امریکہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی صورتحال کو نظر انداز کرتے صدر بائیڈن کے عزم کے برعکس متحرک
No image واشنگٹن( کشیر رپورٹ)امریکہ صدر جوزف بائیڈن کے جمہوریت اورانسانی حقوق کے عزم کے برعکس ہندوستان کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی مسلسل بدترین خلاف ورزیوں کی صورتحال کو نظر انداز کی حکمت عملی اپنانتے نظر آ رہا ہے جس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ امریکہ انسانی حقوق اور جمہوریت کے امور کو اپنے مفادات کے لئے آلہ کار کے طور پر استعمال کر رہا ہے ۔امریکی وزیر خارجہ اینٹنی جے بلنکن نے جمعہ کو آسٹریلیا کی وزیر خارجہ میریس پین، انڈیا کے وزیر برائے خارجہ امور ڈاکٹر ایس جے شنکر اور جاپان کے وزیر خارجہ ٹوشو مٹسو موٹیجی سے بات چیت کی۔ اس موقع پر وزرا نے کوویڈ-19 کے خلاف اقدامات، اس وبا کے بعد بحالی کے عمل اور موسمیاتی تبدیلی کے امور پر چاروں ہم خیال ممالک (کواڈ) تعاون پر تبادلہ خیال کیا اور ان عالمگیر مسائل سے نمٹنے کے لیے اکٹھے کام کرنے کا عہد کیا۔ترجمان دفتر خارجہ نیڈ پرائس کے مطابق وزرا نے غلط اطلاعات سے نمٹنے، انسداد دہشت گردی، سمندری سلامتی، برما میں جمہوری طریقے سے منتخب حکومت کی بحالی کی فوری ضرورت اور پورے خطے میں جمہوری مضبوطی میں مزید بہتری لانے کی ترجیح پر بھی بات کی۔ شرکا نے خطے میں آسیان کی مرکزی حیثیت کے لیے اپنی باہمی حمایت کی ازسرنو توثیق کی۔ انہوں نے آزاد اور کھلے ہند-الکاہل کے فروغ بشمول بحری سفر کی آزادی اور خطے کے ممالک کی زمینی سالمیت کے لیے وزارتی سطح پر کم از کم سالانہ بنیادوں پر اور اعلی و نچلی سطحوں پر باقاعدگی سے کواڈ کا اجلاس منعقد کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
واپس کریں