بلا تحقیق و تصدیق اورصحافتی اقدار کے منافی خبر کی اشاعت پر آزاد جموں وکشمیر الیکشن کمیشن کا وضاحتی بیان
No image مظفرآباد (31مئی 2021)ترجمان الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ہونے والی پریس ریلیز کے مطابق 31 مئی 2021 کو ایک اخبار میں رپورٹ و خبر شائع ہوئی ہے کہ پاکستان میں مقیم مہاجرین جموں وکشمیر کے حلقوں میں جعلی پشتنی سرٹیفکیٹ کے ذریعہ بوگس ووٹوں کا اندراج کیا گیا ہے۔اخباری رپورٹ و خبر کے مندرجات قانونی تقاضوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے بلا تحقیق و تصدیق شائع کیے گئے ہیں۔ نیز اس رپورٹ میں آزادجموں وکشمیر الیکشن کمیشن کی آئینی حیثیت سے متصادم غفلت اور ملی بھگت جیسے بلا جواز اور توہین آمیز الفاظ کا استعمال کیا گیا ہے جو حقائق کے برعکس اور ادارہ کی آئینی حیثیت اور دائرہ کار کے لحاظ سے ادارہ کو حاصل کلیدی حیثیت اور اختیارات کی رو سے توہین عدالت کے زمرہ میں آتے ہیں۔
اس طور جاری کردہ خبرکے برعکس امر واقعہ یہ ہے کہ آزادجموں وکشمیر الیکشنز ایکٹ 2020 کی رو سے پاکستان میں مقیم مہاجرین جموں وکشمیر کے 12 حلقوں کی انتخابی فہرستہا کی تیاری /اپڈیشن کے لیے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنرز کو بطور رجسٹریشن آفیسر جبکہ ریجنل الیکشن کمشنر زکو بطور ریوائزنگ اتھارٹیز تعینات کیا گیا تھا۔ اسی طرح آزادکشمیر میں انتخابی فہرستوں کی تیاری کے لیے ضلعی انتظامیہ سے اسسٹنٹ کمشنر ز او رڈپٹی کمشنرز کے عہدوں کے حامل افسران بالترتیب رجسٹریشن آفیسرز اور ریوائزنگ اتھارٹیز مقرر ہوئے تھے۔ لہذاقانونی طور پر ان دونوں اتھارٹیز پر ذمہ داری عائد تھی کہ پاکستان میں مقیم مہاجرین جموں و کشمیر کے 12 حلقوں اور آزادکشمیر بھر کے 33 حلقوں کے لیے انتخابی فہرستوں کی تیاری باقاعدہ شمارکنندگان کے ذریعہ صاف و شفاف اور غیر جانبدارنہ طور پر مرتب کریں گے۔
انتخابی فہرستوں کی تیاری کے لیے مقررہ مراحل میں ابتدائی رجسٹریشن کا کام شمارکنندگان کے ذریعہ رائے دہندگان کا بائیوڈیٹا حاصل کر کے ابتدائی فہرستوں کومشتہر کیا گیا اور ان مشتہر کردہ فہرستوں پر اعتراضات /کلیمز حاصل کیے گئے۔ اعتراضات/کلیمز داخل کردہ اشخاص کو سماعت اور چھان بین کے بعد فیصلہ جات کا اختیار ریوائزنگ اتھاڑٹیز کیعدالتی فرائض منصبی میں شامل تھا۔ لہذاآزادجموں وکشمیر الیکشن کمیشن رجسٹریشن اتھارٹیز اور ریوائزنگ اتھارٹیز کو مرحلہ بر مرحلہ راہنمائی اور معاونت تو فراہم کرتا رہا لیکن ووٹران کی رجسڑیشن کے عمل کے دوران کلیمز /اعتراضات اور ووٹرز کی طرف سے پیش کردہ دستاویزات کے درست یا غلط ہونے کی تحقیقاتی ذمہ داری کلیتا رجسڑیشن ا?فیسرز اور ریوائزنگ اتھارٹیز پر عائد رہی ہے اور اس عدالتی عمل میں کمیشن کی جانب سے مداخلت قانونی طور پر درست عمل نہ تھا اور نہ ہی ایسا کیا گیا۔ تاہم اب آئندہ مرحلہ پر آزادجموں وکشمیر الیکشن کمیشن کو موجودہ قانون کے تحت حتمی طور پر تیار ہونے والی انتخابی فہرستوں کے حوالہ سے انتخابی فہرستوں میں کسی ووٹر کے درج نہ ہونے یا رجسٹریشن کے دوران غلط حقائق یا غیر مصدقہ یا جعلی دستاویزات کی بنیاد پر درج ہونے والے ووٹران کو انتخابی فہرستوں سے قانون و انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے ووٹران کے اندارج یا اخراج کا اختیار حاصل ہے۔لہذا شائع خبر کے مطابق آزادجموں وکشمیر الیکشن کمیشن کے بارہ میں حتمی فہرستوں کے عمل میں کی گئی جملہ کاروائی کے حولہ سے غفلت یا ملی بھگت جیسے الفاظ سے منسوب کرنا نہ صرف خلاف حقائق، و خلاف قانون بلکہ ادارہ کی آئینی حیثیت کو چیلنج کرتے ہوئے بادی النظر میں دانستہ طور پر توہین عدالت کا ارتکاب کرنے کی کوشش دکھائی دیتی ہے۔ جس کی بھرپور مذمت کی جاتی ہے اور خبر کے مندرجات کو بلا تحقیق اور الیکشن کمیشن کا موقف جانے بغیر شائع کرنے کا عمل افسوس ناک اور صحافی اقدار کے منافی ہے۔

واپس کریں