سردار عتیق کیلئے اب کوئی بریگیڈئیر غضنفر نہیں جو انہیں خود ٹکٹ تقسیم کر کے وزیراعظم بنائے،وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان
No image اسلام آباد۔وزیر اعظم آزادحکومت ریاست جموں وکشمیر و صدرمسلم لیگ ن راجہ محمد فاروق حیدرخان نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن ریاست کی سب سے بڑی جماعت ہے اور اپنے فیصلے خود سوچ سمجھ کر کرتی ہے، میاں نواز شریف جب وزیر اعظم تھے تو اس وقت بھی آزادکشمیر میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کی اورمقامی سطح پر جماعت اور حکومت کو مکمل بااختیار رکھا، جس سے آزادکشمیر کے دیرینہ اورحل طلب مسائل حل ہوئے، تیرہویں آئینی ترمیم سے ریاست آئینی،انتظامی اور مالیاتی طور پر بااختیار ہوئی، آج ایک روپیہ قرض نہیں جب اقتدار سنبھالا تو زکوات منافع فنڈ سے ادھار لیکر لاہور گیا تھا آج اللہ کے فضل و کرم سے مالیاتی طور پر خود کفیل ہیں، سردار عتیق کا یہ بیان کہ تیرہویں آئینی ترمیم سے افراتفری پیدا ہو گئی ہے اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کشمیرکونسل کے اختیارات ختم ہونے پر کچھ لوگوں کو بہت تکلیف ہے، ریاستی تشخص کے علمبردار سردار عتیق کیلئے اب کوئی بریگیڈئیر غضنفر نہیں جو انہیں خود ٹکٹ تقسیم کر کے وزیراعظم بنائے، جو لوگ کہتے ہیں کہ مسلم کانفرنس کو ریاستی تشخص اور وقار کیلئے بحال کررہے ہیںانہیں بتادینا چاہتاہوں کہ مسلم کانفرنس ماضی میں کس کے ہاتھوں کھلونا بنی رہی کس سے ٹکٹ ملتے رہے اور فیصلے کہاں ہوتے رہے مجھ سے سچ نہ نکلوائیں۔ اگر مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کی قربانیوں کو فراموش کر کے تقسیم کشمیر کی راہ ہموار کرنے کیلئے ووٹ دیا گیا تو پھررب کریم ہمیں کبھی معاف کریں گے۔ حکومت میں بہت سارے مسائل بھی ہوتے ہیںنہ ہر شخص کو مطمئن کر سکتے ہیں اور نہ ہر شخص کو نوکری مل سکتی ہے مگر ہم نے آزادکشمیر کی عزت و وقار پر حرف نہیں آنے دیا،ریاست کے اہل پڑھے لکھے، باصلاحیت، ذہین اور غریب طلبہ کو میرٹ پر ان کا حق دیا، آنے والے الیکشن میں اپنی عزت و آبرو کو ووٹ دینا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے آزادکشمیر بھر سے آئے جماعتی عہدیداران، وزرا کرام، مرکزی عہدیداران کے اجلاس کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سینئر ووزیر ووسینئر نائب صدرمسلم لیگ ن آزادکشمیر چوہدری طارق فاروق، سپیکر اسمبلی و سیکرٹری جنرل مسلم لیگ ن آزادکشمیر شاہ غلام قادر، وزرا کرام موجود تھے۔
راجہ محمد فاروق حیدرخان نے کہاکہ گپکار اعلامیے کی حمایت نہیں کر سکتے مقبوضہ کشمیر میں ہندوستان نواز سیاستدان چال چل رہے ہیں اور ان کا مطمعہ نظر اقتدار ہے، ہندوستان مقبوضہ کشمیر کے اندر منظم پالیسی کے تحت کشمیریوں میں تقسیم درتقسیم کا عمل شروع کیے ہوئے اور تمام وسائل استعمال کرررہا ہے اور اس کے باوجود بھی آزادی پسندوں کو توڑنے میں کامیاب نہیں ہوا۔ آزادکشمیر بھی اس کے ٹارگٹ پر ہے لیکن ہمیں آنکھ کان کھلے رکھنے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ آزاد کشمیر کے لوگ گلگت صوبہ بننے کا فیصلہ اور آزادکشمیر کے الیکشن کو ایک تناظر میں دیکھیں، صرف حکومت نہیں بنانی، کچھ لوگ آزادکشمیر کی حکومت بنانے کیلئے ہر قسم کی بات ماننے کو تیار ہیں مگر مسلم لیگ ن کیلئے یہ چیز کسی صورت قابل قبول نہیں، تحریک آزادی کشمیر کے ساتھ کسی کو غداری نہیں کرنے دینگے، کشمیریوں کی قربانیوں کو کسی صورت فراموش نہیں کیا جاسکتا، گزشتہ بیس سالوں میں ایک لاکھ سے زیادہ کشمیری شہید ہوئے۔ 1947میں صرف جموں میں 2لاکھ37ہزار لوگوں کو شہید کیا گیا،11ہزار خواتین کی عصمت دری کی گئی، 6ہزار گمنام قبریں ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کے دیگر صوبوں کی آبادی، رقبہ اور وسائل کے حوالہ سے آزادکشمیر بہت چھوٹا علاقہ ہے، پھر ہمیں کہیں یہ نہ فیصلہ کرنا پڑجائے کہ ہمیں کس کے ساتھ منسلک ہونا ہے، کشمیر تقسیم برصغیر کا نامکمل ایجنڈا ہے اور اس کا صرف ایک ہی حل ہے کہ اقوام متحدہ کی قرارادادوں کے مطابق رائے شماری کروائی جائے دیگر کسی قسم کے فارمولے کو کشمیری مسترد کرتے ہیں، کشمیریوں نے قربانیاں کسی فارمولے کیلئے نہیں دیں اور نہ ہی کسی خطے کی جغرافیائی تبدیلی کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ تیرہویں آئینی ترمیم سے کشمیر کونسل کی استعماریت کا خاتمہ کیا، آزادکشمیر مالی طور پر خود کفیل ہوا، بااختیار اور باوقار ہوا ہے، اس وقت ہم ایک روپے کے مقروض نہیں ہیں، کشمیر کونسل جن کیلئے اے ٹی ایم تھی انہیں اس کے خاتمے کا افسوس ہے۔
واپس کریں