیثیت سے بھرپور او رجارحانہ سفارتی مہم کا اہتمام کرے اور عالمی برداری، اقوام متحدہ اور دیگر انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کرے کہ وہ جنوبی ایشیا پر منڈلاتی خطرناک جنگ کو روکنے کے لئے اپنا کردار ادا کرے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کے حق خودارادیت کو یقینی بنائیں۔اجلاس حکومت پاکستان سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان اپنی قومی پالیسی پر سختی سے گامزن رہے اور مسئلہ کشمیر کے حتمی حل تک ریاست کی وحدت کے حوالے سے کوئی ایسا فیصلہ نہ کرے جس کے باعث بین الاقوامی سطح پر ہمارا مقدمہ کمزور ہو۔
آزادجموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی کا اجلاس دو روز جاری رہنے کے بعد 3فروری بروز بدھ صبح 10 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

واپس کریں