کشمیر کی کنٹرول لائین پہ ہندوستان کے ساتھ فائربندی کا اتفاق ' بیک ڈور چینل' کا نتیجہ نہیں، معید یوسف مشیر قومی سلامتی
No image اسلام آباد( کشیر رپورٹ)وزیر اعظم پاکستان کے مشیر برائے قومی سلامتی ڈاکٹر معیدیوسف نے ہندوستانی میڈیا کی ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان کشمیر کی لائین آف کنٹرول( ایل او سی) پہ فائربندی پہ اتفاق ایسی ' بیک چینل ڈپلومیسی' کا نتیجہ ہے اور ان ' بیک ڈور 'مذاکرات میں انہوں نے ہندوستان کے مشیر قومی سلامتی اجت ڈوول کے ساتھ ملاقات کی تھی۔اس سے پہلے پاک فوج کے ترجمان کی طرف سے بتایا گیا کہ پاکستان اور ہندوستان نے 'ایل او سی' اور دیگر تمام سیکٹرز پر تمام معاہدوں، سمجھوتوں اور جنگ بندی پر سختی سے عمل پیرا ہونے پر اتفاق کیاہے۔ہندوستان کے روزنامہ ' دی ہندو' نے اپنی ایک خبر میں کہا تھا کہ ہندوستان کے نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر اجت ڈوول اور پاکستان کے نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر معید یوسف کے درمیان ' بیک چینل ' سے گزشتہ کئی ماہ سے رابطہ ہے۔
پاکستان کے سابق سینئر سفارت کار عبدالباسط نے کہا ہے کہ اگر پاکستان ہندوستان کے ساتھ ' بیک ڈور ڈپلو میسی' میں ملوث ہے تو ہم بہت بڑی غلطی کر رہے ہیں اور اس میں پاکستان اور کشمیری کا ہی نقصان ہے۔پاکستان کا تو یہ سٹینڈ تھا کہ ہندوستان سے اس وقت تک بات نہیں کی جائے گی کہ جب تک ہندوستان کشمیر سے متعلق اپنے اقدامات واپس نہیں لے گا،وزیر اعظم عمران خان نے تو ایک امریکی اخبار میں بھی یہی بات لکھی اور آج ہم اپنی پوزیشن سے خود ہی پیچھے ہٹ رہے ہیں،آخر ہم کشمیریوں کے ساتھ کیا کر رہے ہیں اور ان کے ساتھ کیا کرنا چاہتے ہیںَ۔انہوں نے کہا کہ سمجھ نہیں آ رہی کہ حکومت چاہتی کیا ہے،لگتا یہی ہے کہ اشوز کی انڈر سٹینڈنگ نہیں ہے۔
جمعرات کو ہی ریڈیو پاکستان نے بتایا کہ پاکستان اور بھارت کے ڈائریکٹر جنرل آف ملٹری آپریشنز (ڈی جی ایم اوز نے ایک دوسرے کے بنیادی معاملات اور تحفظات کو دور کرنے پر اتفاق کیا ہے، جو امن کی خرابی اور تشدد کا سبب بنتے ہیں۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ' آئی ایس پی آر 'کے مطابق دونوں ممالک کے ڈی جی ایم اوز نے ہاٹ لائن رابطے کے قائم کردہ طریقہ کار پر تبادلہ خیال کیا۔دونوں ممالک نے لائن آف کنٹرول(ایل او سی)اور دیگر تمام سیکٹرز کی صورتحال کا آزاد، اچھے اور خوشگوار ماحول میں جائزہ لیا۔ دونوں فریقین نے ایل او سی اور دیگر تمام سیکٹرز پر تمام معاہدوں، سمجھوتوں اور جنگ بندی پر سختی سے عمل پیرا ہونے پر اتفاق کیا۔دونوں فریقین نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی طرح کی غیرمتوقع صورتحال اور غلط فہمی کو دور کرنے کے لیے موجودہ ہاٹ لائن رابطے کے طریقہ کار اور بارڈر فلیگ میٹنگز کا استعمال کیا جائے گا۔
پاک فوج کے ترجمان اور ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان 1987 سے ہاٹ لائن کی سطح پر رابطہ ہے اور دونوں ممالک کے ڈی جی ایم اوز ایک قائم طریقہ کار کے تحت رابطہ کرتے رہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کا ایک طریقہ کار موجود تھا اور 2003 میں اس پر ایک اور معاہدہ ہوا جس کے بعد جنگ بندی بہت مثر رہی تاہم 2014 سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں میں تیزی آگئی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے ڈی جی ایم اوز نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ 2003 کے معاہدے پر من و عن عمل کیا جائے اور اسے مستحکم بنانے کے لیے دونوں فریق متفق ہیں اور اس پر عمل پیرا ہونے کا اعادہ کیا ہے۔ 2003 سے اب تک ساڑھے 13 ہزار سے زائد مرتبہ جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی ہے، جس میں 310 شہری شہید اور 1600 زخمی ہوئے ہیں تاہم 2003 سے 2013 تک کے اعداد و شمار اور 2014 کے بعد کے تناسب میں بہت زیادہ فرق ہے۔ ان اعداد و شمار میں سے 92 فیصد 2014 سے 2021 کے درمیان ہوئی ہیں جبکہ گزشتہ 4 برس میں 49 خواتین شہید اور 313 زخمی ہوئے ہیں، اس کے علاوہ 36 معصوم بچے بھی شہید ہوئے۔ 2019 میں سب سے زیادہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں ہوئی جبکہ 2018 میں سب سے زیادہ اموات ہوئیں۔ترجمان پاک فوج نے کہا کہ اب دونوں ڈی جی ایم اوز کے درمیان یہ اتفاق ہوا ہے کہ ہم 2003 کے جنگ بندی معاہدے پر من و عن عمل کریں گے۔
جمعرات کی رات تقریبا آٹھ بجے وزیر اعظم پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر ڈاکٹر معید یوسف نے اپنے ایک ٹوئٹ بیان میں کہا کہ بمیں نے ہندوستانی میڈیا کے دعوے دیکھے ہیں جو پاکستان اور ہندوستانی ڈی جی ایم اوز کے مابین جنگ بندی کے اعلان کو میرے اور ہندوستانی این ایس اے کے مابین بیک چینل ڈپلومیسی کا سبب قرار دیتے ہیں، یہ بے بنیاد ہے۔ میرے اور مسٹر ڈوول کے مابین ایسی کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے،کنٹرول لائن پر خوش آئند پیش رفت ڈی جی ایم اوز کے قائم کردہ چینل کے ذریعے ہونے والی بات چیت کا نتیجہ ہے، اور پیشہ ورانہ طور پر براہ راست چینل کے ذریعہ انجام دیا گیا ہے۔مشیر قومی سلامتی نے کہا کہ پاکستان نے 2003 میں سیز فائر معاہدے کا احترام کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور مجھے خوشی ہے کہ ہم اس سمجھوتے پر پہنچ گئے ہیں۔ خط اور روح کے مطابق اس پر عمل کرنا چاہئے،ایسا کرنے سے بیگناہ زندگیاں بچیں گی لہذا کسی کو ارادے پر سوال نہیں کرنا چاہئے اور نہ ہی غلط مآخذ کی طرف راغب ہونا چاہئے۔
واضح رہے کہ ہندوستانی مقبوضہ کشمیر میں1988سے ہندوستان سے آزادی کی سیاسی اور عسکری تحریک جاری ہے اور اس دوران ایک لاکھ سے زائد کشمیرہندوستانی فورسز کے ہاتھوں شہید کئے گئے ہیں۔ ہندوستان نے5اگست2019کو پارلیمانی کاروائی کے ذریعے ریاست جموں وکشمیر کی ریاستی حیثیت کو ختم کرتے ہوئے ہندوستان کا باقاعدہ حصہ بنا لیا۔ وزیر اعظم عمران خان نے اس صورتحال میں پارلیمنٹ کے اجلاس میں استفسار کیا تھا کہ '' کیا میں ہندوستان سے جنگ کر دوں''۔اس کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان یا کشمیریوں کی طرف سے ایسا کوئی اقدام نہیں ہونا چاہئے جس سے ہندوستان کو آزاد کشمیر ،گلگت بلتستان پر حملے کرنے کا بہانہ مل جائے۔ہندوستانی مقبوضہ کشمیر میں دس لاکھ سے زائد بھارتی فوج متعین ہے اور وہاںکشمیریوں کی مزاحمتی تحریک کے خلاف ہندوستانی فوج کے آپریشن مسلسل جاری ہیں۔کشمیریوں کا مطالبہ ہے کہ کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق حل کیا جائے۔ یہاں اس بات کے امکانات بھی پائے جاتے ہیں کہ کشمیر اور کشمیریوں کو غیر فطری اورجبری طور پہ تقسیم کرنے والی '' لائین آف کنٹرول' پہ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان فائربندی کے سمجھوتے میں امریکی صدر جوزف بائیڈن انتظامیہ کا کردار ہے۔


واپس کریں