دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
اختر حسین جعفری: ایک جدید شاعر اور ترقی پسند دانشور
ڈاکٹر خالد سہیل
ڈاکٹر خالد سہیل
اختر حسین جعفری نہ صرف ایک جدید شاعر تھے بلکہ ایک ترقی پسند دانشور بھی تھے۔ انہوں نے اپنے مخصوص فلسفہ حیات اور طرز اظہار سے اردو شاعری کو فن کی نئی بلندیوں سے روشناس کروایا۔ انہوں نے مشرق کی قدیم اور کلاسیکی شاعری اور مغرب کی عصری اور جدید شاعری کے درمیان ایک ادبی پل تعمیر کیا۔ ان کا تعلق بیسویں صدی کی ان شخصیات کے قبیلے سے ہے جن میں ایزرا پاونڈ اوکٹایو پاز ناظم حکمت اور پابلو نرودا جیسے معتبر معزز اور محترم شاعر اور دانشور شامل ہیں۔مجھے اپنی نوجوانی کا وہ دن اچھی طرح یاد ہے جب 1980 کی دہائی میں اختر حسین جعفری سے پاک ٹی ہاوس لاہور میں میری مختصر سی ملاقات ہوئی۔ ان کی شخصیت اتنی بارعب تھی کہ میں نے چند منٹوں کی ملاقات کے بعد اجازت چاہی اور دل میں چھپی خواہش ہونے کے باوجود میں ان کا انٹرویو نہ لے سکا۔ میں ادبی تشنگی لیے گھر لوٹ آیا۔ اس وقت مجھے بالکل اندازہ نہ تھا کہ برسوں بلکہ دہائیوں بعد وہ خوش بخت دن بھی آئے گا جب میری دیرینہ ادبی پیاس بجھے گی اور میں ان کے بیٹے امیر حسین جعفری کا 2013 میں ٹورانٹو میں انٹرویو لوں گا اور ان سے ان کے والد کے بارے میں تفصیلی تبادلہ خیال کروں گا۔امیر حسین جعفری کے مکالمے سے مجھے اس کلید کا سراغ ملا جس نے اختر حسین جعفری کی شاعری کے کئی خفیہ اور پراسرار قفل کھولنے میں میری مدد کی۔ عین ممکن ہے یہ مضمون اختر حسین جعفری کے سنجیدہ قاریوں مداحوں اور نقادوں کی ادبی تحقیقی و تخلیقی مدد کر سکے اور وہ اختر حسین جعفری کی شخصیت اور شاعری کے ان رازوں سے آشنا ہو سکیں جو اس سے پہلے ان کی نگاہوں سے اوجھل تھے۔
احمد ندیم قاسمی رقم طراز ہیں اختر حسین جعفری اپنی روشن خیالی اور انسان دوستی کے حوالے سے آمریت فسطائیت اور مطلق العنانیت کا غیر مشروط دشمن ہے۔ اسے انسان کی فکر و نظر کی مکمل آزادی بے حد عزیز ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے اس نے خود کو اپنے اہل وطن کی ذہنیتوں کی تہذیب پر مقرر کر رکھا ہے۔ 1985 کی ادیبوں کی کانفرنس میں جب جنرل ضیا الحق نے اپنی تقریر میں اختر حسین جعفری کا نام لیے بغیر ان کی مقبول نظمیں پڑھ کر شاعروں ادیبوں اور دانشوروں کو ڈرایا اور دھمکایا تو سب حاضرین محفل نے گردن گھما کر اختر حسین جعفری کی طرف دیکھا کیونکہ وہ بھی اس محفل میں شریک تھے۔احمد ندیم قاسمی فرماتے ہیں جنرل صاحب نے اس طرح یہ ثابت کرنا چاہا کہ اس نوعیت کی شاعری کرنے والے لوگ وطن دشمن ہیں۔ ۔ ضیا الحق نے کہا، تیسرا دھارا ان تخلیق کاروں کی تحریروں پر مبنی ہے جنہیں اسلام اور پاکستان دونوں سے چڑ ہے۔ وہ اسی ملک کا کھاتے ہیں اور اسی کی ہوا میں سانس لیتے ہیں لیکن ان کا قبلہ کہیں اور ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ ان کی تعداد بہت کم ہے لیکن ان کے پھیلائے ہوئے زہر کی تاثیر بھی بہت تیز ہے۔
جب میں نے امیر حسین جعفری سے اس افسوسناک اور تکلیف دہ واقعہ کی تفاصیل پوچھیں تو انہوں نے فرمایا کہ جب پاکستان کے جمہوریت پسند وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو ضیا کی حکومت نے 1979 میں سولی پر چڑھا دیا تو پاکستان کے حریت امن اور ترقی پسند شعرا نے جن میں احمد فراز احمد ندیم قاسمی فیض احمد فیض اور اختر حسین جعفری شامل تھے احتجاجی نظمیں لکھنی شروع کر دیں۔ اسی لیے ضیا الحق کو وہ شاعر اور ان کی شاعری ایک آنکھ نہ بھائے اور اس نے ان کو خاموش کرنے کی پوری کوشش کی۔امیر اور ان کے بڑے بھائی منظر اس وقت بہت چھوٹے تھے۔ اختر حسین جعفری نے کانفرنس سے اپنے بیٹے منظر کو فون کیا اور مشورہ دیا کہ وہ ان کے کپڑے اور کتابیں ایک سوٹ کیس میں ڈال دے تا کہ اگر انہیں جیل جانا پڑے تو وہ اس کے لیے تیار ہوں۔ ان سنگین حالات میں اختر حسین جعفری کا خاندان بہت گھبرایا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ وہ ادیب شاعر اور دانشور جو حکومت کی حراست میں چلے جاتے ہیں وہ یا تو پس دیوار زندان بھیج دیے جاتے ہیں اور یا سولی پر چڑھا دیے جاتے ہیں۔ضیا الحق نے اپنے دور حکومت میں شدت اور تشدد پسندی میں کوئی کسر باقی نہ رکھی تھی اور ملک میں ایک خوف کی فضا قائم کی تھی لیکن ان ناگفتہ بہہ حالات میں بھی اختر حسین جعفری بالکل بددل نہ ہوئے اور وہ اپنی باغیانہ نظمیں رقم کرتے رہے کیونکہ وہ ایک جدید شاعر ہی نہیں ایک ترقی پسند دانشور بھی تھے۔ ایسے ہی پس منظر میں انہوں نے لکھا تھا
میں اور سزائے سطر معصوم
دامن داغوں سے بھر گیا ہے
رسی کا سرا ہے ہات میرے
رسی سے گلا مرا بندھا ہے
اور
برگد کی زنبیل کے قیدی سورج کب واپس ملتے ہیں
برگد کی زنبیل کہ جس میں شام و سحر کا پس خوردہ ہے
نجم شب بیدار کا سر ہے
جب میں نے امیر حسین جعفری سے ان کے والد کا ترقی پسند فکر سے رشتے کے بارے میں پوچھا تو وہ فرمانے لگے کہ اختر حسین جعفری طالب علمی کے زمانے میں ہی اس تحریک کے خوابوں اور آدرشوں سے جڑ گئے تھے۔ جس دور میں کمیونسٹ پارٹی کو پاکستان میں بین کیا گیا تھا اور ترقی پسند دانشور سجاد ظہیر پر عرصہ حیات تنگ کیا گیا تھا اور ان پر بہت سے سماجی و سیاسی دروازے بند کیے گئے تھے اس دور میں اختر حسین جعفری نے اپنے کامریڈ دوست کے لیے اپنے دل اور گھر کے دروازے کھول دیے تھے۔ اسی لیے اختر حسین جعفری بھی گرفتار کر لیے گئے تھے۔ اختر حسین جعفری کو بھی طویل عرصے تک قید و بند کی زندگی گزارنی پڑتی اگر ان کے والد حکومت کے اعلی افسر نہ ہوتے اور ان کے اصحاب بست و کشاد سے اچھے تعلقات نہ ہوتے۔امیر حسین جعفری نے مجھے یہ بھی بتایا کہ ان کی والدہ محترمہ کنیز صغری (ان کا چند روز پیشتر انتقال ہوا ہے ) بھی سیاسی شعور کی مالک ایک فعال سیاسی کارکن ہیں۔ وہ اختر حسین جعفری کی ہم خیال اور ہمراز اور امن اور انصاف کے سفر میں ان کی ہم رقاب تھیں۔ وہ بھی سیاسی امن اور معاشی انصاف کے خوابوں اور آدرشوں کی دلدادہ تھیں۔ اسی لیے اختر حسین جعفری نے اپنا مجموعہ کلام۔ جہاں دریا اترتا ہے۔ ان کے نام انتساب کیا تھا۔ انہوں نے اپنی شریک حیات اپنی شریک سفر اور اپنے بچوں کی ماں کی خدمت میں جس نظم کا تحفہ پیش کیا تھا وہ حاضر خدمت ہے
تھا اسے پیار میرے بچوں سے
اور مری آرزو میں دفن ہوئی
میں کہ زندہ تھا صرف اس کے لیے
اب بھی زندہ ہوں اور وہ بچے
سوئی جاگی اداس آنکھوں سے
گھر کے ویران صحن میں میرا
رات بھر انتظار کرتے ہیں
دور آنگن میں کھل رہا ہے کہیں
شاخ تاریک پر سرخ گلاب
احمد ندیم قاسمی اختر حسین جعفری کے بارے میں رقم طراز ہیں۔
تب ایک روز ایک عجیب حادثہ ہوا۔ جعفری صاحب گوجرانوالہ سے لاہور تشریف لائے اور فنون کی اس ہفت روزہ محفل میں شریک ہوئے۔ فنون کا تازہ شمارہ بیشتر اہل محفل کے ہاتھوں میں تھا۔ یکایک سید علی عباس صاحب نے جعفری صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا جعفری صاحب! آپ جو شاعری کر رہے ہیں وہ کس کے لیے کر رہے ہیں؟ میں اپنے آپ کو ایک پڑھا لکھا فرد سمجھتا ہوں اور فلسفے کے علاوہ میں نے اردو فارسی انگریزی وغیرہ کی شاعری کا مطالعہ بھی بالاستعجاب کیا ہے مگر آپ کی کوئی نظم میرے پلے نہیں پڑتی۔ اگر آپ نہ عوام کے لیے لکھتے ہیں نہ پڑھے لکھے طبقے کے لیے تو پھر کس کے لیے لکھتے ہیں؟ آپ کی آڈینس کون سی ہے؟ بھری محفل میں جعفری صاحب کے ساتھ سید صاحب کی یہ گفتگو میرے علاوہ تمام حاضرین کے لیے حیرت انگیز تھی مگر جعفری صاحب کا چہرہ بتا رہا تھا کہ سید صاحب کا یہ استدلال ان کے لیے صرف حیرت انگیز ہی نہیں درد انگیز بھی تھا۔ وہ کچھ نہیں بولے۔ محفل برخاست ہوئی تو واپس گوجرانوالہ چلے گئے۔ دوسرے روز تشریف لائے تو ان کے ہاتھ میں ایک غزل نما نظم تھی۔ اس میں سید صاحب کی تنقید کا ایسا بھرپور جواب شامل تھا کہ میں اور میرے علاوہ حاضرین۔ دیر تک یہ اشعار پڑھتے رہے اور جھومتے رہے۔ وہ اشعار یہ ہیں،
نہ فکر سد رہ نشین میری نہ رفعت آسمان میری
نہال غم پر مرا بسیرا ہرے شجر پر اڑان میری
صدا کے رستے پہ شہر مفہوم دور سے دور تر لگا ہے
مرا ہر اک لفظ پا بریدہ خلل گرفتہ زبان میری
کہیں تو معدومیوں کی شمعوں میں نیم روشن تھا نام میرا
کہیں پہ بے حرف لوح تنزیل تھی شب نکتہ دان میری
بس ایک آنسو کے دخل نے منظر وفا کو بدل دیا تھا
بس ایک موج خفی کے آگے حس رواں تھی چٹان میری
یہ آتشیں تیر کس مکاں سے شب مناجات آ لگا ہے
دھواں دھواں ہے کتاب میری لہو لہو ہے زبان میری
میں نے جب امیر حسین جعفری سے پوچھا کہ ان کی نگاہ میں اردو کے قاریوں شاعروں اور نقادوں کو ان کے والد کی شاعری کی تفہیم میں کیوں اس قدر دشواریاں اور ابلاغ میں اس قدر مشکلات پیش آتی ہیں تو انہوں نے فرمایا کہ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اختر حسین جعفری تخلیقی اور فنی حوالے سے انگریزی کی جدید شاعری کی روایت سے جڑے ہوئے تھے اور ایزرا پاونڈ کو بہت پسند کرتے تھے۔ اسی لیے اردو کے وہ قارئین جو انگریزی ادب کی جدید روایت سے ناآشنا ہیں انہیں اختر حسین جعفری کی شاعری کی تفہیم میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ اختر حسین جعفری ایزرا پاونڈ کو اتنا عزیز رکھتے تھے کہ جب انہیں ایذرا پاونڈ کی موت کی خبر ملی تو انہوں نے بے ساختہ مندرجہ ذیل نظم لکھی،
ایذرا پاونڈ کی موت پر
تجھ کو کس پھول کا کفن ہم دیں
تو جدا ایسے موسموں میں ہوا
جب درختوں کے ہاتھ خالی تھے
انتظار بہار بھی کرتے
دامن چاک سے اگر اپنے
کوئی پیمان پھول کا ہوتا
آ تجھے تیرے سبز لفظوں میں
دفن کر دیں کہ تیرے فن جیسی
دہر میں کوئی نو بہار نہیں
امیر حسین جعفری سے گفتگو کے بعد جب میں نے اختر حسین جعفری کی شاعری کی بہتر تفہیم کی کوشش میں انگریزی ادب کی جدید شاعری کی روایت اور ایذرا پاونڈ کے ادبی خیالات کا مطالعہ شروع کیا تو میرا تعارف ایسے فنی نظریات سے ہوا جن سے میں پہلے ناواقف تھا۔ وہ خیالات و نظریات وہ کنجی ثابت ہوئے جس نے اختر حسین جعفری کی شاعری کا قفل ایسا کھولا کہ مجھ پر ان کی نظموں کے راز ہائے سربستہ منکشف ہونے شروع ہو گئے۔ایزرا پاونڈ کے مقالوں نے میرا تعارف انگریزی ادب کی جدید شاعری کی روایت کی ان اصطلاحات اور نظریات سے کروایا ۔ یہ خیالات اور نظریات چونکہ جدید شاعری کی طرح قدرے دشوار گنجلک اور پیچیدہ ہیں اس لیے میں انہیں عام فہم زبان میں پیش کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔1914 میں ایذرا پاونڈ نے جدید شاعری کی تفہیم کے حوالے سے ایک سنجیدہ مقالہ رقم کیا جس کا عنوان۔ وورٹکس vortex تھا۔ اس مقالے کو ونڈہیم لوئس Wyndham Lewis نے اپنے میگزین Blastمیں شائع کیا۔ اس مقالے میں ایذرا پاونڈ فرماتے ہیں،وورٹکس اور گرداب وہ مقام ہے جہاں توانائی اپنی معراج پر پہنچتی ہے۔وہ وورٹسسٹ شاعر جو اپنی شاعری میں وورٹکس کو اپنے فن کی بنیاد بناتا ہے وہ اپنے شاعری کی تصویر میں اس رنگ کو نمایاں رکھتا ہے۔ایسے شاعر کے ذہن میں ہر خیال اور ہر جذبہ ایک تصویر بناتا ہے جسے وہ اپنے اندر کی آنکھ سے دیکھتا ہے اور پھر الفاظ سے وہ تصویر کاغذ پر تحریر کرتا ہے۔ اس حوالے سے اس کا قلم اس کا داخلی کیمرہ بن جاتا ہے۔ایسے جدید شاعر کے لفظوں اور شعروں کی ہر تحریر اور ہر تصویر پوری کہانی پوری حکایت اور پوری کہاوت سناتی ہے۔ اس کی نظموں میں الفاظ تصویریں بناتے چلے جاتے ہیں اور وہ تصویریں دل کے تاروں کر چھیڑتی چلی جاتی ہیں۔
شاعر کے تجربے اور اس کے مشاہدے میں وقت کے ساتھ ساتھ ایک جولانی پیدا ہوتی چلی جاتی ہے اس کے من میں الفاظ رقص کرنے لگتے ہیں ان میں طغیانی آتی ہے اور وہ بڑھتے بڑھتے ایک گرداب میں ایک وورٹکس میں ضم ہو جاتے ہیں۔ اس کے ماضی کے سارے تجربات اور مشاہدات اس کے حال میں تحلیل ہو جاتے ہیں۔ اس پر ایک کیف و سرور اور ایک ٹرانس کی کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔ اس وارفتگی کی کیفیت میں شاعر کی داخلی آنکھ کو ایک تصویر دکھائی دینے لگتی ہے اور شاعر اس تصویر کو کاغذ پر تحریر کرتا ہے۔اس طرح اس شاعر کے الفاظ ماضی اور مستقبل دیروز اور فردا کے درمیان ایک پل تعمیر کرتے ہیں۔ ایسے پل جو ظاہر کی آنکھ سے نہیں صرف باطن کی آنکھ سے دیکھے جا سکتے ہیں۔ ایسی شاعری سے لطف اندوز ہونے کے لیے جدید شاعری قاری سے تیسری آنکھ کے کھلنے کی متقاضی ہوتی ہے۔ اور اگر اندر کی آنکھ کھلی نہ ہو تو قاری کو کچھ دکھائی نہیں دیتا کچھ سجھائی نہیں دیتا اسے چاروں طرف دھند ہی دھند دکھائی دیتی ہے اسی لیے وہ قاری جدید شاعر کی تحریر و تصویر کو مبہم اور مشکل تصور کرتا ہے۔
بیسویں صدی کے معزز و معتبر نقاد ٹی ایس ایلیٹ T S ELIOT نے اپنی مشہور کتاب LITERAY ESSAYS میں لکھا ہے کہ انگریزی ادب میں تمام جدید شاعروں میں سے ایذرا پاونڈ کی شاعری نے سب سے زیادہ انقلاب برپا کیا ہے۔ایذرا پاونڈ شاعروں ادیبوں اور دانشوروں کے جس قبیلے کے ممبر تھے اس میں جیمز جائیس ٹی ایس ایلیٹ اور رابرٹ فراسٹ بھی شامل تھے۔ایذرا پاونڈ کی جدید شاعری پر اتنے اعتراضات ہوئے کہ وہ بیسویں صدی کے سب سے زیادہ متنازعہ فیہہ شاعر بن گئے۔ کچھ ان سے ٹوٹ کر محبت کرتے تھے اور کچھ اسی شدت سے نفرت کرتے تھے۔ وہ ایک ایسے فنکار ہیں جن کی شاعری جہاں کچھ قاریوں کو حیران کرتی ہے تو کچھ ناقدوں کو پریشان بھی کرتی ہے کیونکہ وہ قاری اور نقاد سے کچھ ایسا مطالبہ کرتی ہے جو روایتی شاعری نہیں کرتی۔ایزرا پاونڈ کے جدید شاعری کے بارے میں خیالات و نظریات ہمیں اختر حسین جعفری کی شاعری سمجھنے میں مدد کرتے ہیں۔ جدید شاعری کی تفہیم کے لیے جس طرح گرداب اور وورٹیکس کے تصور کو سمجھنا ضروری ہے اسی طرح خیالات اور تصورات کے باہمی رشتے کو جاننا بھی ضروری ہے۔ اسی رشتے کو امیر حسین جعفری نے اپنی ایک نظم میں بڑی فنی خوبصورتی اور مہارت کے ساتھ پیش کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں
جناب اختر حسین جعفری کی پوئیٹک تھیوری پر ایک نظم
نظم کب ہے یہ ایک ساعت ہے
ایک ساعت کہ جس کے باطن میں
انگنت بے شمار منظر ہیں
دیکھتا ہوں کہ شب کے پردے پر
اک ستارا سا جھلملاتا ہے
روشنی کے اسی توقف میں
مجھ پہ گزرے ہوئے زمانوں کی
ایک تصویر سی ابھرتی ہے
میں زمان و مکاں کے ملبے سے
کچھ شکستہ حروف چنتا ہوں
خامشی کے سفید کاغذ پر
اپنی تاریخ درج کرتا ہوں
نظم کب ہے یہ ایک ساعت ہے
ایک ساعت کہ جس کے باطن میں
انگنت بے شمار منظر ہیں
امیر حسین جعفری جانتے ہیں کہ اختر حسین جعفری کی شاعری میں انسان کا ایک ازلی و ابدی تصور موجود ہے جو سماجی جبر سے نجات حاصل کر کے آزاد زندگی گزارنا چاہتا ہے۔ یہ شاعری کا وہ مقام ہے جہاں انسان کا ماضی اور مستقبل اس کے حال میں پہلے جذب ہو جاتے ہیں اور پھر اس کے شعور و لاشعور میں مختلف مناظر میں پھیل جاتے ہیں اور شاعر وجد میں آ کر ان مناظر کی تصویر اپنی تحریر میں اتار کر اپنے قاری کے سامنے پیش کر دیتا ہے۔ایک ادب اور نفسیات کے طالبعلم ہونے کے ناتے جب میں نے ایزرا پاونڈ کے نظریات کی روشنی میں جدید شاعری کو بہتر طور پر سمجھنے کی کوشش کی تو مجھ پر یہ بھی منکشف ہوا کہ جدید شاعری سے پوری طرح لطف اندوز ہونے کے لیے جدید شاعری کی روایت کے ساتھ ساتھ انسانی ذہن کی جدید نفسیات سے باخبر ہونا بھی ضروری ہے۔
بیسویں صدی میں جہاں ایذرا پاونڈ نے کلاسیکی ادب کے محل میں نئے در بنوائے وہیں سگمنڈ فرائڈ نے روایتی نفسیات کے حبس زدہ مکان میں نئی کھڑکیاں وا کیں۔ فرائڈ نے انسانی ذہن کے بلیک باکس کے راز جانے اور ہمارا انسانی لاشعور اور آزار تلازمہ خیال سے تعارف کروایا۔ ان کی تحلیل نفسی کی تحقیق سے ہم انسانی ذہن کے بہت سے رازوں اور بصیرتوں سے واقف ہوئے۔ فرائڈ نے ہمیں بتایا کہ انسان کے ذہن کے رازوں کو جاننے کے لیے شعور سے زیادہ لاشعور کو سمجھنا ضروری ہے۔
انسانی لاشعور پرائمری پروسس primary process سے اور
انسانی شعور سیکنڈری پروسس secondary process سے سوچتا ہے۔
ماہرین نفسیات نے اپنی تحقیق سے یہ جانا کہ انسانی دماغ کے دو حصے ہیں۔ دایاں دماغ اور بایاں دماغ۔بائیں دماغ کا زیادہ تعلق شعور سے ہے اور شعور کا زیادہ رشتہ منطقی سوچ خیالات اور زبان سے ہے جبکہ دائیں دماغ کا زیادہ تعلق لاشعور سے ہے اور لاشعور کا زیادہ رشتہ جذبات اور احساسات سے ہے۔ یہ لاشعوری سوچ ہی ہے جو ہمیں رات کو خواب دکھاتی ہے اور دن کو شاعر سے شاعری کرواتی ہے۔شاعری ہی نہیں دیگر فنون لطیفہ اور روحانیات کی بھی دائیں دماغ اور لاشعور سے گہری دوستی ہے۔
جدید شاعری کی بہتر تفہیم کے لیے ہمارے لیے یہ جاننا اہم ہے کہ دائیں دماغ کا قریبی رشتہ نظریات سے زیادہ جذبات احساسات اور تصورات سے ہے اور وہ اپنا اظہار تصاویر اور امیجز کی صورت کرتا ہے۔ اسی لیے ہمیں خوابوں میں تصویریں نظر آتی ہیں۔امریکی ماہر نفسیات سلوینو ایرئٹیSILVANO ARIETI فرماتے ہیں کہ فنون لطیفہ میں پرائمری پروسس اور سیکنڈری پروسس آپس میں بغلگیر ہو کر ٹرشری پر وسسTERTIARY PROCESS بناتے ہیں اور شعور و لاشعور ایک دوسرے میں مدغم ہو کر ایک جادوئی امتزاج تخلیق کرتے ہیں۔ اسی لیے ایرئٹی نے اپنی کتاب کا نام CREATIVITY: THE MAGIC SYNTHESIS رکھا۔سلوانو ایرئٹی فرماتے ہیں کہ تخلیقی عمل میں شعور اور لاشعور خیالات اور جذبات نظریات و احساسات منطقی و غیر منطقی سوچیں آپس میں گھل مل کر حسیں امتزاج بناتے ہیں۔ وہ ایک ایسا کیف و سرور تخلیق کرتے ہیں جہاں شاعر بے اختیار ہو کر وجدانی کیفیت میں کہتا ہے
من تو شدم تو من شدی
تا کس نگوید بعد ازاں من دیگرم تو دیگری
اس عمل سے شاعری میں جدت پیدا ہوتی ہے اور شاعر نئی اور جدید نظم تخلیق کرتا ہے۔
جدید شاعر شعور سے زیادہ لاشعور کے اور بائیں دماغ سے زیادہ دائیں دماغ کے قریب ہوتا ہے اسی لیے اس کے خیالات جذبات اور احساسات اس کے لاشعور کے کینوس پر تصویریں بناتے ہیں جنہیں وہ اپنی داخلی آنکھ سے دیکھتا ہے اور پھر اپنے لفظوں سے وہ تصویر کاغذ پر تحریر کرتا ہے۔اختر حسین جعفری جہاں ایذرا پاونڈ سے فنی طور پر قریب تھے وہیں نظریاتی طور پر ان سے دور بھی تھے۔ایذرا پاونڈ صرف شاعر تھے اس لیے انہیں صرف ادبی اقدار کا پاس تھا۔اختر حسین جعفری جدید شاعر کے ساتھ ایک ترقی پسند دانشور بھی تھے اس لیے انہیں ادبی اقدار کے ساتھ ساتھ زندگی کی اقدار کا بھی پاس تھا۔اختر حسین کے دو شانوں پر دو تقاضوں کا بھاری بوجھ تھا۔ایک شانے پر فنی تقاضوں کا بوجھ اور دوسرے شانے پر زندگی کے تقاضوں کا بوجھ۔ اختر حسین جعفری کا موقف تھا کہ اس شاعر کو جو دانشور بھی ہو دو ذمہ داریوں کو نبھانا ہے۔ فنی ذمہ داری بھی اور نظریاتی ذمہ داری بھی۔ ادبی ذمہ داری بھی اور سماجی ذمہ داری ہے۔ یہ کام تخلیقی پل صراط پر چلنے کی طرح ہے۔

اختر حسین جعفری نے عمر بھر ایک شاعر اور دانشور ہونے کے ناتے فنی تقاضے ہی نہیں زندگی کے تقاضے بھی پورے کیے کیونکہ وہ ایک جدید شاعر ہی نہیں ایک ترقی پسند دانشور بھی تھے۔ وہ جہاں انسان کے داخلی مسائل سے جڑے ہوئے تھے وہیں انسان کے خارجی مسائل میں بھی گہری دلچسپی رکھتے تھے۔ وہ جہاں آمروں اور جابروں کو چیلنج کرتے تھے وہیں مزدوروں اور کسانوں کی معاشی اور سماجی جدوجہد سے بھی ہمدردی رکھتے تھے۔ اختر حسین جعفری کے آدرش ایزرا پاونڈ کے آدرشوں سے اعلی ہیں کیونکہ وہ داخلی آزادی کے ساتھ ساتھ سماجی آزادی کے بھی علمبردار ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ اختر حسین جعفری کی شاعری سے محظوظ و مسحور ہونے کے لیے قاری کا جدید شاعری کی روایت کے ساتھ ساتھ جدید نفسیات اور جدید سماجیات سے بھی تعارف اہم ہے کیونکہ ان کی شاعری تھری ڈائمنشنل ہے۔ اسی لیے انہوں نے الفاظ سے ایسے آئینے تخلیق کیے ہیں جو ہمیں داخلی اور خارجی نفسیاتی اور سماجی ادبی و نظریاتی حوالوں سے نئی دنیاوں کے بارے میں سوچنے کی دعوت دیتے ہیں۔ وہ ایسے آئینے ہیں جو ہمیں بصارتوں کے ساتھ ساتھ بصیرتوں کے تحفوں سے بھی نوازتے ہیں۔ شاید اسی لیے انہوں نے اپنی نظموں کے مجموعے کا نام۔ آئینہ خانہ۔ رکھا تھا۔ اس آئینہ خانے میں کہانی اور کہاوت اور حکایت عکس در عکس بڑھتی اور پھیلتی چلی جاتی ہے۔
اختر حسین جعفری قاری کو تخلیقی طور پر اپنے تخلیقی عمل میں شمولیت کی دعوت دیتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ وہ تصویر جو شاعر کے ذہن میں بنتی ہے اور تحریر میں ڈھلتی ہے وہ تصویر ذہین قاری کے ذہن میں مکمل ہوتی ہے۔ اختر حسین جعفری کی تحریر کی تصویر قاری سے کچھ تقاضے کرتی ہے۔ وہ چاہتی ہے کہ قاری اس ادھوری تصویر کو اپنے تجربے اور مشاہدے اور ادبی و نظریاتی ذوق کی داخلی آنکھ سے مکمل کرے اور محظوظ و مسحور ہو۔بدقسمتی سے اردو کا قاری مشاعرے کے شاعروں کو سن سن کر سہل پسند ہو گیا ہے۔ اس کے لیے شاعری تضیع اوقات کا حصہ بن گیا ہے۔ اس کے لیے شاعری ENTERTAINMENT کا حصہ ہے جبکہ ادب کا سنجیدہ قاری جانتا ہے کہ ادب عالیہ میں ENLIGHTEMENTبھی شامل ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں شاعری جزو ایست از پیغمبری بن جاتی ہے۔جدید شاعر جانتا ہے کہ جس قدر جدید نظم تخلیق کرنے کے لیے درد زہ سہنا پڑتا ہے اسی طرح جدید قاری بننے کے لیے بھی یکسوئی گہری سوچ اور اعلی ذوق کی ضرورت ہے۔ جدید شاعر اپنی شاعری سے اپنے قاری کو تخلیقی عمل میں شامل ہونے کی اپنے ادبی معیار کو اونچا کرنے کی اور اپنے فنی ذوق کو نکھارنے کی دعوت دیتا ہے۔جدید شاعر ادب عالیہ کی وساطت سے اپنے قاری سے ایک فنی و نظریاتی رشتہ جوڑنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ لکھاری اور قاری کا رشتہ ایک مقدس رشتہ ہے کیونکہ وہ دانائی کا رشتہ ہے۔ ایسی دانائی جو ہمیں بہتر انسان بننے اور پرامن معاشرہ قائم کرنے کی دعوت دیتی ہے۔جدید شاعر جانتا ہے کہ تخلیقی عمل چاہے وہ لکھاری کا ہو یا قاری کا ایک جانگسل کام ہے۔
عارف عبدالمتین فرماتے ہیں
معراج پر ہے کرب گوارا دماغ کا
تخلیق ہو رہا ہے سخنور کے ہاں سخن
جہاں جدید شاعر نئی نظم تخلیق کرتے ہوئے درد زہ سے گزرتا ہے وہیں جدید قاری بھی نظم کے سمندر میں غوطہ لگاتا ہے اور اس نئی نظم میں نئے معانی دریافت کرتا ہے۔ بدقسمتی سے اختر حسین جعفری کو بہت کم صاحب ذوق و صاحب دل جدید قاری ملے۔ ہو سکتا ہے یہ مضمون اس جدید قاری کے امکان میں اضافہ کرے جس کی اختر حسین جعفری کی شاعری کئی دہائیوں سے راہ تک رہی ہے۔میں امیر حسین جعفری کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے مجھ سے ایسا ادبی مکالمہ کیا جس نے مجھے اختر حسین جعفری کی شاعری کے راز ہائے سربستہ جاننے میں مدد کی اور جدید شاعری کے قفل کو کھولنے کے لیے ایزرا پاونڈ کے مخصوص نظریات کی چابی تلاش کرنے کی تحریک و ترغیب دی۔
نوٹ: یہ مضمون اسی ہفتے ایمیزون پہ چھپنے والی تازہ کتاب
AKHTER HUSSAIN JAFRI: LIFE AND LEGACY
کے ایک باب کا ترجمہ ہے
REFERENCES
1. Akhter Hussain Jafri s Life and LegacyAn interview with Ameer Hussain Jafri taken by Khalid Sohail 2013
2. Akhter Hussain JafriAakhri UjalaSang e Meel Publishers Pakistan 2008
3. Ezra Pound Vortex..published in Blast Magazine edited by Wyndham Lewis 1914 Internet
4. T S Eliot Literary Essays of Ezra Pound in Literary Biography of Ezra Pound 18851972 Internet
5. Silvano ArietiThe Magic Synthesis Basic Books Inc. New York USA 1976
About Latest Posts

بشکریہ ہم سب
واپس کریں