آزاد کشمیر میں میڈیا مکمل آزاد ہے، وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان
No image مظفر آباد ۔ وزیراعظم آزادکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ آزادکشمیر میں میڈیا مکمل آزاد ہے،ہم نے صحافیوں کی ترقی ،فلاح و بہبودکے لیے عملی اقدامات اٹھائے ،پریس کلبز کی تعمیر ،پریس فانڈیشن کو گرانٹ کی فراہمی،جنرنلسٹس کالونیوں کیلئے اراضی کی فراہمی اور کورونا ریلیف فنڈ کا ایک حصہ بھی اس کے لیے مختص کیا گیا پریس کلبوں کی تعمیر اور سہولیات کے لیے آزاد کشمیر حکومت جو اقدامات اٹھا رہی ہے اس کا موازنہ کسی دوسری حکومت سے نہیں کیا جا سکتا ۔صحافی کی ذمہ داری ہے کہ وہ قومی ذمہ داریوں کا خیال رکھے، جلسے جلوس اور سوشل میڈیا کی ہر بات کو مستند خبر کا درجہ نہیں دیا جا سکتا معتبر صحافی وہی ہے جو ذمہ دارانہ صحافت کرے عوام میں غلط معلومات اور افرا تفری نہیں پھیلانی چاہیے محکمہ اطلاعات کی کارکردگی قابل ستائش ہے اور محکمہ محدود وسائل کے باوجود بہترین کام کررہا ہے ۔ کورونا وائرس کے دوران آگاہی مہم چلانے اور لوگوں کو اس مہلک وباسے بچا اور احتیاطی تدابیر کے حوالہ سے محکمہ کا کردار مثالی رہاہے۔ تاریخ کو محفوظ بنانے اور ریاست میں 1947کے بعد ہونے والی ترقی کی تشہیر کے لیے مزید اقدامات کی ضروری ہے وزیراعظم نے پریس فانڈیشن کی جانب سے صحافیوں کیلئے ماہانہ پندرہ ہزار پنشن دینے اور اسے ضابطہ اخلاق سے منسوب کرنے کی تجویز کو احسن اقدام قرار دیا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز وزیراعظم سیکرٹریٹ میں آزادجموں وکشمیر پریس فانڈیشن کے اقدامات اور مستقبل کے منصوبوں کے حوالہ سے بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ بریفنگ میں پرنسپل سیکرٹری احسان خالد کیانی، سیکرٹری اطلاعات ، سیاحت و آئی ٹی محترمہ مدحت شہزاد ، ڈائریکٹر جنرل اطلاعات راجہ اظہر اقبال ، ایڈیشنل سیکرٹر ی مالیات جمعہ خان ،ایڈیشنل سیکرٹری قانون امجد منہاس ، وائس چیئرمین پریس فانڈیشن سردار ذالفقار علی، پریس سیکرٹری راجہ وسیم ، ڈسٹرکٹ انفارمیشن آفیسر مظفرآباد راجہ سہیل خان، انفارمیشن آفیسر قرا العین شبیر نے شرکت کی۔
سیکرٹری اطلاعات محترمہ مدحت شہزاد اور ڈائریکٹر جنرل اطلاعات راجہ اظہر اقبال نے اس موقع پر وزیر اعظم کو محکمہ اطلاعات میں ہونے والی اصلاحا ت اور آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالہ سے بھی تفصیلی بریفنگ دی ۔ وزیراعظم نے محکمہ اطلاعات کو تیرہویں ترمیم کے عین مطابق ڈیکلریشن کوڈ آف کنڈکٹ اور دیگر امور کے لیے قانون سازی کی ہدایت کی تاکہ لیگل معاملات یکسو ہو سکیں اور محکمہ میں ترقیاتی میزانیہ پر موجود ملازمین کو نارمل میزانیہ پر لانے کے حوالے سے بھی ہدایات دیں۔وزیر اعظم آزادکشمیر نے کہاکہ محکمہ اطلاعات کو مطلوبہ افرادی قوت اور فنڈز فراہم کریں گے تاکہ میڈیاکے نئے چینلجز سے نبردآزما ہو سکیں۔ آزادجموں وکشمیر پریس نیوزپیپر، نیوز ایجنسیز اور بکس رجسٹریشن ایکٹ جلد منظور ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پریس فانڈیشن کے تحت صحافیوں کو پنشن دیں گے جبکہ ڈیتھ کلیم ،بیماری اور تعلیم کی مدات میں بھی اضافہ کیا جائیگا۔ اس طرح پریس فانڈیشن کے ممبران کے بچوں کو سکالر شپس اور دیگر وظائف بھی دیں گے جس سے صحافیوں کے مالی مسائل حل ہونگے اور وہ اپنی پیشہ وارانہ سرگرمیوں پر زیادہ بہتر انداز میں توجہ دے سکیں گے۔ وزیراعظم کوپریس فانڈیشن کی جانب سے دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ فانڈیشن کل وقتی اور جز وقتی صحافیوں کو مالی اعانت کی حد تک دو کیٹگریز میں تقسیم کر رہی ہے جبکہ جملہ اخباری مالکان ممبران اے کے این ایس کو ایک معاہدہ کے تحت سپیشل کیٹگری میں شامل کیا جا رہا ہے صحافیوں کی موجودہ سہولیات بر قرار رکھتے ہوئے کل وقتی ممبران کے لیے اعانت کی رقم میں اضافہ کیا جا رہا ہے جبکہ سال 2018تک ایسے صحافی جو ممبر نہیں بن سکے انہیں بھی سہولیات میں شامل کیا جا رہا ہے چیئرمین نے اصولی منظوری دے دی ہے تا ہم بورڈ آف گورنرز کے اجلاس کے بعد رولز میں ترمیم دی جائے گی ۔موجودہ ترامیم صحافیوں کو کیٹگری کے تحت پنشن کی فراہمی ،تعلیمی وظائف میں اضافہ اورصحافیوں کے بچوں کے لیے خصوصی انعامات کے ساتھ ساتھ قرآن پاک حفظ اور ترجمعے کے ساتھ مکمل کرنے پر خصوصی انعامات دیئے جائیں گے،ضلعی اور تحصیل سطح پر پریس کلبوں کو ڈی ایس ایل ماہانہ بجلی ،پانی کا بل اور ایک لاکھ اور50ہزار کا فرنیچر شامل ہے علاوہ ازیں نیلم ،ہٹیاں ،پلندری پریس کلبوں کی تعمیر اور باغ ، حویلی پریس کلب کی زمین کے حصول کیلئے پی سی ون تیاری کے مراحل میں ہے ۔ فانڈیشن کی آمدن میں اضافہ کے ساتھ ساتھ سہولیات میں مسلسل اضافہ کیا جا سکے گا۔مستقل طور پر بیماری کا شکار ممبران کو فانڈیشن سپورٹ کارڈ بھی جاری کیا جا رہا ہے جبکہ کوٹلی زمین کی رقم جمع کر دی گئی ہے اور قبضہ کی کارروائی آخری مراحل میں ہے۔ وزیراعظم نے پریس فانڈیشن کے اقدامات کو سراہا اور حکومتی سطح پر ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔وزیر اعظم آزادکشمیر نے کہا کہ میڈیا کے ذرائع تبدیل ہو چکے ہیں اور موجود ہ دور میں میڈیا کے اندر بہت تیزی آ رہی ہے ۔ ان تمام چیلنجز سے نبزد آزما ہونے کے لیے محکمہ اطلاعات کو وسائل فراہم کریں گے۔ انہوںنے کہا کہ حکومت آزادکشمیر صحافیوں کی فلاح وبہبود پر یقین رکھتی ہے ہم نے کورونا وائرس کے دوران صحافیوں ، وکلا، رکشہ ڈرائیورزاور دیگر مکتبہ فکر سے تعلق والے افراد میں امدادی رقوم تقسیم کیں۔
علاوہ ازیں وزیر اعظم آزادجموں و کشمیر راجہ محمدفاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ ریڈیو نے صوتی محاذ پر تحریک آزادی کشمیر کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ کشمیری کی ثقافت، زبانوں کے فروغ ،علاقائی موسیقی کو فروغ دیا ہے ۔ریڈیو مظفرآباد میںذوالفقار علی بھٹو ،جنرل ضیا الحق، بے نظیر اور نواز شریف جیسے لوگ تشریف لا چکے ہیں۔ حکومت آزاد کشمیر ریڈیو کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اس کی آواز کو توانا کرنا چاہتی ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے ریڈیو آزاد کشمیر میں خصوصی انٹرویو اور کے ایچ خورشید سٹوڈیو کے افتتاح کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیر اعظم آزاد کشمیر کا ریڈیو اسٹیشن پہنچنے پر اسٹیشن ڈائریکٹر آفتاب اقبال ،پرڈیوسر طاہر چغتائی، خالد محمود، یونین آف جرنلسٹس کے مرکزی صدر سعید الرحمن صدیقی، ریڈیو ایکویٹی کے صدر اشرف کیانی،رفیع لون،بادشاہ خان، خلاق کاشر، اشتیاق آتش، عبدالواجد خان، سفیر رضا و دیگر عملے نے پرتپاک استقبال کیا۔اسٹیشن ڈائریکٹر آفتاب اقبال نے وزیر اعظم کو پھولوں کا گلدستہ پیش کیا اور سٹاف نے پھولوں کی پتیاں نچھاور کی۔ اس موقع پر وزیر اعظم نے کے ایچ خورشید سٹوڈیو کا افتتاح بھی کیا۔ وزیر اعظم نے ریڈیو کے لئے ڈیجیٹل لائبریری کا اعلان کیا۔وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ وفاقی حکومت اور دیگر متعلقین تک ریڈیو کے مسائل حکومت آزاد کشمیر نے پہنچائے ہیں۔ موجودہ حالات میں ایک ہزار میگا واٹ کے ٹرانسمیٹر کی مظفرآباد ریڈیوکوزیادہ ضرورت ہے جب بھارتی نے لائن آف کنٹرول پر ریڈیو بوسٹر کی لائن لگا دی ہے ۔صوتی محاذ پر غفلت سے بھارتی کی میڈیا وار کو کھلا میدان مل جائے گا جو نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ تقریب سے اسٹیشن ڈائریکٹر آفتاب اقبال نے اپنے خطاب میں وزیر اعظم آزاد کشمیر کا شکریہ ادا کیا اور انہیں ریڈیو کے مسائل سے آگاہ کیا ۔تقریب سے ظاہر چغتائی ،ریڈیو ایکویٹی کے صدر اشرف کیانی، یونین آف جرنلسٹس کے مرکزی صدر سعید الرحمن صدیقی، رخسانہ وانی نے بھی خطاب کیا ۔دریں اثنا وزیر اعظم آزاد کشمیر کا خصوصی انٹرویو بھی ریکارڈ کیاگیا۔
واپس کریں