تقسیم کشمیر سے پاکستان کے وجود کو خطرات،13ویں آئینی ترمیم اہم سنگ میل ہے،وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر کی زیر صدارت کابینہ اور جائزہ اجلاس
No image مظفرآباد۔ وزیر اعظم آزاد جموں وکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ معاہدہ کراچی کے تحت حکومت آزاد کشمیر نے گلگت بلتستان کے انتظامی معاملات حکومت پاکستان کے حوالے کیے لیکن حکومت پاکستان نے گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کے فیصلہ میں حکومت آزاد کشمیر کو شامل نہیں کیا۔ سیاسی ضرورتوں کے تحت مسئلہ کشمیر کو خراب کیا جارہا ہے۔ کشمیر کی تقسیم سے وطن عزیز پاکستان کے وجود کو خطرات لاحق ہیں۔ ہمارا آئینی مستقبل ابھی تک واضح نہیں لیکن نظریاتی طور پر ہم نے اپنا مستقبل پاکستان کے ساتھ وابستہ کر رکھا ہے۔ پاکستان میرے ایمان کا حصہ ہے۔ ہمارے تقریباتمام دریاں کے منبہ مقبوضہ کشمیر میں ہیں جوہندوستان کے قبضہ میں ہے۔ پاکستان کو اس وقت سکیورٹی آف واٹر، سکیورٹی آف انرجی، بااختیار پارلیمنٹ،بااختیارعدلیہ اور Opportunity for Allکے نظریہ کی ضرورت ہے۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے لیکن بدقسمتی سے ہم گندم، چینی اور سبزیاں باہر سے درآمد کرتے ہیں۔ جس مشرقی پاکستان کو ہم بوجھ سمجھتے تھے آج وہ ترقی میں ہم سے آگے نکل چکا ہے۔ آج آرمی چیف نے اچھی بات کی ہے کہ ہمیں اپنا گھر ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے لیکن جب میاں محمد نواز شریف نے یہ بات کی تو انہیں انڈین ایجنٹ قرار دیا گیا۔ ثاقب نثار نے ملک کو 122ارب روپے کا نقصان پہنچایا لیکن اسے پوچھنے والا کوئی نہیں۔ آزاد کشمیر کے عوام اور حکومت مقبوضہ کشمیر کے عوام کی قربانیوں کے امین ہیں جو انہوں نے 1947سے لر کے اب تک دی ہیں۔ اگر ہم نے انکی قربانیوں کو فراموش کیا تو ہم پر اللہ کا عذاب نازل ہوگا۔گلگت بلتستان کے حوالہ سے عسکری اور سیاسی قیادت کی ایک اعلی سطحی میٹنگ میں وزیر اعظم پاکستان تشریف ہی نہیں لائے۔ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے سکیورٹی کونسل کی قرار دادوں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ کشمیری اس مسئلہ کے بنیادی فریق ہیں کشمیریوں کے بغیر اس مسئلے کو کوئی حل نہیں ہو سکتا۔ تمام سیاسی قیادت اور مکتہ فکر، وکلا، پروفیسر، میڈیا کے ساتھ ملکر مسئلہ کشمیر کے مستقبل کے حوالہ سے ہماری تجاویز بنا کر حکومت پاکستان کو بھیجوائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کابینہ کے غیر رسمی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وزرا کرام، سیکرٹریز حکومت،وائس چانسلرجامعہ کشمیر،وائس چیئرمین بار کونسل، سینٹرل پریس کے صدر، وائس چیئرمین پریس فانڈیشن ودیگربھی موجود تھے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ وزیر پاکستان اور آرمی چیف کی جو حالیہ تقاریر ہیں وہ اس بات کی متقاضی ہیں کہ ہم مشترکہ طور پر ان کو ٹھوس تجاویز بھیجوائیں۔ ہم سب کو مل کر اس حوالہ سے ایک حکمت عملی مرتب کرنی ہو گی اور اپنی تحریری تجاویز حکومت پاکستان کو ارسال کرنا ہو گی تاکہ ہم اس حوالہ سے اپنا لائحہ عمل واضح کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا، وکلا، بیوروکریسی، یونیورسٹی پروفیسرز اس حوالہ سے اپنی اپنی میٹنگ بلائیں اور لائحہ عمل طے کریں۔ سیاسی قیادت کے ساتھ مل کرہم بھی اس حوالہ سے تجاویز مرتب کریں گے جس میں آئندہ کا لائحہ عمل طے ہوگا۔ ہم نے اچھے ماحول میں اور مہذب انداز میں مدلل طریقے سے اپنی تجاویز پیش کرنی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہندوستان غاصب اور جارح ہے جبکہ پاکستان بین الاقوامی سطح پر ہمارا اکلوتا وکیل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت دشمن ہماری صفوں میں داخل ہو چکا ہے، ہم نے مل کر اس کا مقابلہ کرنا ہے۔ اگر ہم نے اس وقت کوئی پالیسی نہ بنائی تو زمانہ قیامت کی چال چل جائے گا۔ہم سب کو مل کر ایک ایجنڈا دینا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں قومی اتفاق رائے قائم ہوتا دیکھائی نہیں دیتا ہم نے حق اور سچ کی بات کرنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم کسی کے غلام نہیں ہیں ہماری سوچ پر کوئی پابندی لگانہیں سکتا۔ خطہ کی اقتصادی ترقی ضروری ہے لیکن حکومت پاکستان مراسم بڑھانے کے لیے کشمیریوں کو دا پر نہیں لگا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ ایک اجلاس میں گلگت بلتستان کو وہی حیثیت دینے کا فیصلہ ہوا تھا جو آزادکشمیر کی حیثیت ہے لیکن اگلے اجلاس میں یہ فیصلہ تبدیل کر دیا گیا۔ رائے شماری کا نعم البدل کوئی اور فیصلہ نہیں ہو سکتا۔ میں نے وزیر اعظم پاکستان، آرمی چیف، آئی ایس آئی کے سربراہ،و زیر خارجہ اور دیگر متعلقہ لوگوں کو بتا دیا ہے کہ اگر مقبوضہ کشمیر کے اندر تحریک خاموش ہوگئی تو ہمارے لیے اچھا نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ کشمیر معاشی طور پر خوشحال خطہ ہے ہندوستا ن نے جبر ی قبضے کے بعد مقامی آبادی کے حقوق ضبط کیے جس کے باعث لوگوں کو شدید مشکلات اٹھانا پڑیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے وزیر امور کشمیر نے کہا کہ میں یہاں اپنی جماعت مضبوط کرنے کے لیے فنڈز خرچ کرنا چاہتا ہوں مجھے فنڈز دیں میں نے جواب دیا کہ یہاں کوئی ایسا طریقہ نہیں کہ آپ پیسے بانٹیں اور ووٹ لیں۔ اگر آپ نے یہاں پیسے بانٹنے کی کوشش کی تو یاد رکھیں ہندوستان کے پاس آپ سے زیادہ پیسہ ہے۔ ہماری حکومت آزادکشمیر کے عوام کے حقوق کی ترجمان حکومت ہے۔ بیوروکریسی یہ جان لے کہ میں اس وقت تک وزیر اعظم ہوں جب تک نیا وزیر اعظم حلف نہیں لے لیتا۔ اگر کسی نے غفلت کی تو پھر وہ نتائج کا ذمہ دار خود ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر میں 1956کی اسمبلی میں وزیر اعظم اور صدر تھا اور وہاں کافی حد تک بااختیار اسمبلی تھی مگر جب انہوں نے ہندوستان کے حق میں الحاق کی قرارداد منظور کی تو اس کو سلامتی کونسل نے مستر د کیا حالانکہ اس وقت وہ ہندوستان کے اندر سب سے بااختیارترین اسمبلی تھی۔
وزیراعظم آزادکشمیر نے کہاکہ آج کل بدقسمتی سے ملک میں اتفاق کے بجائے نفرتیں پروان چڑھائی جارہی ہیں۔ ہندوستان جو کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا راگ الاپتا ہے اس کی پارلیمان کے50فیصد اراکین پر سنگین نوعیت کے جرائم کے مقدمات درج ہیں مگروہ اپنا فیس باہر نہیں لاتا۔
وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان نے کہا کہ تیرہویں آئینی ترمیم آزادکشمیر کی تاریخ میں اہم سنگ میل تھا، میری خواہش تھی کہ ججز کی تقرری کے معاملے کو حل کریں جو کہ 1975میں پیپلز پارٹی نے یکطرفہ طور پر کشمیر کونسل دیا تھا اس حوالہ سے ہماری اسمبلی دو تہائی اکثریت سے ترمیم کرسکتی ہے مگر اس وقت جو متعلقین تھے انہوں نے کہاکہ یہ معاملہ اس طرح چھوڑاجائے بعد میں ہمیں کہاگیا کہ اس میں کونسل کا کردار آگیا اور ہم نے فوری طور پر وہ اختیار چیئرمین کشمیر کونسل کو دیدیا اس ترمیم کے لیے ہمیں حکومت پاکستان کی اجازت نہیں چاہیے اب بھی اگر سارے سٹیک ہولڈڑز متفق ہوں تو ہم ترمیم دوبارہ لا سکتے ہیں۔
وزیراعظم آزادحکومت ریاست جموں وکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان کی زیر صدارت مڈایئر رویو Mid year Review میٹنگ میں کابینہ کے اراکین، چیف سیکرٹری، سیکرٹری صاحبان اور سربراہان محکمہ جات نے شرکت کی۔ اس موقع پر ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات ڈاکٹر ساجد محمود چوہان نے اجلاس کو آزاد کشمیر میں جاری ترقیاتی عمل اور فنڈز کے تصرف کے حوالہ سے بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ اس قت تک آزاد کشمیر کو 17600ملین روپے کے فنڈز ریلیز ہو چکے ہیں۔ 19مارچ تک 59فیصد فنڈز خر چ ہو چکے ہیں۔ اس طرح اب تک 80فیصد ریلیز حکومت آزا دکشمیر کو جاری ہو چکی ہیں۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ آئندہ بجٹ بھی ہماری حکومت پیش کرے گی۔ ترقیاتی عمل کو شفاف انداز میں جاری رکھا جائے اور مقررہ مدت کے اندر اہداف کا حصول یقینی بنایا جائے۔ جن محکمہ جات کے اخراجات کم ہیں انکے وزرا اور سیکرٹری صاحبان ملکر جائزہ لیں اور ترقیاتی عمل کو تیز کریں تاکہ بروقت فنڈز کا تصرف ممکن بنایا جاسکے۔ وزیر اعظم نے اس موقع پر ٹینڈرنگ کے عمل میں ٹھیکیداران کی جانب سے Lowریٹس دینے کے عمل کو روکنے کے لیے چیف سیکرٹری کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی جس میں سیکرٹری ورکس، سیکرٹری فزیکل پلاننگ و ہاسنگ اور سیکرٹری قانون ممبران ہونگے۔ کمیٹی اس حوالہ سے جائزہ لے کر رپورٹ پیش کرے گی اور اگر اس حوالہ سے رولز میں ترمیم کی ضرورت ہوئی تو ترمیم کی جائیں گی۔ وزیر اعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ ہماری حکومت نے بلا تخصیص آزاد کشمیر کے عوام کی خدمت کا تہیہ کر رکھاہے۔ ہم نے اپنے ساڑھے چار سالہ دور اقتدار میں بلا تخصیص تعمیر وترقی کا عمل مکمل کیا اور عوامی ضروریات کے تحت منصوبہ جات دئیے ہیں۔ ہمارے منصوبہ جات زمین پر نظر آر ہے ہیں۔ جو کام ہمارے دو ر اقتدار میں ہوا اس کی مثال ماضی میں کہیں نہیں ملتی۔
اجلاس میں محکمہ ورکس /مواصلات سیکٹر کے 1ارب 23کروڑ روپے سے زائد مالیت کے 02منصوبہ جات کی منظوری دیدی گئی ۔منظور کیے گئے منصوبہ جات میں ضلع نیلم میں دودھنیال، شاردہ روڈ 16کلومیٹر روڈ کی بہترگی و پختگی اور ضلع باغ میں 44کلومیٹر رابط سڑکات کی تعمیر، بہتر گی و پختگی کے منصوبہ جات شامل ہیں۔ اس موقع پر وزیر اعظم نے ترقیاتی منصوبہ جات کو مقررہ مدت کے اندر شفاف انداز میں مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ وزیر اعظم نے چیف سیکرٹری اور سیکرٹری صاحبان کو ہدایت کی کہ وہ ترقیاتی عمل کی مانیٹرنگ کریں اور بروقت فنڈز کا تصرف یقینی بنائیں۔

واپس کریں