اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ولکن بوزکر کے بیان پر بھارت کاردعمل مسترد کر دیا
No image نیویارک( 2جون2021)اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے کشمیر کے بارے میں عالمی ادارے کے سربراہ ولکن بوزکرکے بیان پر بھارت کے رد عمل کو مسترد کرتے ہوئے کہاہے کہ ان کا بیان جموں و کشمیر کے تنازعے سے متعلق عالمی ادارے کے دیرینہ موقف کے عین مطابق ہے ۔ ولکن بوزکر نے اپنے حالیہ دورہ پاکستان کے دوران کہا تھا کہ تنازعہ جموںوکشمیر کو اقوام متحدہ میں پرزورطریقے سے اٹھانا پاکستان کافرض ہے ۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر کی ترجمان ایمی کوانٹرل نے گزشتہ روز اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹرز میں ایک پریس بریفنگ میں کہا کہ اپنے دورہ پاکستان کے دوران ولکن بوزکر نے واضح کیا تھاکہ جنوبی ایشیامیں پائیدار امن و سلامتی اور خوشحالی کاانحصار بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں بہتری پر ہے اوریہ تعلقات دونوں ممالک کی طرف سے اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق تنازعہ جموںوکشمیر کے پر امن حل سے ہی معمول پر آسکتے ہیں۔
انہوںنے کہاکہ پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ساتھ اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس میں ولکن بوزکر نے بھارت اور پاکستان کے درمیان 1972کے شملہ معاہدے کابھی ذکر کیا ، جس کے مطابق دونوں ممالک تنازعہ کشمیر کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پر امن طریقے سے حل کرنے کے پابند ہیں۔
ایمی کوانٹرل نے کہا کہ بھارتی وزارت خارجہ کے بیان پرجنرل اسمبلی کے صدر کو مایوسی ہوئی ہے ، جس میں جموں و کشمیر کے بارے میں ان کے بیان کو مخصوص انداز میں پیش کیا گیا ہے، جبکہ ان کا بیان اس مسئلے کے بارے میں اقوام متحدہ کے دیرینہ موقف کے مطابق ہے۔ولکن بوزکر نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی دعوت پر 26اور27مئی کو پاکستان کا دورہ کیاتھا۔
واپس کریں