آزادکشمیر کے تشخص کے لیے الیکشن میں ووٹ کے ذریعے فیصلہ کرنا ہے،وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان
No image مظفرآباد۔وزیر اعظم آزادجموں وکشمیر صدرمسلم لیگ ن راجہ محمد فاروق حیدرخان نے کہا ہے کہ ہم نے آزاد کشمیر کے لوگوں کی عزت کا خیال رکھا تشخص پر حرف نہیں آنے دیا،وزیراعظم آزادکشمیر کے عہدے کے معیار و مرتبے پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔آزادکشمیر کے تشخص کے لیے اگلے الیکشن میں جاگتے رہنا ہے، ووٹ کے ذریعے فیصلہ کرنا ہے کہ ہمارا مستقبل کیا ہوگا،یہاں کبھی سپریم کورٹ ختم کرنے کی باتیں ہوئیں کبھی اسمبلی نشستیں کم کرنے کی کبھی مجھے کہا گیا آزاد لفظ نکال دیں۔مسلم کانفرنس اور پیپلز پارٹی کے عہدیداران پبلک سروس کمیشن چلاتے تھے،مسلم کانفرنس کی مجلس عاملہ کے اراکین کو اجلاس میں بیٹھنے کی مخالفت کی تھی کہ وہ پی ایس سی کے ممبر ہیں۔ حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتا ہوں کہ مقبوضہ کشمیر میں جو بے گناہ لوگ مارے جارہے ہیں اس معاملے کو بین الاقوامی سطح پر اٹھائے، عمران خان خود مختاری کی باتیں کرتے ہیںانہیں تاریخ کا علم نہیںکشمیریوں کا جھنڈا گر گیا توپاکستان کی بھی خیر نہیںکشمیری پاکستان کے نقشے میں وسعت چاہتے ہیں،کشمیریوں کے ساتھ دھوکہ کرنے والوں پر اللہ کا عذاب نازل ہوگا، یہ ہمارے مستقبل کا معاملہ ہے، آزادکشمیر میں اقتدار کی خواہش کیلئے لوگ اندھے ہو گئے ہیں،جماعتیں اپنے منشور پر الیکشن لڑتی ہیں، اگلا بجٹ بھی ہم نے دینا ہے، لوگ آتے جاتے رہتے ہیں لیکن صاحب کردار لوگوں کو ہمیشہ یاد رکھا جاتا ہے۔ذاتی کام ہر کسی کا نہیں ہوسکتا لیکن جو اجتماعی کام اس دور حکومت میں ہوئے کسی اور کے حصے میں نہیں آئے۔ہم چاہتے تو ماضی کی طرح دس ہزار آسامیوں پر اپنے کارکنان کو لگا دیتے لیکن ہم نے قوم اور ریاست کے مفاد میں فیصلہ کیا کہ غریب اور باصلاحیت لوگوں کو ان کا حق دینا ہے۔سیز فائر لائن پروادی لیپہ کے لوگوں نے ہندوستانی جارحیت کا مقابلہ کیا،ہم نے شہدا کے اہلخانہ کے لیے 3ہزار فی کس ماہانہ اور شہدا کے لواحقین کو10لاکھ روپے معاوضہ دیا۔ الیکشن میں مہنگائی کو گلے لگا کر آزادکشمیر کے عوام نے خودکشی نہیں کرنی، پاکستان میں 13 عشاریہ نوے فیصد مہنگائی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے،عوام پاکستان میں مسلم لیگ ن کو دوبارہ واپس لانا چاہتے ہیںآزادکشمیر میں رب العزت کے خصوصی کرم اور اس کی تائید و نصرت سے دوبارہ حکومت بنائیں گے۔ہم نے دارلحکومت منتقل کرنے والوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا،عتیق خان کو کہا تھا درالخلافہ عزت کی چادر ہے چھیننے نہیں دینگے۔سردار عتیق کہتے ہیں ہم نے ہاتھ پکڑ کر مظفرآباد والوں کو چلنا سکھایا،دوام صرف رب کی ذات کو ہے دارا اور سکندر نہیں رہے میں کیا چیز ہوں۔ 2011 میں سٹی میں جہاں میرا پولنگ ایجنٹ نہیں تھا وہاں بھی جیت گیا، جب مسلم لیگ ن آزادکشمیر میں بنی تو اس وقت نوازشریف وزیراعظم نہیں تھے،ہم نے2011میں میں 11نشستیں لیں اور اس کے بعد پانچ سال محنت کی اور اللہ کے فضل سے اقتدار میں آئے۔برادریاں پہچان کے لیے ہیں تعصبات کی سیاست نہ کبھی کی نہ ہی اس کی حوصلہ افزائی کی جاسکتی ہے۔آئندہ الیکشن کیلئے تمام حلقہ جات بشمول نئے بننے والوں میں تفصیلی مشاورتی عمل شروع کیا ہے،کارکنان کی راے سے ٹکٹ کا فیصلہ کرینگے،۔پارلیمانی بورڈ تمام امیدواروں کو سنے گا،ہم نے مستقبل کا فیصلہ کرنا ہے سوچ سمجھ کرنا ہے، الیکشن میں مخالفین کو آٹے دال کا بھا? بتائیں گے، جب ضلع مظفرآباد قائم ہوا تو اس کی تین تحصیلیں تھیں جن میں کرناہ بھی شامل تھا،جہلم ویلی حلقہ سات کا الیکشن ہر صورت جماعت کو جیتنا ہے کارکنان محنت کریں۔وزیر اعظم آزادکشمیر راجہ محمد فاروق حیدرخان لیپہ ویلی حلقہ سات کی لیپہ کی دو یونین کونسلز اور یو سی لمنیاں اور لانگلہ کے لیگی عمائدین سے الگ الگ خطاب کررہے تھے۔ اس موقع پرلیگی عمائدین نے حکومتی کارکردگی پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوے متفقہ طور پر وزیراعظم آزادکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان سے حلقہ نمبر 7 وادی لیپہ سے عام انتخابات میں حصہ لینے کا مطالبہ کیا۔ اس موقع پر وزیر آئی ٹی ڈاکٹر مصطفی بشیر، صدر حلقہ فرید خان ودیگر نے بھی خطاب کیا۔وزیراعظم آزادکشمیر نے کہا کہ
قائد مسلم لیگ ن محمد نوازشریف نے ہماری سرپرستی کی،کبھی ہماری مرکزی جماعت نے مداخلت نہیں کی فری ہینڈ دیا،نوازشریف صاحب نے ہمیشہ کمال شفقت کا مظاہرہ کیااور آزادکشمیر کی ترقی کیلئے ہمارا فنڈز دوگنا کیا، تیرہویں آئینی ترمیم محمد نواز شریف کی خصوصی مہربانی سے ہوئی۔ انہوں نے کہاکہ ہم کچھ بھی نہیں عزت و عہدہ اس ذات کبریا نے دیا،للہ تعالی نے جو کام مسلم لیگ ن کے نصیب میں لکھے وہ کسی اور کے حصے میں نہیں آئے، ہم نے اللہ کی مخلوق کے لیے کام کییذات کبریا اس کا اجر ضرور دیگی۔ وزیر اعظم آزادکشمیر نے کہاکہ کشمیر پاکستان کیلئے قربانیوں کی لازوال داستان رقم کررہے ہیں، آئے روز نوجوانوں کے جنازے اٹھ رہے ہیں لیکن کشمیریوں کے پائیہ استقلال میں لغزش نہیں آئی، مقبوضہ کشمیر میں 11ہزار خواتین کی عصمت دری کی جارہی ہے، صرف جموں میں 2لاکھ 37ہزار لوگوں کو شہید کیا گیا،6ہزار گمنام قبریں، ہزاروں لاپتہ ہیں جن کے گھروالوں کو معلوم نہیں کہ وہ زندہ ہیں یا نہیں، تحریک آزادی کے ڈیڑھ لاکھ شہداہیں اور کشمیریوں کی قربانیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہمارا سب سے بڑا کارنامہ ختم نبوت کو آزادکشمیر کے آئین کا حصہ بنانا ہے جس پر اپنے آپ کو خوش نصیب سمجھتے ہیں۔ مسلم لیگ ن نے تاریخی تیرہویں آئینی ترمیم کی جس کے ثمرات سے آج آزادکشمیر کے لوگ مستفید ہورہے ہیں، آج ہم اللہ کے فضل سے مالیاتی طور پر خود کفیل ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے اقتدارمیں آنے بعد شروع دن سے تہیہ کر لیا تھا کہ حقدار کو اس کا حق دیں گے اور اللہ کی تائید و نصرت سے ہم نے یہ کر کے دکھا، این ٹی ایس کے ذریعے اہل و با صلاحیت لوگ اپنی اہلیت کی بنیاد پر تعینات ہوئے،ہم نے صاف و شفاف پی ایس سی کا قیام عمل لایا جس سے غریب لوگوں کے بچے اپنی قابلیت کی بنیاد پر اعلی عہدوں پر تعینات ہوئے۔مسلم لیگ ن کی حکومت نے آزادکشمیر ترقیاتی بجٹ دوگنا کروایا جس سے خطہ میں تعمیر وترقی کاانقلاب آیا،گزشتہ ساڑھے چار سالوں کے دوران آزادکشمیر کے ہر علاقے میں ترقیاتی منصوبے لگے۔ پہلے مرحلے میں بڑی شاہرات کو اپ گریڈ کیا گیا اور اس کے بعد لنک روڈز تعمیر کی گئیں اس آزادکشمیر میں بہتری انفراسٹرکچر موجو د ہے جس سے عوام کو بہترین سفری سہولیات میسرآرہی ہیں اور سیاحت کو بھی فروغ مل رہا ہے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر آئی ٹی ڈاکٹر مصطفی بشیر نے کہا کہ پیپلز پارٹی سمیت دیگر حکومتیں گزشتہ دس سالوں میں لیپہ میں ایک انچ پکی سڑک بتا دیں،لیپہ کرنا ہ میں ہم نے اربوں کے ترقیاتی بجٹ خرچ کیا، آج لیپہ چند گھنٹوں میں پہنچ جاتے ہیں جو کہ اس سے قبل ناممکن تھا، لیپہ کے لوگوں کو شدید سفری مشکلات کا سامنا تھا جس کو ہم نے حل کیا۔ انہوں نے کہاکہ ہر گاوں میں سڑک اور دیگر ضروری منصوبہ جات دیے ہمارا تقابلی جائزہ کسی بھی حکومت سے کر کہ دیکھ لیں۔ ڈاکٹر مصطفی بشیر نے کہاکہ وزیراعظم آزادکشمیر حلقے سے الیکشن لڑیں تو ہم باآسانی جیت سکتے ہیں،ٹکٹ کا فیصلہ پارلیمانی بورڈ کریگا۔ڈاکٹر مصطفی بشیر نے کہاکہ مجھے صدرجماعات ووزیراعظم نے مجھے اپنے بیٹوں سے عزیز رکھا، مجھے انگلی پکڑ کر چلایا، میں بھی زندگی بھر ان کا ساتھ نبھاو ں گا۔
واپس کریں