پاکستان،ہندوستان رابطے، مزاکرات کے امکانات اور مسئلہ کشمیر، ' را' کے سابق سربراہ اے ایس دولت کا انٹرویو
No image نئی دہلی ( کشیر رپورٹ) پاکستان اور ہندوستان کے درمیان حال ہی میں کشمیر کی ' لائین آف کنٹرول' پر سیز فائر کی بحالی ،دونوں ملکوں کے درمیان رابطوں کی بحالی، مزاکرات کی صورتحال اور مسئلہ کشمیر سے متعلق ہندوستان انٹیلی جنس ایجنسی ' را' کے سابق سربراہ اے ایس دولت نے ' دی پرنٹ' کو ایک انٹرویو دیا ہے۔ اے ایس دولت نے دونوں ملکوں کے درمیان رابطوں کی بحالی کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کے لئے یہ اچھا موقع ہے کہ معاملات طے کر لینے چاہئیں، ہندوستان کو پاکستان سے کشمیر پر بات کرنے سے گھبرانا نہیں چاہئے، ہندوستان کو کشمیر میں سیاسی عمل بحال کرنا چاہئے اور ہندوستان نواز سیاستدانوں کو اعتماد میں لیا جانا چاہئے،دولت نے دعوی کیا کہ حریت کانفرنس ختم ہو چکی ہے اور پاکستان کی 'کشمیر سٹوری' بھی ختم ہو چکی ہے۔دولت نے کہا کہ پاکستان کو ہندوستان کی طرف سے کشمیر میں سیاسی عمل بحال کرنے کے معاملے کی حمایت کرنا چاہئے، پاکستان اور ہندوستان کے درمیان رابطوں میں ' یو اے ای' کے علاوہ امریکہ،برطانیہ اور اسرائیل کا بھی کردار ہے۔

اے ایس دولت نے ' دی پرنٹ' کو دیئے گئے وڈیو انٹرویو( جو آج3 اپریل کو شائع ہوا) میں اس سوال کہ پاکستان بات کر رہا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ حل کرنے کی جبکہ ہندوستان کا کہنا ہے کہ آئین کی دفعہ 370ختم کر کے کشمیر کا مسئلہ حل کر لیا گیا ہے، کے جواب میں کہا کہ سیز فائر دوبارہ قائم ہونا ایک مثبت بات ہے ، اس کا خیر مقدم کیا جانا چاہئے، دونوں ملکوں کا اپنا اپنا نقطہ نظر ہے،دونوں ملکوں کے لئے کوئی آسان بات نہیں ہے ،مودی کے مقابلے میں عمران خان کمزور پوزیشن میں ہیں۔دولت نے کہا کہ دونوں ملکوں کو اعتماد کی بحالی کے چھوٹے اقدامات اٹھانے چاہئیں، یہ مثبت بات ہو گی، اگر ہندوستان بات نہیں کر رہا جبکہ میرا خیال ہے کہ بات کر رہا ہے، یہ بڑی مثبت بات ہے کہ پاکستان کے ساتھ رابطے قائم کئے جا رہے ہیں۔مودی کا پاکستان ڈے کے موقع پر خط اور عمران خان کا جواب مثبت بات ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس بارے میں روڈ میپ موجود ہے جس پر دونوں طرف سے پیش رفت ہو رہی ہے،دفعہ370کے خاتمے کے وقت سے پاکستان نے ہائی کمشنر کو واپس بلا لیا،سفارتی سطح کے تعلقات کی سطح کم کر لی، دونوں ملکوں کے اپنے سفیروں کو واپس متعین کرنا چاہئے، ویزے میں سہولیات دینی چاہئیں۔دولت نے کہا کہ اگر معاملات اسی طرح چلتے رہے تو پاکستان کرکٹ ٹیم اس سال اکتوبر میں ٹی 20 کرکٹ ورلڈ کپ میں شرکت کے لئے ہندوستان کا دورہ کر سکتی ہے،بتدریج معاملات میں بہتری کی توقع ہے تاہم یہ ہو گا کیسے ؟ یہ دوسرا معاملہ ہے۔

https://www.youtube.com/watch?v=coaKsPGrk2E&list=LL&index=3

دولت نے کہا کہ کرائون پرنس ' یو اے ای' اس معاملے میں بہت متحرک ہیں اور اس سے انہیں عرب دنیا میں نمایاں حیثیت حاصل ہو رہی ہے،اس معاملے میں امریکہ کے علاوہ برطانیہ اور اسرائیل کا بھی کردار ہو سکتا ہے، دولت نے کہا کہ لگتا ہے کہ ' یو اے ای' کے کرائون پرنس دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کے حوالے سے مزید اہم کردار ادا کریں گے۔

اے ایس دولت نے کہا کہ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان تعلقات میں بہتری کے معاملات جنرل قمر جاوید باجوہ اور اجیت ڈوول کنٹرولنگ کردار ادا کر رہے ہیں،یہ دونوں تمام ' پروسیس' کے پیچھے ہیں،ان دونوں کی مرضی سے ہی معاملات چل رہے۔دولت نے کہا کہ لگتا یہی ہے کہ جنرل باجوہ اور اجیت ڈوول کے درمیان رابطے ہیں۔

اس سوال کہ ' یو اے ای' کی صورت ہندستان نے ' تھرڈ پارٹی' کے ملوث ہونے کی بات تسلیم کر لی ہے؟ کے جواب میں دولت نے کہا کہ دونوں ملکوں کو کوئی تعلقات بہتر کرنے پر مجبور نہیں کر سکتا ،تاہم سہولت کاری کے حوالے سے مختلف حلقے شامل ہو سکتے ہیں،' یو اے ای' کے دونوں ملکوں کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اور ' یو اے ای' عرب دنیا میں بڑا کردار ادا کرنا چاہتا ہے تا کہ وہ سعودی عرب کی جگہ عرب دنیا کی قیادت حاصل کر سکے۔دولت نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت ایک الگ معاملہ ہے،تاہم تجارت شروع ہونا بھی مثبت بات ہو گی، دولت نے کہا کہ پاکستان کی طرف سے ہندوستان کو' موسٹ فیورڈ نیشن' کا رتبہ دے دینا چاہئے۔

اے ایس دولت نے کہا کہ جہاں تک کشمیر کا معاملہ ہے تو یہ ہمیشہ سامنے آئے گااور ہندوستان کو کشمیر پر بات کرنے سے ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہئے،اگر پاکستان کہتا ہے کہ '' کشمیر کور اشو ہے'' تو اس پر بات کرنے میں ہندوستان کے لئے کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہئے۔دولت نے دعوی کیا کہ پاکستان نے دفعہ370کے خاتمے کو تسلیم کر لیا ہے اور یہ سمجھ لیا ہے کہ ہندوستان اسے واپس نہیں لے گا،دولت نے کہا کہ یہ باتیں یکطرفہ نہیں ہو سکتیں،اس بارے میں ہماری طرف سے ' اکاموڈیشن'' ہونی چاہئے، جموں وکشمیر ریاست کی بحالی ہندوستان کی طرف سے ' اکاموڈیشن' ہو سکتی ہے،اور پاکستان کو کشمیر میں پولیٹیکل پروسیس کی حمایت کرنا چاہئے۔دولت نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کو کشمیر جا کر یہ کہنا چاہے کہ ریا ست کی حیثیت بحال ہو گی اور ہندوستان کا کشمیر میں ڈیموگرافک تبدیلیاں نہیں کرے گا، ہندوستان کی طرف سے ریاستی حیثیت کی بحالی اور ڈیموگرافی تبدیل نہ کرنا کشمیریوں کی ضرورت ہے،اور ایسا کچھ ہو کہ پاکستان کو اپنے عوام کو کچھ دکھانے کا موقع بھی مل سکے۔

دولت نے کہا کہ عمران خان کو کورونا ہونے پر مودی نے فوری طور پر ان کی جلد صحت یابی کی دعا کا پیغام بھیجا ، کشمیر میں فاروق عبداللہ کو کورونا ہوا تو مودی نے انہیں بھی خیر سگالی کا پیغام ارسال کیا، مودی جی کو کشمیر جا کر تمام مین سٹریم (ہندوستان نواز) سیاستدانوں سے ملاقات کرنا چاہئے، اس سے کشمیریوں کو اعتماد ملے گا،ورنہ گرمیوں میں کشمیر میں'' حرارت'' میں اضافہ ہو گا اور کشمیر میں تشدد بھی جاری رہے گا،ہندوستان یہ دعوی نہیں کر سکتا کہ کشمیر میں تشدد ختم ہو گیا ہے۔

دولت نے کہا کہ دونوں ملکوں کو آگے بڑہنے کی ضرورت ہے،کچھ ' آئوٹ آف باکس'' سامنے لانے کی ضرورت ہے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کے جواب میں دولت نے کہا کہ جب انور سادات1977 میںوزیر اعظم بیگن سے ملنے اسرائیل گئے تو یہ بہت جرات مند اقدام تھا،اس سے ڈیڈ لاک ختم ہوا اور مشرق وسطی میں امن عمل بحال ہوا،دولت نے کہا کہ عمران خان کو دہلی اور مودی کو اسلام آباد جانا چاہئے،انہیں کچھ '' بڑا'' کرنا چاہئے،اس کے لئے میدان تیار ہونا چاہئے۔

مقبوضہ کشمیر میں سیاسی عمل کی بحالی کے سوال کے جواب میں دولت نے کہا کہ اسی لئے میں کہتا ہوں کہ مودی جی کو کشمیر جا کر مین سٹریم کے تمام سیاستدانوں سے ملنا چاہئے جنہیں اس وقت اندھیرے میں رکھا گیا ہے۔
ہندوستانی حکومت کی طرف سے حریت کانفرنس کو نظر انداز کرنے کی صورتحال کے سوال کے جواب میں دولت نے ہنستے ہوئے کہا کہ '' حریت از اوور'' ( حریت ختم ہو چکی ہے)جیسا کہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کی سٹوری ختم ہو چکی ہے۔دولت نے کہا کہ اس کے باوجود حریت میں ایسے رہنما ہیں جو اہم ہیں،ان کی خواہشات کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہئے،ان کا کردار ہے،جیسے کہ میر واعظ، ایسے رہنمائوں کو مین سٹریم ( ہندوستانی دھارے) کے سیاسی عمل میں لایا جانا چاہئے،اور پاکستان کو بھی اس عمل کی حمایت کرنا چاہئے۔ دولت نے کہا کہ یہ بات چیک کرناچاہئے کہ کیا پاکستان کشمیر میںسیاسی عمل بحال کرنے کے عمل کی حمایت کرے گا؟
دولت نے کہا کہ جارج ٹینٹ جب' سی آئی اے' کا چیف تھا ،وہ ہندوستان آیا، اس وقت میں (دولت) 'را' کا سربراہ تھا، وہ اسلام آباد سے ہو کر آیا تھا، نے کہا کہ مشرف ہندوستان کے ساتھ ' بزنس' کرنا چاہتا ہے،ہندوستان کو میر واعظ کو بھی' چیک ' کرنا چاہئے، اس میں کیا قباحت ہے،اس نے ایل کے ایڈوانی سے بات چیت کی، من موہن سنگھ سے بات کی ،وہ وزیر اعظم واجپائی سے بھی ملے،میر واعظ وہ واحد رہنما تھا جس نے 2014 الیکشن میں مودی کی حمایت کی تھی تا کہ' واجپائی پراسیس' جاری رکھا جائے۔

دولت نے کہا کہ اس وقت ہندوستان بہت مضبوط ہے ، پاکستان کو اقتصادی مشکلات درپیش ہیں ،اس لئے یہ مناسب وقت ہے کہ معاملات طے کر لئے جائیں،تاہم 2006میں ہندوستان نے جو موقع کھویا، اس کے مقابلے میں اب '' ونڈو'' چھوٹی ہے،جیسا کہ شیکسپئر نے کہا تھا کہ اگر کرنا ہے تو جلدی کر دیا جائے۔

دولت نے کہا کہ ہندوستان میں سیاستدانوں کی حمایت کا کوئی مسئلہ نہیں ہے،ہندوستان میں پولیٹیکل اسٹیبلشمنٹ نریندر مودی ہے۔دولت نے کہا کہ باجوہ پاکستانی جنرلز میں سب سے زیادہ امن سے محبت کرنے والے جنرل ہیں۔دولت نے کہا کہ پاکستان میں جنرل قمر جاوید جاجوہ، وزیر اعظم عمران خان اور سیکورٹی ایڈوائزر معید یوسف ایک '' پیج'' پہ ہیں۔



واپس کریں