ٹرمپ کی کامیابی ، جمہوریت کی ناکامی ہوگی
سید مجاہد علی
امریکہ کے صدارتی انتخاب پر پوری دنیا کی نگاہیں ہیں۔ مالیاتی منڈیاں بے یقینی کا شکار ہیں اور دنیا بھر کے دارالحکومتوں میں اس بات کا جائزہ لیا جارہا ہے کہ امریکہ میں کون سا صدر مستقبل میں ان کے لئے مفید و سود مند ہوسکتا ہے۔ تاہم اس کا فیصلہ منگل کے روز امریکی عوام کو کرنا ہے۔ اس بار یہ اندیشہ بھی ہے کہ کثیر تعداد میں بذریعہ ڈاک ووٹ دینے کی وجہ سے شاید حتمی نتیجہ کے اعلان میں معمول سے زیادہ وقت صرف ہوگا۔

اس سال کے شروع میں ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے 77 سالہ سابق صدر جو بائیڈن کو امید وار نامزد کیا گیا تھا۔ اس وقت انہیں صدر ٹرمپ کے مقابلے میں کمزور امید وار سمجھا جارہا تھا۔ وہ سینیٹر اور نائب صدر کے طور پر طویل عرصہ واشنگٹن میں گزار چکے ہیں۔ اسی لئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ انہیں پچاس سال کی ناکامیوں کی علامت کہہ کر بلاتے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ’ اس شخص نے نصف صدی میں کچھ اچھا نہیں کیا۔ اب بھی ان سے کوئی امید نہیں کی جاسکتی‘۔ امریکہ اور دنیا بھر کے لبرل اور بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے طبقات بھی جو بائیڈن کو ٹرمپ کے مقابلے میں کمزور امید وار سمجھتے ہوئے یہ قیاس کررہے تھے کہ ٹرمپ یہ مقابلہ بھاری اکثریت سے جیت جائیں گے۔ خیال تھا کہ اگر ڈیمو کریٹک پارٹی سحر انگیز شخصیت کے حامل برنی سینڈرز کو ٹکٹ دیتی تو وہ ٹرمپ کے مقابلے میں پارٹی کے زیادہ طاقت ور امید وار ثابت ہوتے۔

جو بائیڈن بھی سابقہ صدارتی مقابلے میں ڈیموکریٹک پارٹی کی امید وار ہیلری کلنٹن کی طرح اقتدار کی سیاست سے طویل عرصہ تک وابستہ رہے ہیں۔ اس لحاظ سے بھی ایسے ووٹر انہیں پسند نہیں کرتے جو واشنگٹن میں حقیقی تبدیلی کے خواہش مند ہیں۔ عام طور سے امریکیوں کو سیاسی معاملات سے زیادہ دلچسپی نہیں ہوتی لیکن یہ رائے بہر حال مستحکم ہورہی ہے کہ دونوں پارٹیاں کوئی بڑی تبدیلی لانے اور عوام کی خواہشات کو سرکاری حکمت عملی کا حصہ بنانے میں کامیاب نہیں ہوئیں۔ برنی سینڈرز اپنے انداز تخاطب اور نئے پن کی وجہ سے نوجوان ووٹروں میں مقبول رہے ہیں۔ وہ بائیں بازو کی طرف جھکاؤ رکھتے ہیں لیکن ان کی مقبولیت کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ وہ ڈیمو کریٹک پارٹی یا حکومت میں کسی بڑے عہدے پر فائز نہیں رہے۔ اسی لئے یہ قیاس کیا جاتا تھا کہ اگر وہ امید وار ہوتے تو سیاست سے بیگانہ رہنے والے ووٹر متحرک ہوتے۔ اس طرح ڈونلڈ ٹرمپ کا سحر توڑ ا جاسکتا تھا۔ اس کے علاوہ یہ بھی سمجھا جاتا تھا کہ جو بائیڈن صدارتی مباحث میں منہ زور اور تندو تیز لہجے میں بات کرنے کے عادی ٹرمپ کا مقابلہ کرنے میں کامیاب نہیں ہوں گے۔

صدارتی مباحث میں جو بائیڈن کی کمزور کارکردگی کے بارے میں قیاس آرائیاں یوں دم توڑ گئیں کہ 30 ستمبر کو ہونے والی پہلی صدارتی بحث میں صدر ڈونلڈٹرمپ نے خود اپنا دشمن ہونے کا ثبوت دیا۔ مباحثے کے دوران انہوں نے نہ تو جو بائیڈن کو بات کرنے دی اور نہ ہی مباحثہ کے موڈریٹر کی بات پر کان دھرنے کی ضرورت محسوس کی۔ جو بائیڈن خلاف توقع بہتر تیاری کے ساتھ اس بحث میں شریک ہوئے تھے۔ اس طرح یہ اندازہ بھی غلط ثابت ہؤا کہ وہ لکنت کا شکار ہوجائیں گے یا عین وقت پر انہیں اہم اعداد و شمار یاد نہیں رہیں گے۔ تاہم پہلے صدارتی مباحثے کو جو بائیڈن کی اچھی کارکردگی یا ٹرمپ کی ناقص پیش کش کے طور پر یاد نہیں رکھا جائے گا بلکہ اسے امریکی صدارتی مباحث میں ایک دوسرے کی بات کاٹنے اور کیچڑ اچھالنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جائے گا۔ جو بائیڈن کو پہلی بحث میں اس لحاظ سے فاتح کہا جاسکتا ہے کہ انہوں نے ٹرمپ کے مقابلے میں کم جارحانہ رویہ اختیار کیااور کسی حد تک اپنی ترجیحات کو پیش کرنے میں کامیاب رہے۔ جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ کی ساری توجہ جو بائیڈن اور ڈیموکریٹک پارٹی کو نیچا دکھانےا ور الزام لگانے پر مبذول رہی۔ ٹرمپ کے کورونا وائرس کا شکار ہونے کی وجہ سے 15 اکتوبر کا مباحثہ نہیں ہؤا اور سمجھا جارہا ہے کہ 22 اکتوبر کی بحث کا ووٹروں کے فیصلے پر زیادہ اثر نہیں پڑا ہوگا۔

پہلی صدارتی بحث کے دوران صدر ٹرمپ دائیں بازو کے نسل پرست گروہوں کی براہ راست مذمت کرنے اور ان سے فاصلہ قائم کرنے میں بھی کامیاب نہیں ہوئے۔ وہائٹ ہاؤس اور صدر ٹرمپ نے بعد کے دنوں میں اس معاملہ پر اپنی پوزیشن واضح کرنے کی کوشش کی لیکن تیر کمان سے نکل چکا تھا۔ نسلی لحاظ سے تقسیم امریکی معاشرے میں سفید فام نسل پرست گروہوں کے حامی و سرپرست کے طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کی شناخت مستحکم ہوئی۔ یہ تاثر امریکہ میں اس سال مئی سے چلنے والی ’بلیک لائف میٹر‘ تحریک کی وجہ سے بھی منفی سیاسی حیثیت رکھتا ہے۔ ٹرمپ کی انتخابی مہم کو اس تحریک نے ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔

جس وقت امریکہ کورونا وائرس پھیلنے سے بے یقینی کا شکار تھا اور ٹرمپ حکومت وائرس کے خلاف ٹھوس اقدامات کرنے میں ناکام ہورہی تھی ، اسی دوران میناسوٹا ریاست کے شہر مینا پولس میں ایک 47 سالہ سیاہ فام شخص جارج فلائیڈ پولیس تشدد کا شکار ہوکر ہلاک ہوگیا۔ اس شخص کو گرفتار کرتے ہوئے ایک پولیس افسر نے پونے نو منٹ کے قریب اس کی گردن کو اپنے گھٹنے سے دبائے رکھا اور فلائیڈ کے بار بار کہنے پر کہ ’ میرا دم گھٹ رہا ہے‘ پولیس نے پرواہ نہیں کی۔ بالآخر اسی حالت میں اس کا انتقال ہوگیا۔ اس کے بعد پورے امریکہ میں نسلی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہؤا۔ صدر ٹرمپ مظاہرین کے ساتھ اظہار یک جہتی میں کامیاب نہیں ہوسکے ۔ اس تحریک کے نتیجہ میں امریکہ کے سیاہ فام اور تارکین وطن ووٹروں میں ٹرمپ کی مقبولیت میں شدید کمی آئی۔ اس بات کا قوی امکان ہے کہ اگر یہ اقلیتیں بڑی تعداد میں صداارتی انتخاب میں ووٹ ڈالتی ہیں تو جو بائیڈن کو اس کا زیادہ فائدہ ہوگا۔

صدر ٹرمپ اگر دوسری بار منتخب ہونے میں کامیاب نہیں ہوتے تو اس میں امریکہ میں کورونا وائرس کی تباہ کاری اور ٹرمپ کا مسلسل اس وائرس کی سنگینی کو مسترد کرنے کا رویہ سب سے اہم کردار ادا کرے گا۔ جو بائیڈن جیسے معمر اور کمزور ڈیموکریٹک امید وار کے بظاہر کامیابی کے آثار نہیں تھے۔ البتہ ٹرمپ کی کورونا پالیسی کی وجہ سے تمام انتخابی جائزوں میں وہ اپنے مد مقابل پر سبقت لئے ہوئے ہیں ۔ جو بائیڈن اور ڈیموکریٹک پارٹی نے صدارتی مہم کے دوران کورونا سے بچاؤ کے طریقوں پر عمل کیا اور ان کا پرچار بھی کیا۔ اس کے برعکس ڈونلڈ ٹرمپ کورونا وائرس کو جلد ختم ہوجانے والا وائرس قرار دیتے ہوئے احتیاط برتنے پر جو بائیڈن کا مذاق اڑاتے رہے ہیں۔ حالانکہ گزشتہ ماہ کے شروع میں ٹرمپ اور ان کی اہلیہ وائرس کاشکار ہوئیں اور صدر کو علاج کے لئے دو روز تک ہسپتال میں بھی رہنا پڑا لیکن انہوں نے اس وائرس کو سنجیدہ خطرہ سمجھنے سے انکار کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ حکمت عملی عوام کو حوصلہ دینے اور معیشت کو متحرک رکھنے کے لئے ضروری ہے۔

امریکہ میں کورونا وائرس کی وجہ سے 90 لاکھ سے زیادہ لوگ متاثر ہوئے ہیں جبکہ دو لاکھ 32 ہزار افراد اس وائرس سے ہلاک ہوچکے ہیں۔ طبی ماہرین انسانی صحت پر اس وائرس کے اثرات سے خوفزدہ ہیں اور لاک ڈاؤن کے علاوہ سماجی دوری اختیار کرنے اور ماسک پہننے کی تلقین کرتے ہیں۔ صدر ٹرمپ ماسک کے سخت مخالف ہیں اور ماہرین کے مشوروں کو مسترد کرتے ہیں۔ ٹرمپ کو اپنے اس طریقہ کی وجہ سے اپنے حامیوں میں داد و تحسین ملی ہے لیکن عام قیاس ہے کہ اگر وہ 3 نومبر کو ہونے والے انتخاب میں کامیاب نہ ہوسکے تو کورونا وائرس کے بارے میں ان کا طرز عمل ، اس کی بنیادی وجہ ہوگی۔ ماہرین بے احتیاطی اور لاپرواہی کی وجہ سے امریکہ میں کورونا سے ہلاکتوں کی تعداد میں سنگین اضافہ کی پیش گوئی کررہے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوری 2017 میں صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سے ہی جارحانہ اور غیر روائیتی طرز عمل اختیار کیا تھا جس کی وجہ سے ملک کے اندر اور باہر ان کے دوستوں اور دشمنوں میں یکساں رفتار سے اضافہ ہؤا ۔ تاہم انتخابی مہم کے دوران ان کا لب و لہجہ تند و تیز اور جارحانہ رہا ہے۔ وہ امریکی تاریخ کے پہلے صدر ہیں جو انتخاب ہارنے پر اپنی شکست قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر وہ ہارے تو اس کی واحد وجہ دھاندلی ہوگی۔ انہوں نے کورونا وائرس کی وجہ سے انسانی صحت کو لاحق خطرات کے باوجود ڈاک کے ذریعے ووٹ دینے کی شدید مخالفت کی ہے اور اسے ڈیموکریٹک پارٹی کے لئے دھاندلی کا طریقہ کہتے رہے ہیں۔ انہوں نے امریکہ میں گروہی و نسلی تقسیم کی حوصلہ افزائی کی ہے اور سفید فام گروہوں کو انتخاب کے روز چوکنا رہنے کا مشورہ دیا ہے۔ اسی لئے پورے امریکہ میں اس انتخاب کے موقع پر تصادم اور فساد کا خطرہ محسوس کیا جارہا ہے۔

ٹرمپ کی سیاست سے فاشسٹ نظریات مستحکم ہوئے ہیں۔ وہ معاشی فائدے کے لئے کسی بھی اخلاقی اصول کو مسترد کرتے ہیں۔ انہوں نے دنیا بھر میں غیر جمہوری لیڈروں کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ یورپی ممالک اگرچہ امریکہ کے روائیتی حلیف ہیں لیکن وہاں ٹرمپ کے خلاف شدید رائے پائی جاتی ہے۔ رائے عامہ کے جائزوں میں جو بائیڈن کی مسلسل سبقت کے باوجود کوئی مبصر دو ٹوک الفاظ میں ٹرمپ کی شکست کا دعویٰ کرنے پر آمادہ نہیں ۔ کیوں کہ ہار جیت کا اصل فیصلہ ان چند ریاستوں میں ہوگا جنہیں ’سونگ اسٹیٹس‘ کہا جاتا ہے۔ جو بائیڈن کے صدر بننے سے امریکہ کی خارجہ اور عسکری حکمت عملی میں کسی ڈرامائی تبدیلی کا امکان نہیں ہے تاہم ان کی فتح دنیا بھر میں انتہا پسندانہ سیاسی مزاج کی حوصلہ شکنی کا باعث ہوگی۔ ان کے برعکس اگر ڈونلڈ ٹرمپ دوبارہ امریکہ کے صدر بن گئے تو وہ امریکی نظام کے لئے تو وبال بنیں گے ہی لیکن دنیا بھر میں غیر جمہوری حکومتوں کی حوصلہ افزائی اور مقبولیت پسند لیڈروں کی دلجوئی کا سبب بھی ہوں گے۔ اس لحاظ سے ٹرمپ کی کامیابی کو جمہوریت کی ناکامی سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔
(بشکریہ کاروان)

واپس کریں