پاک فوج خاموش کیوں ہے
سید مجاہد علی
ایک وقت تھا کہ آئی ایس پی آر کے ترجمان ہر معاملہ پر رائے زنی ضروری خیال کرتے تھے۔ ملکی میڈیا اور عوام پاک فوج کے ترجمان کے بیانات سے ملک کے سیاسی مستقبل کے بارے میں رائے قائم کرتے تھے۔ تاہم ایک ایسے وقت میں جبکہ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران پاک فوج کے سب سے بڑے پراجیکٹ کے حوالے سے تاریخ ایک بار پھر خود کو دہرانے والی ہے ، پاک فوج کے ترجمان خاموش ہیں۔ یعنی پاکستان، افغانستان میں اٹھنے والے طالبان نامی طوفان اور اس سے پیدا ہونے والے بحران کا کیسے سامنا کرے گا؟

بظاہر اس پر اسرار خاموشی کی یہ وجہ ہوسکتی ہے کہ فوج نے قومی پالیسی کے حوالے سے ’بیک بنچز‘ پر اپنی پوزیشن کو قبول کرلیا ہے۔ اور اب وہ پوری مستعدی اور تابعداری سے اسی فیصلہ پر عمل کرنے کا تہیہ کئے ہوئے ہے جس کا فیصلہ ملک میں سیاسی طور سے منتخب حکومت کررہی ہے۔ ملکی سیاست و سلامتی کے لئے یہ نہایت خوش آئیند بات ہوسکتی ہے لیکن خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا ، کے مصداق، ملکی سیاسی منظر نامہ میں اس کے آثار دکھائی نہیں دیتے۔ اب بھی وزیر اعظم آرمی چیف کی آمد اور مفید مشوروں کے منتظر رہتے ہیں اور ایسے شواہد موجود نہیں ہیں جو سیاسی و قومی سلامتی معاملات میں فوج کی ’عدم دلچسپی‘ کا کوئی ٹھوس ثبوت فراہم کرتے ہوں۔

افغان سرحد کھولنے، بند کرنے یا وہاں انتظامات سے لے کر ملک میں کورونا کی صورت حال جیسے معاملات براہ راست فوج کی نگرانی میں سرانجام پارہے ہیں۔ اہم ترین اداروں پر فوجی افسران براجمان ہیں۔ آزاد کشمیر کے انتخابات ہوں یا ضمنی انتخابات، اپوزیشن بدستور پراسرار عوامل کا ذکر کرکے انتخابی صنع گری کا شکوہ کرتی ہے اور حکومت کا جلال دیکھ کر یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہوتا کہ اس اعتماد اور جوش کا اصل منبع کہاں ہے۔ نہ حکومت کو اس بارے میں حجاب ہے اور نہ ہی کوئی تبصرہ یا سیاسی رائے ایک پیج کی کامیابی کا حوالہ دیے بغیر مکمل ہوتی ہے۔ میڈیا پر کنٹرول اور آزادی رائے کو کچلنے کے اقدامات سے یہ تصور کرنا بھی محال ہے کہ کوئی جمہوری حکومت ایسا کوئی اقدام کرسکتی ہے۔ آزادی رائے کسی بھی جمہوری حکومت کا طرہ امتیاز ہوتی ہے اور اس کے لئے ’لائف لائن‘ کی حیثیت رکھتی ہے۔ تاہم عمران خان کی حکومت میں جیسے میڈیا کو پابند کیا گیا ہے اور میڈیا اتھارٹی کے ذریعے اسے مزید پا بجولاں کرنے کی منصوبہ بندی ہورہی ہے ، اس سے یہ قیاس نہیں کیا جاسکتا کہ تحریک انصاف آئیندہ انتخابات میں صرف عوامی مقبولیت اور لوگوں کے سامنے اپنا سیاسی پروگرام پیش کرکے انتخابی کامیابی حاصل کرنا چاہتی ہے۔ میڈیا اور صحافیوں کے حوالے سے موجودہ حکومت اور اس کے ترجمانوں کا رویہ واضح کرتا ہے کہ اسے اپنے استحکام اور تسلسل کے لئے میڈیا کی حمایت درکار نہیں ہے۔

یہ وہی طرز عمل ہے جو امریکہ میں عمران خان کے ممدوح سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اختیار کیا تھا۔ تاہم ٹرمپ کی میڈیا حکمت عملی اور عمران خان کی میڈیا بیزاری میں ایک بنیادی فرق ہے۔ ٹرمپ اپنے حامیوں کے ساتھ براہ راست تعلق اور ٹوئٹر کے ذریعے جھوٹے سچے نعروں کی بنیاد پر اپنا ایک ایسا ٹھوس حلقہ اثر بنانے میں کامیاب ہوگیا تھا۔ ری پبلیکن پارٹی بھی اس کی ہر غلط اور غیر جمہوری حرکت کے لئے دلیل لانے پر مجبور تھی۔ ڈونلڈ ٹرمپ بلاشبہ کسی بھی طرح ملک کے طاقت ور اداروں کو اپنے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنا چاہتا تھا لیکن امریکہ کے ٹھوس اداروں اور واضح آئینی رہنما اصولوں کی وجہ سے وہ اس مقصد میں کامیا ب نہیں ہؤا۔ عمران خان اس کے برعکس پہلے دن سے اپنی اس ’خوش قسمتی ‘ کا اعتراف کررہے ہیں کہ وہ اور فوج ایک ہی پیج پر ہیں۔ جو وہ کہتے ہیں، فوج بھی ویسا ہی سوچتی ہے اور جیسا فوج چاہتی ہے، ان کی حکومت بھی ویسا ہی کرتی ہے۔

عمران خان اور ڈونلڈ ٹرمپ میں ایک واضح فرق یہ بھی ہے کہ ٹرمپ اپنے زور بازو اور براہ راست امریکی عوام کو متاثر کرکے 2016 کا انتخاب جیتنے میں کامیاب ہؤا تھا، اس نے نہ تو میڈیا کا سہارا لیا تھا اور نہ ہی وہ فوج کے کاندھوں پر سوار ہوکر اقتدار تک پہنچنے میں کامیاب ہؤا تھا۔ عمران خان پر ’نامزد’ کی پھبتی البتہ اس سے برعکس کہانی سناتی ہے۔ 2011 میں عمران خان کی ’مقبولیت‘ کے سونامی سے لے کر 2014 میں اسلام آباد دھرنے سے ہوتے ہوئے 2018 کے انتخابات تک میں عمران خان نے پاکستانی الیکٹرانک میڈیا کو بے دریغ استعمال کیا۔ میڈیا نے بھی عمران خان کو ’چہیتا‘ اور نیا نویلا لیڈر سمجھتے ہوئے اسے پاکستانی عوام کی واحد امید کے طور پر پیش کیا۔ تین سال حکومت میں رہنے کے باوجود ایک ایک کرکے تمام سیاسی وعدوں سے گریز کرتے ہوئے عمران خان البتہ اب میڈیا کو اپنا دشمن سمجھنے لگے ہیں کیوں کہ وہ حکومت پر ’ناجائز‘ تنقید کرتا ہے۔ عمران خان کو ابھی اس سوال کا جواب دینا ہے کہ تنقید میں ’جائز اور ناجائز‘ کی تخصیص کیسے ہوتی ہے۔

میڈیا کو مختلف ہتھکنڈوں سے پابند کرکے موجودہ انتظام کی حمایت پر مجبور کیاگیا ہے۔ ملک کے تقریباً تمام میڈیا ہاؤسز بے بس سرمایہ داروں کے کنٹرول میں ہیں۔ ان کے پاس اپنے سرمایے اور مفادات کی حفاظت کے سوا کوئی ارفع مقصد موجود نہیں ہے۔ آزادی رائے ان کے لئے ایک بے مقصد نعرے سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا۔ پاکستان جیسے غریب ملک میں صحافی گھر کا چولہا جلانے کے لئے ہر وہ راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوتا ہے جس کا تعین مالکان، حکومت اور متعلقہ اداروں کی ہدایت و نگرانی میں کیا جاتا ہے۔ اس وقت تو یہ صورت حال ہے کہ ملک کا وزیر اطلاعات کسی کے صحافی ہونے یا نہ ہونے کا فتویٰ جاری کرتے ہوئے بھی نہ تو شرم محسوس کرتا ہے اور نہ ہی اسے اس بات کا خوف ہوتا ہے کہ صحافی برادری اس کے اس جارحانہ طرز عمل کو کیسے دیکھے گی۔ جو گنے چنے صحافی مالکان کے توسط سے پابند نہیں کئے جاسکے ، ان کے لئے ریاستی و حکومتی ادارے تمام قانونی و غیر قانونی ہتھکنڈے اختیار کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔ گزشتہ دنوں لاہور سے دو صحافیوں کی ایف آئی اے کے ہاتھوں گرفتاری و رہائی ، اس تصویر کا ایک رخ ہے۔ دوسرا رخ زیادہ خوفناک ہے جس میں کسی صحافی پر گولی چلا دی جاتی ہے یا اس کے گھر میں گھس کر سبق سکھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ سائیبر قوانین کو ففتھ جنریشن وار میں ’مخالفین‘ کا قلع قمع کرنے کے نام پر سوشل میڈیا پر کسی وابستگی کے بغیر آزادانہ رائے ظاہر کرنے والوں کے خلاف استعمال کرنے کی درجنوں مثالیں موجود ہیں۔

یہ صورت حال واضح کرتی ہے کہ عمران خان 2018 تک جس میڈیا کے کاندھوں پر سوار ہوکر اقتدار تک پہنچنے کی ’جد و جہد‘ کررہے تھے، اب اسے اپنے لئے آزار سمجھتے ہیں اور کسی بھی طرح اس کے ہاتھ پاؤں باندھ کر سرکاری ترجمان بنانے کی بھرپور کوششیں کی جارہی ہیں۔ ایسا کوئی وزیر اعظم اور سیاسی پارٹی کا لیڈر اپنے ان اقدامات کے ممکنہ نقصانات سے بھی آگاہ ہوتا ہے اور اسے یقین ہوتا ہے کہ وہ ان پر قابو پالے گا۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ عمران خان اگر جمہوری نظام میں جمہوریت کو توانا کرنے والے اداروں کو کمزور اور بے وقعت کرنا چاہتے ہیں تو وہ کن اداروں کو مضبوط کرنے کا دعویٰ کرتے رہے ہیں۔ یا دوسرے لفظوں میں جن اداروں کو مضبوط کرنے کے لئے میڈیا اور آزاد صحافت کے لئے عرصہ حیات تنگ کیا جارہا ہے، کیا وہ ادارے ہر اچھے برے وقت میں عمران خان کا ساتھ دینے کا عہد کرچکے ہیں؟ پاکستان میں معتوب قرار پانے والے ممتاز صحافی حامد میر کا خیال ہے کہ عمران خان بے اختیار ہیں ۔ ان کے پاس تو اتنا بھی اختیار نہیں کہ وہ ایک اینکر کو ناجائز طور سے ٹی وی پروگرام کی میزبانی سے ہٹانے پر افسوس کا اظہار ہی کرسکیں۔ حامد میر کی بات کو مان لیا جائے تو جاننا پڑے گا کہ عمران خان نے کس بنیاد پر اپنے جائز اختیارات سے دست بردار ہونا قبول کیا ہے۔

جمہوریت، میڈیا اور عمران خان کے حوالے سے اس گفتگو کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ موجودہ حکومت اس وقت جس دل جمعی سے ملک کی افغان پالیسی ( اگر کوئی ہے تو) کا بوجھ اپنے سر پر اٹھاکر ماضی کی غلطیوں کی ذمہ داری قبول کررہی ہے اور جس خود مختار پالیسی کا ڈھول پیٹا جارہا ہے ، اس کی اصل حقیقت کیا ہے۔ گزشتہ چالیس سال کے دوران افغانستان کے بارے میں پاکستان کی پالیسی میں کسی سیاسی حکومت کا بالکل اسی طرح کوئی کردار نہیں ہے جیسے بھارت کے بارے میں کوئی حکمت عملی سیاست دانوں کی مرضی اور پارلیمنٹ کی منظوری سے نہیں بلکہ فوج کی خوشنودی سے تیار کی جاتی رہی ہے۔ طالبان کو بنانے، طاقت ور کرنے، سیاسی اہمیت دلوانے اور تمام تر مصائب کے باوجود ان کے ساتھ کھڑا رہنے کا سارا کریڈٹ پاک فوج اور اس سے متعلق اداروں کو جاتا ہے۔ اس پالیسی کے کچھ فائدے بھی اٹھائے گئے ہوں گے لیکن اس سے برآمد ہونے والی صورت حال اس وقت افغانستان کو تیزی سے خانہ جنگی کی طرف دھکیل رہی ہے۔

حیرت انگیز طور پر عمران خان اور ان کی حکومت ایک ایسی حکمت عملی کی پوری ذمہ داری قبول کررہی ہے جس میں نہ تو اس کا اپنا کوئی کردار ہے اور نہ ہی جس کے بارے میں کسی بھی سابقہ سیاسی حکومت کو ذمہ دار قرار دیا جاسکتا ہے۔ حکومت نے یہ پالیسی پارلیمنٹ سے مشورہ یا اپنی پارٹی کے مختلف اداروں میں بات چیت یا بحث کے بعد اختیار نہیں کی ہے بلکہ اسے عمران خان کے ’ویژن‘ نامی تعلی پر استوار کیا جارہا ہے۔ جسے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے یوں بیان کیا ہے کہ ’اب ساری دنیا عمران خان کے اس ویژن کو قبول کرتی ہے کہ افغان مسئلہ کا کوئی عسکری حل نہیں ہے بلکہ اسے سیاسی طور سے حل کرنے کی ضرورت ہے‘۔ اس کے ساتھ ہی افغانستان میں اٹھنے والے طوفان سے لاتعلقی کا اعلان بھی کیا جاتا ہے۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ پاکستان افغانستان میں امن کی ضمانت نہیں دے سکتا۔ یہ ضمانت تو افغان عوام کو دینا ہوگی۔ ایسے میں پوری دنیا پاکستان سے یہی پوچھے گی کہ طالبان کو افغان عوام پر مسلط کرنے والے کیوں کر اس معاملہ میں لاتعلقی کا اعلان کرسکتے ہیں؟ اس کا جواب دینے کی بجائے منصوبہ سازوں نے خاموشی اختیار کی ہوئی ہے اور ایک پیج کی کرامات سے مستفید ہونے والی حکومت اپنے لیڈر کی بصیرت کا ڈھنڈورا کرتے ہوئے ایسے بے سرو پا بیان دینے پر کمربستہ ہے جن سے امریکہ ہی نہیں چین بھی مطمئن نہیں ہوتا۔ یہ الگ بات ہے کہ چین اپنی ناپسندیدگی کا اظہار امریکیوں سے مختلف انداز میں کرتا ہے۔

افغانستان میں اٹھنے والا طوفان روز بروز بھیانک صورت اختیار کررہا ہے۔ عمران خان اور ان کے ساتھی یہ سوچے سمجھے بغیر پرجوش تقریریں کرتے ہیں کہ کل کو جب اہل پاکستان اس تباہ کاری کی زد پر ہوں گے تو اس بربادی اور ناکام حکمت عملی کا سار ملبہ تحریک انصاف اور عمران خان ہی کو اٹھانا پڑے گا۔ فوج اب بھی خاموش ہے ، تب بھی خاموش رہے گی۔

بشکریہ کاروان
واپس کریں