کشمیریوں سے مشاورت کی جائے اوربھارت سے مزاکرات میں مسئلہ کشمیر کو اولیت دی جائے، آزا د کشمیر اسمبلی میں قرار دادیں
No image مظفر آباد۔آزاد جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر سردار عامرالطاف کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں ممبران اسمبلی عبدالرشید ترابی اور سید علی رضا بخاری کی جانب سے پیش کر دہ قرار دادوں کو ایوان نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔ ممبراسمبلی عبدالرشید ترابی کی جانب سے پیش کر دہ قرار داد میں کہا گیا کہ آزادجموں وکشمیر قانون سازاسمبلی کا یہ اجلاس 05اگست2019 کے بعد ریاست جموں وکشمیر کی ڈیموگرافی کی تبدیلی کے لئے پے درپے بھارتی اقدامات کی شدید مذمت کرتا ہے جس کے نتیجے میں 30 لاکھ سے زائد غیرریاستی انتہا پسند ہندوں کو ریاستی ڈومیسائل جاری کیئے جاچکے ہیں۔ مزید لاکھوں پراسس میں ہیں۔ بھارتی حکمت عملی کے مطابق آئیندہ ایک آدھ سال میں چالیس تا پچاس لاکھ غیرریاستی ہند انتہا پسندوں کو ڈومیسائل کے اجرا کے بعد مرضی کی انتخابی حلقہ بندیاں کرتے ہوئے نام نہاد انتخابات کے ذریعے ایک ہند انتہا پسند وزیراعلی سرینگر میں متمکن کرنا ہے۔علاوہ ازیں ریاست کا سروس سٹریکچر بھی تباہ کردیا گیا ہے جس کے نتیجے میں کشمیری ملازمین کو ریاست سے بے دخل کرتے ہوئے ان کی جگہ آر ایس ایس کے پروردہ اہلکاران تعینات کیئے جارہے ہیں۔کشمیریوں کو ذاتی جائیدادوں سے محروم کیا جارہا ہے اور دفاعی ضرورت قرار دیتے ہوئے ان کی جائیدادوں پر قبضہ کیا جارہا ہے۔ کارڈن اور سرچ آپریشن(Cordon and Search Operation) کے نام پر ان کی جائیدادیں اور مکانات نذرآتش کی جارہی ہیں، بے گناہ نوجوانوں کو encounterکے نام پر شہید کیا جارہا ہے اور ہزاروں گرفتار کرکے لاپتہ کردیئے گئے ہیں۔
قرار دادامیں کہا گیا کہ بین ا لاقوامی انسانی حقو ق کے اداروں اور ذرائع ابلاغ اور اہل دانش کے واویلے کے باوجود بھارت کشمیریوں کی نسل کشی کی حکمت عملی پر ڈھٹائی سے عمل پیرا ہے۔یہ اجلاس قائدین حریت جناب سید علی گیلانی، شبیر احمد شاہ، یسین ملک، میرواعظ عمر فاروق، اشرف صحرائی، مسرت عالم، آسیہ اندرابی، ڈاکٹر عبدالحمید فیاض اور ان سے وابستہ ہزارو ں کارکنان کو مسلسل قیدوبنداور ان پر نئے نئے مقدمات قائم کرنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اقوام متحدہ، او آئی سی اور عالمی برداری سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ بھارتی ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں کشمیریوں کی نسل کشی اوران کے تشخص کے خاتمہ کی بھارتی حکمت عملی کا توڑ کرنے کے لئے بھارت کے خلاف موثر اقدامات کریں اور اسے مجبور کریں کہ وہ05اگست2019 کے اقدامات سمیت دیگر کالے قوانین واپس لے۔ قائدین حریت اور دیگر گرفتارشدگان کو رہا کرے۔ مقبوضہ ریاست کا فوجی محاصرہ ختم کرتے ہوئے بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں، ریلیف اداروں اور ذرائع ابلاغ کو مقبوضہ ریاست میں رسائی فراہم کرے۔یہ اجلاس پاک بھارت افواج کے درمیان حالیہ سیز فائرکو خوش آئند قرار دیتے ہوئے مطالبہ کرتا ہے کہ بھارت نہتے کشمیریوں کے خلاف جاری آپریشن فی الفور بند کرے اور مسئلہ کے پرامن حل کے لئے اپنا کردار ادا کرے۔ گزشتہ تیس سالہ بھارتی ریاستی دہشت گردی کے باوجود پرعزم کشمیریوں کی جدوجہد آزادی ناقابل تسخیر ثابت ہوچکی ہے۔ اس لئے بھارت نوشتہ دیوار پڑھتے ہوئے خطہ اور عالمی امن کے تحفظ کے لئے کشمیریوں سے کیئے گئے اپنے اور بین الاقوامی برادری کے ساتھ کشمیریوں کے حق خودارادیت کے حوالے سے کئے گئے وعدے پورے کرے اور اس سلسلہ میں فضا کو مزید سازگار بنانے کے لئے کشمیریوں کو باہم بیٹھنے کا موقع فراہم کرے۔اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ سیز فائر کے حوالے سے سید علی گیلانی اور دیگر قائدین حریت کے تحفظات کا ازالہ کیا جائے اور بھارت کے ساتھ کسی طرح کے مذاکرات سے قبل کشمیری قیادت سے مشاورت کا اہتمام کیا جائے۔ اس لئے کہ کشمیری اس مسئلہ کے بنیادی فریق ہیں۔یہ اجلاس مقبوضہ ریاست کے حریت پسندوں کے اس مطالبہ کی بھی بھرپور حمایت کرتا ہے کہ تہاڑ جیل میں مدفون تحریک آزادی کشمیر کے ہیروز شہید مقبول بٹ اور شہید افضل گرو کے جسد خاکی سرینگر کے مزار شہدا میں تدفین کے لئے واگزار کیئے جائیں تاکہ ان کی باقیات اس سرزمین میں آسودہ خاک ہوسکیں۔ جس کی آزادی کے لئے انہوں نے جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔05اگست2019 کے بھارتی اقدامات کے پس منظر میں حکومت پاکستان نے عوامی رائے کا احترام کرتے ہوئے باہمی تجارت بند کرتے ہوئے اپنا ہائی کمشنر بھی واپس بلانے کا فیصلہ کیا۔ جس کی کشمیریوں اور اہل پاکستان نے تحسین کی اور ربھارت کے ساتھ تعلقات کی سطح بہتر کرنے کے لئے بھارتی اقدامات کو کالعدم کرنے سے مشروط کیاگیا۔ اجلاس بھارت سے تجارتی تعلقات کے حوالے سے حالیہ فیصلہ کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے توقع رکھتا ہے کہ حکومت پاکستان بھارت سے تعلقات بہتر بنانے کے عمل کو مسئلہ کشمیر پر پیش رفت سے مشروط رکھے گی اور عالمی سطح پر بھارتی مظالم اجاگر کرنے کے لئے تمام وسائل دستیاب مواقع بروئے کار لائے گی اور ایک جامع اور جارحانہ سفارتی حکمت عملی کی تشکیل دینے کا اہتمام کرے گی۔
اجلاس یہ بھی واضح کرنا چاہتا ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں حق خودارادیت کا حصول ہی مسئلہ کا حتمی او دیرپا حل ہے۔ مقبوضہ ریاست اور دنیا بھر میں کشمیری تارکین وطن اس ہدف کے لئے مصروف عمل ہیں۔ حکومت پاکستان اور ریاست پاکستان کا بھی یہی اصولی موقف ہے جسے کسی طور پر کمزورنہ ہونا چاھیئے۔ نیز کشمیر کا ایسا حل جو ان کی خواہشات اور بنیادی لائحہ عمل کے مغائر ہو،کو قطعا قبول نہ کیا جائے گا اور نہ ہی کوئی مصنوعی حل مسلط کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ممبراسمبلی پیر علی رضا بخاری کی جانب سے پیش کی جانے والی قرار دادمیں کہا گیا کہ آزادجموں وکشمیر قانون سازاسمبلی کا یہ اجلاس مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی فوجی محاصرے، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، نافذ جملہ کالے قوانین، حریت قیادت کی گرفتاریوں، شہریوں کے ماورائے عدالت قتل، میڈیا اورا نسانی حقوق کی تنظیموں پر پابندیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے اور عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ کشمیری عوام پر بھارتی مظالم بند اور مسئلہ کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد کروانے پر کردار ادا کریں۔یہ ایوان مقبوضہ کشمیر کے پرامن شہریوں سے اظہار یکجہتی کرتا ہے اور عالمی برادری و انسانی حقوق کی تنظیموں کوکشمیر کی صورتحال پر خاموشی توڑنے کا کہتا ہے۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنا چاہتا ہے۔05اگست کے اقدام سے تنازعہ کشمیر کے جلد حل کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ کشمیریوں کا غیرقانونی محاصرہ ختم کیا جائے۔ ذرائع ابلاغ پر عائد پابندی ہٹائی جائے، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں بند کی جائیں، کرفیو کا نفاذ نہ کیا جائے، آزادکشمیر کی طرح مقبوضہ کشمیر میں غیرملکی میڈیا کو رسائی دی جائے، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر پابندی ختم کی جائے، خواتین اور بچو ں پر مظالم بند کیئے جائیں، تعلیمی ادارے کھولے جائیں، سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دی جائے۔ بھارت کشمیریوں کی جان چھوڑے اور مقبوضہ کشمیر سے اپنی فوج نکالے تاکہ کشمیریوں کو رائے شماری کے ذریعے آزادانہ ماحول میں اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا موقع مل سکے۔

واپس کریں