مقبوضہ جموں وکشمیر کے سرکاری افسران میں مسلم افسران تعداد میں بہت کم ہیں
No image سرینگر( کشیر رپورٹ) ہندوستانی مقبوضہ جموں وکشمیر کے سرکاری افسران میں مسلمانوں کی تعداد بہت کم ہے ، آبادی کا غالب تناسب رکھنے والے مسلمانوں کی سرکاری افسران میں اپنے حصے سے بہت کم تعداد کشمیریوں سے ہر شعبے میں زیادتی کی ایک بڑی مثال ہے۔
ہندوستانی پارلیمنٹ کے رکن اکبر اویسی نے پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران کہا کہ ایک ایسی ریاست جہاں مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہے،لیکن سرکاری افسران میں ان کا تناسب بہت کم ہے۔مقبوضہ جموں وکشمیر میں سرکاری محکمہ جات کے سیکرٹریز کی تعداد 24 ہے جن میں محض 5 مسلمان ہیں،آئی ایس کی 58پوسٹس میںصرف12مسلمان ہیںیعنی17.24 ۔ 2011 کی مردم شماری کے مطابق جموں وکشمیر میں68.31مسلمان اور28فیصد ہندو آبادی ہے،جبکہ دوسرے درجے کے523انتظامی افسران (کشمیر ایڈ منسٹریٹیو آفیسرسروس)میں 220 یعنی42.6مسلمان ہیں۔'آئی پی ایس' میں66پوسٹس ہیں جس میں سے صرف 7مسلمان ہیں۔دوسرے درجے کے 248 افسران میں 108یعنی 43.54 فیصد مسلمان ہیں۔
اکبر اویسی نے کہا کہ ہندوستانی حکومت کا یہ دعوی غلط ہے کہ کشمیر ریاست کا علاقہ غریب علاقہ ہے،کشمیر میں غربت سے نیچے والے لوگوں کا تناسب 10.31 ہے جبکہ پورے ہندوستان میں21.92 ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ یہ بتائے کہ کتنے کشمیری طالب علم نوجوان دہلی، آگرہ ،بریلی اور ہندوستان کی دوسری جیلوں میں قید ہیں اور ان کے والدین کو ان سے ایک ملاقات کے لئے اپنی جائیدادیں فروخت کرنا پڑ رہی ہیں یا قرضہ لینا پڑرہا ہے۔
واپس کریں