آزاد کشمیر میں آرکیالوجیکل سائیٹس کی بحالی کےمنصوبے کا معاہدہ
No image مظفرآباد۔محکمہ سیاحت و آثار قدیمہ آزادجموں وکشمیر اور یونیورسٹی آف آزادجموں وکشمیر کے درمیان آرکیالوجیکل سائیٹس کے سروے کے بعدان کی بحالی کے لیے PC-Iتیار کرنے کا معاہدہ طے پا گیا۔معاہدے پر وزیر اعظم آزادجموں وکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان کی موجودگی میں سیکرٹری سیاحت و آثار قدیمہ محترمہ مدحت شہزاد اوروائس چانسلر یونیورسٹی آف آزادجموں وکشمیر ڈاکٹر محمد کلیم عباسی نے دستخط کیے۔ جبکہ اس موقع پر قائد اعظم یونیورسٹی اور ہزارہ یونیورسٹی کے آرکیالوجی کے شعبہ کے سربراہان ، پرنسپل سیکرٹری احسان خالد کیانی ، سیکرٹری سروسز لیاقت حسین چوہدری ، ڈائریکٹر جنرل سیاحت ارشاد احمد پیرزادہ اور دیگر ماہرین آرکیالوجی بھی موجود تھے۔
اس معاہدہ کے تحت محکمہ سیاحت و آثار قدیمہ ، یونیورسٹی آف آزادجموں وکشمیر ، قائداعظم یونیورسٹی اور ہزارہ یونیورسٹی کے شعبہ آرکیالوجی کے تعاون سے آزادکشمیر کے اندر آرکیالوجیکل مقامات کا سروے کرنے کے بعد 10مقامات کو دوبارہ تعمیر کرنے کے حوالہ سے PC-I بنا کر دیئے جائیں گے۔ اس حوالہ سے 16.00ملین روپے کا یہ منصوبہ تیار کیا گیا ہے جس میں ریاست بھر میں آرکیالوجیکل سائٹس کا سروے کرنے کے بعد ان کو Restore کرنے کے لیے PC-I بنائے جائیں گے۔ معاہدے پر دستخط کی تقریب کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے و زیر اعظم آزادجموں وکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا کہ آزادکشمیر کے اندر آثار قدیمہ کو محفوظ بنانے کے لیے حکومت آزادکشمیر بہترین اقدامات کر رہی ہے۔ اس معاہدہ کے تحت آزادکشمیر بھر کے آثار قدیمہ کے مقامات کا سروے کرتے ہوئے ان کو Restore کرنے کے لیے منصوبہ جات تیار کیے جائیں گے جس کے بعد ریاست بھر کے آرکیالوجیکل مقامات کو دوبارہ محفوظ بنانے کا عمل شروع کیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ لال قلعہ مظفرآباد کی Restorationکے بعد سیاحت کو بھی فروغ حاصل ہو گا اور سیاحوں کو بھی آثار قدیمہ دیکھنے کا موقع ملے گا جس سے ریاست کی معیشت بھی بہتر ہو گی۔

واپس کریں