آزاد کشمیر اسمبلی میں بے بنیاد خبروں کی اشاعت کا معاملہ زیر غور،4مسوادات قانون، مہاجرین مقیم پاکستان کی رہائشی کالونیوں کا معاملہ
No image مظفرآباد ۔ وزیراعظم آزاد جموں وکشمیر راجہ محمد فاروق حیدرخان نے کہا ہے کہ آزادی صحافت کے حامی ہیں، آزاد کشمیر میں آزادانہ صحافت پر کسی قسم کی کوئی قدغن نہیں ہے۔ مثبت تنقید سر آنکھوں پر لیکن بغیر تحقیق بے بنیاد الزامات کی ہر گز اجازت نہیں دیں گے۔ صحافی معاشرے کا چہرہ ہیں اور صحت مند معاشرے اور ملک کی تعمیر کے لیے ہر کسی کو اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ خبروں کی تحقیقات کے لئے معاملہ استحقاق کمیٹی کے سپرد کیا جائے تاکہ قصور وارکا پتہ چل سکے۔ان خیالات کا اظہار وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے منگل کے روز آزاد جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی کے اجلاس میں ڈپٹی سپیکر سردار عامر الطاف کی جانب سے بغیر تحقیق خبروں کی اشاعت کے حوالہ سے نقطہ اعتراض پر اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔منگل کے روز جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم آزادکشمیر نے قانون ساز اسمبلی کے متعلق کر پشن کے الزامات کے رد عمل میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اسمبلی ملازمین کی مراعات میں اضافہ کابینہ کی منظوری سے ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آڈٹ پیرا پرو سیجرل باقاعدگیوں کی نشاندہی کرتا ہے اور کرپشن کے زمرے میں نہیں آتا۔ اسمبلی سیکرٹریٹ کا موقف جانے بغیر خبر نشر نہیں کی جانی چاہیے تھی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ممبران اسمبلی کو صرف ترقیاتی کاموں کے لیے فنڈز فراہم کیے جاتے ہیں،آفات سماوی کی مد میں کسی بھی معزز ممبر کو فنڈز فراہم نہیں کئے جاتے۔ حکومت حالیہ بارشوں اور ٹریفک حادثات کے نتیجے میں متاثر ہونے والے افراد کی بحالی کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے۔ جنگلات کی زمیں کسی کے نام منتقل نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ آزادکشمیر میں ریڈ زون اور خطر ناک علاقو ں میں رہائشی مکانات کی تعمیر پر پابندی لگائیں گے تاکہ انسانی جانوں اور املاک کے نقصان سے بچا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت قدر تی آفات کی وجہ سے بے گھر ہونے والے افراد کی آبادکاری کے لیے تمام امکانات کا جائزہ لے کر حتمی فیصلہ کرے گی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ آزاد کشمیر کے 4اضلاع میں مہاجرین کیمپ قائم ہیں وقت کے ساتھ ساتھ مہاجرین کے خاندانوں میں اضافہ ہو رہا ہے جس سے رہائشی مشکلات پیش آرہی ہیں۔ مہاجرین کی آبادی کاری کی مختلف تجاویز زیر غور ہیں۔ مہاجرین کی رائے کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ مہاجرین ہمارے بھائی ہیں۔ مہاجرین کے رہائش سمیت تمام مسائل حل کریں گے۔انہوں نے کہا کہ مہاجرین کو ترجیحی طور پر آزاد کشمیر میں آباد کیا جائے گا۔اس موقع پر سپیکر آزادکشمیر قانون ساز اسمبلی شاہ غلام قادر نے ڈپٹی سپیکر سردار عامر الطاف کی جانب سے نشاندہی پر اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں کی تحقیق کے لیے استحقاق کمیٹی کو اگلے اجلاس سے قبل رپورٹ پیش کرنے کی رولنگ دی ہے تاکہ معزز ایوان آئندہ اس قسم کے بے بنیاد خبروں کی زینت نہ بنے
آزاد جموں وکشمیر قانون سازاسمبلی کا اجلاس ڈپٹی سپیکر سردار عامر الطا ف کی زیر صدارت منگل کے روز شرو ع ہوا۔ اجلاس میں 4 مسودات قانو ن پیش کیے گئے جنہیں ایوان نے مجلس منتخبہ کے سپرد کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق مسود ہ قانو ن
"The Azad Jammu and Kashmir Waqf Properties (Amendment ) Ordinanace, 2021.,
"The Azad Jammu and Kashmir Trusts (Adaption) Ordinanace, 2021.,
"The Azad Jammu and Kashmir Employees Benevolent Fund and Group Insurance (Amendment) Act, 2021.
The Azad Jammu and Kashmi Juvenile Justice Act,2021. "
ایوان نے مجلس منتخبہ کے سپر د کیے۔
آزاد جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی کے منگل کے روز ہونے والے اجلاس میں ممبر اسمبلی عامر عبدالغفار لون کے ایک سوال کے جواب میں ایوان کو بتایا گیا کہ کوئٹہ میں مقیم بے گھر مہاجرین جموں وکشمیر کو رہائشی مکانیت فراہم کرنے کے لئے قائم کشمیر کالونی میں رہائشی پلاٹوں کی کل تعداد 488ہے۔ الاٹمنٹ کے سلسلے میں وزیربحالیات (وقت)، ثانیا وزیر ٹرانسپورٹ محمد طاہر کھوکھر اور پھر وزیر سپورٹس یوتھ و کلچر محمد سلیم بٹ کی سربراہی میں حکومت وقت کی جانب سے کمیٹی قائم کی گئی تھی جس کی منظوری سے مہاجرین کے حق میں الاٹمنٹ ہوئی۔ مہاجرین وادی کشمیر 223پلاٹ، مہاجرین جموں 65پلاٹ اور دیگر باشندگان ریاست جموں و کشمیر مقیم کوئٹہ 200پلاٹ۔ کشمیر کالونی کوئٹہ میں کمرشل پلاٹوں کی کل تعداد 15ہے جو تاحال بلا الاٹ ہے۔ رفاہی پلاٹوں کی کل تعداد 7ہے ان میں 02پاک، 01مسجد، 02سکول، 01ڈسپنسری اور 01کمیونٹی ہال شامل ہے۔ ایوان کو بتایا گیا کہ حسب رپورٹ کمشنر بحالیات پلاٹ برائے مسجد کی حد تک ادارہ معارف القرآن کوئٹہ کو NOCبرائے تعمیر سال 2015سے جاری شدہ ہے۔ موقع پر چار دیواری تعمیر شدہ ہے۔ البتہ مسجد کی تعمیر کا کوئی کام نہ ہوا ہے۔ دیگرتمام رفاہی پلاٹ کسی کو الاٹ نہ ہیں اور نہ ہی کوئی تعمیرات ہوئی ہیں۔
واپس کریں