آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے وفاق کی مداخلت کا عوامی سطح پرشدید ردعمل ہوگا۔،چودھری طارق فارق
No image مظفرآباد ۔آزاد کشمیر کے سینئر وزیر اور مسلم لیگ نواز آزادکشمیر شاخ کے سینئر نائب صدر چودھری طارق فاروق نے کہا ہے کہ مسلم لیگ کے ارکان بکاﺅ مال نہیں ہیں ،سب نواز شریف کے ساتھ ہیں۔مسلم لیگ ن کے تمام ارکان پارٹی پالیسی کے تحت چل رہے ہیں میاں صاحب کے جمہوریت کے حوالے سے بیانیہ کو لیکرآزادکشمیر میں آئندہ انتخابات میں حصہ لیں گے،آزادکشمیر کے عام انتخابات میں نہ دھند آئے گی اور نہ ہی ہم اتنے کمزورہیں کہ ہمارے علاوہ کوئی اور حکومت بنا سکتا ہے۔فیصلہ عوام نے کرنا ہے اورعوام ن لیگ کو کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ دے گی۔وفاق کی مداخلت کا عوامی سطح پرشدید ردعمل ہوگا۔ سابق صدر و وزیراعظم سردار سکندر حیات میاں نواز شریف اور محترمہ مریم نواز کے بارے میں نامناسب و خلاف حقائق بیانات سے گریز کریں، بصورت دیگر مسلم لیگی کارکنان اپنی سیاسی تربیت کے مطابق مخالفین کیلئے عزت واحترام کے جذبات رکھنے کے باوجود تلخ جواب دینے پر مجبور ہو جائیں گے۔ چودھری طارق فاروق نے پیر کے روز اپنے دفتر میں صحافیوں کے ایک گروپ سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ مسلم لیگ آزادکشمیر کے کارکنان کیلئے اپنے محبوب و ہردلعزیز قائد میاں نواز شریف اور پاکستان اور اہل کشمیرکی انتہائی موثراور مقبول ترین رہنما محترمہ مریم نواز کے خلاف دیے گئے بیانات ناقابل برداشت ہیں، مسلم لیگی کارکنان بھی منہ میں زبان رکھتے ہیں اور انکی یادداشت بھی بوڑھی نہیں ہوئی کہ وہ ناپسندیدہ اور حقائق کے منافی گفتگو کرنے والوں کو منہ توڑ جواب نہ دے سکیں، لیکن آزادکشمیر کی پرامن فضا کو مکدر ہونے سے بچانے کیلئے وہ بھرپور تحمل سے کام لے رہے ہیں۔ سردار سکندر حیات زیرک سیاستدان ہیں انہیں احتیاط سے کام لینا چاہیے، ہم انکا احترام کرتے ہیں مگر جب وہ ہماری قیادت کے بارے میں خلاف حقائق بات کریں گے تو ہمیں جواب دینا پڑے گا جس سے انکی گستاخی کا بھی احتمال ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم سب کا سردار سکندر حیات کے ساتھ مسلم کانفرنس اور مابعد مسلم لیگ نون میں بہت وقت گزرا ہے، وہ جس زمانے کی باتیں کر رہے ہیں مسلم لیگ نون اس کے بعد بنی ہے، ہمارا بڑا المیہ یہ ہے کہ سیاستدان ماضی سے سبق نہیں سیکھتے ہیں بلکہ ماضی میں جا پھنستے ہیں جس سے جذبات مجروح ہوتے ہیں، سردار سکندر حیات راجہ فاروق حیدر کی وزارت عظمی کے بارے میں سردار یعقوب خان پر عدم اعتماد کے بعد والے عرصے کی بات کر رہے ہیں اس وقت میاں نواز شریف نے وزیراعظم وقت یوسف رضا گیلانی سے بات کر کے روکا تھا اور مسلم کانفرنس میں اندرونی سطح پر معاملات کو خود یکسو کر لیا تھا، تاہم سردار عتیق کے متعلق ان کے بڑے تحفظات تھے جن کی گارنٹی راجہ فاروق حیدر نے دی تھی۔ شاید سردار سکندر حیات کو پیرانہ سالی کی وجہ سے یاداشت کا مسئلہ ہے۔مسلم لیگ نون کی حکومت بناتے وقت وزارت عظمی کیلئے مشتاق منہاس کا نام ضرور تھا مگر یہ تمام امور جماعت کے اندر طے ہو گئے تھے اور سکندر حیات کا یہ گلہ رہا کہ ان سے پوچھا نہیں گیا۔
انہوں نے کہا کہ جماعت کے اندر مختلف امور پر مختلف رائے ہوتی ہے مگر ہمیشہ جماعت نے اندرونی سطح پر تمام معاملات کو خوش اسلوبی سے حل کیا ہے، مرکزی قیادت نے کبھی مداخلت نہیں کی۔انہوں نے یاد دلایا کہ آزادکشمیر میں مسلم لیگ کے قیام میں سردار سکندر حیات کی اپنی بھی بہت کوششیں رہی ہیں اور محترمہ مریم نواز آزادکشمیر شاخ کے قیام سے بہت پہلے سے ہی جماعت کے اندر ایک کلیدی کردارادا کررہی تھیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سردار سکندر حیات عملا اس وقت پارٹی چھوڑ گئے تھے حب انہوں نے بیرسٹر سلطان محمود کے ہمراہ وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی تھی لیکن ہم سب احترام اور روایتی رواداری کے باعث خاموش رہے۔ اب ان سے گزارش ہے کہ وہ گفتگو میں احتیاط سے کام لیں اور اپنی بیان بازی کو آزاد کشمیر تک محدود رکھیں۔انہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ سردار سکندر حیات اور راجہ فاروق حیدر کا طویل عرصے سے نہ صرف سیاسی بلکہ ذاتی تعلق بھی رہا ہے اور دونوں ایک دوسرے کا خیال رکھتے رہے ہیں، اس لئے ذاتیات تک چلے جانا نامناسب بات ہے۔
چودھری طارق فاروق نے کہا کہ وزیراعظم راجہ فاروق حیدر نے ان کی یہ گزارش قبول کی کہ وہ سردار سکندر حیات کے بیانات کے ردعمل میں کوئی بیان نہ دیں۔ سردار سکندر حیات کے اس بیان کہ وہ نہ مسلم کانفرنس کے سپریم ہیڈ ہیں اور نہ ہی سردار عتیق انکے قائد ہیں اور یہ کہ انکے پوچھے بغیر مسلم کانفرنس کا ٹکٹ کسی کو نہیں دیا جا سکتا ، پر تبصرہ کرتے ہوئے سینئر وزیر نے کہا کہ یہ اس بات کا اعتراف ہے وہ نہ گھوڑے کی باگ سنبھال سکتے ہیں اور نہ سواری کر سکتے ہیں اور انکی اور سردار عتیق کی "جوڑی" زیادہ دیر تک ساتھ چلتی دکھائی نہیں دے رہی۔ انہوں نے کہا ایک طرف سردار سکندرحیات، بیرسٹرسلطان محمود سے اتحاد کے خواہاں ہیں تو دوسری طرف سردارعتیق تنویر الیاس خان کے ساتھ "ایم آئی یو کے خواہشمند، جو یہ ظاہر کرنے کیلئے کافی ہے کہ یہ بیل منڈھے چڑھنے والی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم کانفرنس اور تحریک انصاف کا اتحاد ہوتا ہے یا نہیں، اسکا فیصلہ مجبوریاں اور حالات کریں گے جس سے ہمیں کوئی سروکار نہیں، ہم بطور جماعت مسلم لیگ(ن) ہر طرح کے حالات کے مقابلے کو تیار ہیں۔
واپس کریں